جہدِ مسلسل۔ ایک بااصول انسان کی داستانِ حیات، کرداراورعزم۔۔۔ذوالفقار احمد چیمہ کی خودنوشت پر ایک ادبی و فکری تبصرہ
منشاقاضی
کچھ کتابیں پڑھی نہیں جاتیں، جھیلی جاتی ہیں؛ محسوس کی جاتی ہیں؛ اور پھر انسان کو اپنے ہی اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ کی خودنوشت ”جہدِ مسلسل“ بھی ایسی ہی کتاب ہے۔ یہ محض ایک اعلیٰ پولیس افسر، سول سرونٹ یا منتظم کی سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے باطن، کردار، جدوجہد، اصول پسندی اور قومی شعور کی داستان ہے جس نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں عہدوں سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دی۔ذوالفقار احمد چیمہ کا شمار پاکستان کے ان معروف سول سرونٹس میں ہوتا ہے جنہوں نے پولیس، انتظامیہ، ادارہ جاتی اصلاحات اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت جیسے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل رہے اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کے نیوٹیک سے وابستہ ہونے کی تصدیق ا±س دور کی متعدد رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن ”جہدِ مسلسل“ کی اصل اہمیت ان عہدوں کی فہرست میں نہیں؛ اصل اہمیت اس سوال میں ہے کہ ایک انسان ان عہدوں پر رہتے ہوئے اپنے اصولوں کو کس حد تک زندہ رکھ سکتا ہے؟ اور یہی سوال اس کتاب کو ایک عام سرکاری افسر کی یادداشتوں سے اٹھا کر کردار کی کتاب بنا دیتا ہے۔ذوالفقار احمد چیمہ کا قلم اس کتاب کے ساتھ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا۔ ان کی فکری اور قلمی شناخت پہلے ہی متعدد کتابوں سے قائم ہو چکی ہے۔ ان کی تصانیف میں ”دو ٹوک“، ”افکارِ تازہ“، ”پسِ پردہ“، ”دو ٹوک باتیں“، ”سمجھتا ہوں جسے حق“ اور انگریزی کتاب Straight Talk شامل ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو ”جہدِ مسلسل“ ان کی چھ سابقہ کتابوں کا تسلسل بھی ہے اور ان سب کا انسانی نقطہ عروج بھی۔ پہلی کتابوں میں جہاں ایک باشعور شہری، کالم نگار، دانشور اور سابق اعلیٰ افسر اپنے عہد کے مسائل سے مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے، وہاں ”جہدِ مسلسل“ میں وہ خود اپنی زندگی کو موضوع بنا لیتا ہے۔ یہاں ”وہ“ اور ”موضوع“ الگ الگ نہیں رہتے۔ مصنف خود کتاب بن جاتا ہے۔خودنوشت لکھنا آسان کام نہیں۔ انسان جب دوسروں پر لکھتا ہے تو اسے الفاظ کا سہارا حاصل ہوتا ہے، لیکن جب اپنے بارے میں لکھتا ہے تو اسے یادداشت، سچائی اور خود احتسابی تینوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ”جہدِ مسلسل“ کا سب سے قابلِ ذکر وصف یہی ہے کہ اس میں زندگی کو صرف کامیابیوں کے آئینے میں نہیں دکھایا گیا بلکہ اس سفر کے نشیب و فراز، آزمائشیں، فیصلے، تجربات اور انسانی جذبات بھی شامل ہیں۔کتاب کے فہرستِ مضامین پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے زندگی کو صرف سرکاری فائلوں اور عہدوں کے ذریعے نہیں دیکھا۔ اس سفر کا آغاز بچپن کے گاو¿ں اور گھرانے سے ہوتا ہے، پھر تعلیم، ملازمت، مختلف اداروں، پولیس سروس اور قومی معاملات تک داستان آگے بڑھتی ہے۔فہرست میں شامل ابواب مثلاً ”آپ اپنا راستہ خود بنائیں گے“، ”بچپن: گاو¿ں اور گھرانہ“، ”ابتدائی تعلیم، اساتذہ اور گاو¿ں کی کچھ یادیں“، ”مارشل لا کا جلوہ اور نکی ہڑپہ کا سانحہ“، ”گورنمنٹ کالج لاہور“، ”ایک یادگار اور تاریخی مشن“، ”خوابِ جِی چوہدری“، ”پنجاب یونیورسٹی لائ کالج“ وغیرہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ مصنف نے اپنی زندگی کی تعمیر کے مختلف مراحل کو یادداشت کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”جہدِ مسلسل“ محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ تشکیلِ شخصیت کی کہانی محسوس ہوتی ہے۔ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک چھوٹا سا گھر، ایک سادہ سا آنگن، کچھ خاموش دعائیں اور چند ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو اس کے کردار کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ”جہدِ مسلسل“ کا ابتدائی حصہ اسی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔بچپن، گاو¿ں، گھرانہ، ابتدائی تعلیم، اساتذہ اور وہ چھوٹی چھوٹی یادیں جنہیں عام طور پر لوگ زندگی کی بڑی کامیابیوں کے شور میں بھول جاتے ہیں، چیمہ صاحب نے انہیں محفوظ کیا ہے۔یہی چیز خودنوشت کو انسانی حرارت عطا کرتی ہے۔ایک اعلیٰ افسر جب اپنے عہدے کی بلندی سے اتر کر اپنے بچپن کی گلیوں میں واپس جاتا ہے تو قاری بھی اس کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ سرکاری منصب کی شان پیچھے رہ جاتی ہے اور ایک بچہ سامنے آ جاتا ہے جو خواب دیکھتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے، مشکلات سے گزرتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔یہاں کتاب کا عنوان ”جہدِ مسلسل“ اپنی مکمل معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ کامیابی اچانک نہیں آتی۔ کامیابی دراصل مسلسل کوششوں کا دوسرا نام ہے۔فہرستِ مضامین کا پہلا ہی جملہ—”آپ اپنا راستہ خود بنائیں گے“ پوری خودنوشت کا فکری استعارہ بن جاتا ہے۔ انسان کا راستہ ہمیشہ پہلے سے بنا بنایا نہیں ہوتا۔بعض راستے خاندان بناتے ہیں، بعض معاشرہ، بعض حالات؛ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے کردار، محنت اور فیصلوں سے اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔ چیمہ صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی اسی فلسفے کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بارے میں سابقہ تحریروں اور تبصروں میں بھی دیانت داری، اصول پسندی اور صاف گوئی کو ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات قرار دیا گیا ہے۔ ”جہدِ مسلسل“ میں یہی اوصاف محض دوسروں کے بیان کردہ الفاظ نہیں رہتے بلکہ زندگی کے واقعات کے ذریعے اپنا مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ذوالفقار احمد چیمہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں حوالہ یقیناً پولیس سروس ہے۔ لیکن ان کے لیے پولیس صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ ریاست، قانون اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ تھی۔موٹروے پولیس میں ان کی قیادت کا دور اس لحاظ سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے نظم و ضبط، قانون کی یکساں عمل داری اور عوامی خدمت کے تصور کو نمایاں کیا۔ ان کے دور سے متعلق سرکاری مواد میں بھی ان کا بطور انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ذکر ملتا ہے۔ ”جہدِ مسلسل“ کے ابواب میں پولیس، انتظامیہ، قانون، تفتیش، افسران، عوام اور اداروں کے حوالے سے جو تجربات سامنے آتے ہیں، وہ دراصل پاکستان کے انتظامی نظام کی ایک اندرونی تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔ یہاں قاری کو صرف ایک افسر کی کہانی نہیں ملتی بلکہ یہ سوال بھی ملتا ہے: کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہو سکتا ہے؟ اور اگر ہو سکتا ہے تو اس کے لیے کتنی جرا ت درکار ہے؟اعلیٰ عہدہ انسان کو دو چیزیں دیتا ہے: اختیار اور آزمائش۔ اختیار یہ دیکھتا ہے کہ انسان کیا کر سکتا ہے، جبکہ آزمائش یہ دیکھتی ہے کہ انسان کیا نہیں کرتا۔چیمہ صاحب کی زندگی میں ایسے مواقع آئے جہاں اصول، مصلحت سے ٹکرائے۔ ان کی شہرت ہی اس بات سے بنی کہ وہ غلط کام کو محض اس لیے درست مان لینے کے قائل نہیں تھے کہ اسے کوئی طاقتور شخص چاہتا ہے۔ اسی لیے ان کی خودنوشت کا اصل حسن وہ واقعات ہیں جہاں عہدہ ایک طرف اور ضمیر دوسری طرف کھڑا دکھائی دیتا ہے۔یہ کتاب نوجوان افسران کے لیے اسی مقام پر ایک خاموش درس بن جاتی ہے: اختیار عارضی ہے، کردار مستقل۔کتاب کے عنوانات بتاتے ہیں کہ مصنف نے ذاتی زندگی کو ملکی تاریخ سے الگ نہیں رکھا۔”مارشل لا کا جلوہ اور نکی ہڑپہ کا سانحہ“ جیسے ابواب ایک ایسے عہد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تاریخ کے کئی اہم موڑ آئے۔اسی طرح گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لائ کالج جیسے ابواب شخصیت کی علمی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے: تعلیم، اساتذہ، کتابیں، دوست، ماحول، بچپن کی یادیں اور معاشرتی تجربات مل کر اس شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں جو بعد میں کسی ادارے کی قیادت کرتی ہے۔اچھی خودنوشت کی پہچان یہ نہیں کہ اس میں کتنے بڑے بڑے واقعات بیان ہوئے ہیں؛ اصل خوبی یہ ہے کہ ان واقعات کے اندر انسان کتنا زندہ رہتا ہے۔”جہدِ مسلسل“ کی فہرستِ مضامین سے محسوس ہوتا ہے کہ کتاب میں ذاتی یادیں، رشتے، دوست، اساتذہ، ساتھی افسران، ادارے، شہر اور مختلف عہد ایک ساتھ موجود ہیں۔یہ امتزاج کتاب کو خشک سرکاری رپورٹ بننے سے بچاتا ہے۔یہاں فائلوں کے پیچھے انسان ہے۔ وردی کے پیچھے احساس ہے۔ عہدے کے پیچھے ذمہ داری ہے۔ اور کامیابی کے پیچھے محنت کی ایک طویل داستان ہے۔ذوالفقار احمد چیمہ کی تحریر کی ایک نمایاں خوبی سادگی اور صاف گوئی ہے۔ ان کا انداز نہ غیر ضروری لفظی آرائش کا محتاج ہے، نہ مشکل اصطلاحات کا۔ وہ بات کو گھماتے نہیں بلکہ سیدھا موضوع کے مرکز میں لے جاتے ہیں۔اسی لیے ان کی کتابوں کے نام بھی ان کے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں:دو ٹوک، افکارِ تازہ، پسِ پردہ، دو ٹوک باتیں، سمجھتا ہوں جسے حق، Straight Talk۔ یہ سب عنوانات مل کر ایک ایسے قلم کی تصویر بناتے ہیں جو مصلحت کی دھند میں راستہ تلاش کرنے کے بجائے روشنی کی طرف دیکھتا ہے۔حال ہی میں ان کی تحریروں کے حوالے سے افتخار عارف نے بھی ان میں تصنع کے بجائے اخلاص اور حالات کو بہتر بنانے کے جذبے کو نمایاں قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ان کی سادگی، روانی اور شگفتگی کو قابلِ ذکر کہا۔ یہ رائے دراصل ”جہدِ مسلسل“ کے اسلوب کو سمجھنے کی ایک اچھی کلید فراہم کرتی ہے”Straight Talk“ سے ”جہدِ مسلسل“ تکاگر Straight Talk میں ذوالفقار چیمہ پاکستان سے براہِ راست مخاطب نظر آتے ہیں، تو ”جہدِ مسلسل“ میں وہ اپنی زندگی سے مخاطب ہیں۔*Straight Talk میں قانون، کرپشن، احتساب، جمہوریت، گورننس، تعلیم، پولیس اور ہنر مندی جیسے قومی مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔ جبکہ ”جہدِ مسلسل“ ان سوالات کے پیچھے کھڑے انسان کو سامنے لاتی ہے۔گویا پہلے کتابوں میں مصنف پوچھتا رہا: ”ملک کو کیا ہونا چاہیے؟“ اور اب خودنوشت میں وہ دکھاتا ہے: ”ایک انسان کو کیسا ہونا چاہیے؟“یہی اس کتاب کا سب سے اہم فکری ربط ہے۔ذوالفقار احمد چیمہ کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی سوچ صرف پولیسنگ اور قانون تک محدود نہیں رہی۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن سے وابستگی کے دوران وہ نوجوانوں کی فنی تربیت، ہنرمندی اور روزگار کے امکانات پر بھی زور دیتے رہے۔ ا±س دور کی رپورٹس میں انہوں نے فنی تربیت کے معیار کو بہتر ملازمتوں اور نوجوانوں کے مواقع سے جوڑا تھا۔ یہ پہلو ”جہدِ مسلسل“ کو محض ماضی کی داستان نہیں رہنے دیتا۔ اس میں مستقبل کا سوال بھی شامل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل صرف ڈگریوں سے نہیں بلکہ ہنر، کردار، قانون پسندی اور ذمہ داری سے بھی تعمیر ہوگا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ مصنف کی زندگی کے مختلف مرحلے بظاہر الگ الگ دکھائی دینے کے باوجود ایک ہی مرکزی دھاگے میں بندھے محسوس ہوتے ہیں: انسان کی تعمیر، ادارے کی تعمیر اور ملک کی تعمیر۔یہ کتاب خاص طور پر نوجوانوں کے لیے اہم ہے۔ آج کا نوجوان کامیابی کو اکثر منزل سمجھتا ہے، جبکہ ”جہدِ مسلسل“ اسے بتاتی ہے کہ کامیابی دراصل سفر کا نام ہے۔عہدہ مل جانا کامیابی نہیں؛ عہدے پر رہتے ہوئے اصول نہ چھوڑنا کامیابی ہے۔اختیار حاصل کرنا کامیابی نہیں؛ اختیار کو امانت سمجھنا کامیابی ہے۔مشہور ہو جانا کامیابی نہیں؛ لوگوں کے دل میں اعتماد پیدا کرنا کامیابی ہے۔اور شاید سب سے بڑھ کر:زندگی میں مشکل راستہ اختیار کرنا شکست نہیں؛ اگر راستہ درست ہو تو یہی مسلسل جدوجہد انسان کی سب سے بڑی فتح بن جاتی ہے۔”جہدِ مسلسل“ کو اگر صرف ذوالفقار احمد چیمہ کی ذاتی زندگی تک محدود کر کے پڑھا جائے تو کتاب کا بڑا حصہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ جائے گا۔یہ دراصل پاکستان کی کئی دہائیوں کا ایک انسانی آئینہ بھی ہے۔اس میں گاو¿ں بھی ہے اور شہر بھی؛ تعلیم بھی ہے اور ملازمت بھی؛ پولیس بھی ہے اور انتظامیہ بھی؛ اختیار بھی ہے اور احتساب بھی؛ دوست بھی ہیں اور مخالف بھی؛ کامیابیاں بھی ہیں اور آزمائشیں بھی۔اور ان سب کے درمیان ایک شخص مسلسل چلتا دکھائی دیتا ہے۔رکتا نہیں۔ جھکتا نہیں۔ اپنا راستہ بدلتا نہیں۔شاید اسی لیے اس کتاب کا نام کسی اور لفظ کے بجائے ”جہدِ مسلسل“ ہونا ہی تھا۔اچھی کتاب وہ نہیں جو آخری صفحے پر ختم ہو جائے۔اچھی کتاب وہ ہے جو آخری صفحے کے بعد قاری کے اندر شروع ہو۔”جہدِ مسلسل“ بھی یہی کرتی ہے۔یہ قاری سے پوچھتی ہے:کیا ہم اپنے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کیا ہم اپنے اختیار کو امانت سمجھتے ہیں؟ کیا ہم مشکل وقت میں درست فیصلہ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف کامیابی سکھا رہے ہیں یا کردار بھی؟ کیا ہمارے ادارے شخصیات کے محتاج ہیں یا اصولوں کے؟اور سب سے بڑا سوال:ہم اپنی زندگی میں کیا ایسا چھوڑ کر جائیں گے جو ہمارے بعد بھی زندہ رہے؟ذوالفقار احمد چیمہ کی ”جہدِ مسلسل“ ایک ایسے شخص کی داستانِ حیات ہے جس نے زندگی کو محض گزرتے ہوئے وقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر دیکھا۔یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا عہدہ نہیں، اس کا کردار ہے؛ اس کی اصل دولت اس کا اختیار نہیں، اس کا ضمیر ہے؛ اور اس کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اس سے کتنے خوف زدہ تھے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ اس پر اعتماد کرتے تھے۔ان کی سابقہ کتابیں”دو ٹوک“، ”افکارِ تازہ“، ”پسِ پردہ“، ”دو ٹوک باتیں“، ”سمجھتا ہوں جسے حق“ اور ”Straight Talk“ ایک ایسے قلم کی مختلف آوازیں ہیں جو اپنے عہد کے مسائل پر خاموش رہنے پر آمادہ نہیں۔ مگر ”جہدِ مسلسل“ اس قلم کی سب سے ذاتی آواز ہے۔ یہاں مصنف دوسروں کو آئینہ دکھانے سے پہلے اپنی زندگی کا آئینہ قاری کے سامنے رکھ دیتا ہے۔اور یہی اس خودنوشت کی سب سے بڑی ادبی اور اخلاقی خوبی ہے۔”جہدِ مسلسل“ دراصل ایک فرد کی سوانح نہیں؛ یہ اس یقین کی داستان ہے کہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، انسان اگر اپنے اصول، اپنی محنت اور اپنے مقصد سے وفادار رہے تو وہ واقعی اپنا راستہ خود بنا سکتا ہے۔ اور شاید یہی کتاب کا سب سے روشن پیغام ہے: منزل سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سفر کے دوران انسان اپنے آپ کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ ”جہدِ مسلسل“ اسی محفوظ رکھے ہوئے کردار کی داستان ہے۔






