#کالم

کینسر کے حوالے سے آگاہی کی کمی، اسکریننگ کی محدود سہولتیں اور ثقافتی رکاوٹیں چیلنجز ہیں

عالیہ خان

عالیہ خان
alyiakhan875@gmail.com

خواتین میں پائے جانے والے کینسر میں تیسرا بڑا کینسر
کیا سرویکل کینسر کی ویکسین بچیوں کوبانجھ بنا دے گی؟
ڈاکٹر ثمزہ خرم ،ڈائریکٹر ہیلتھ سروسزEPIپنجاب سے خصوصی انٹرویو

ڈیک
ویکسین نہ لگوانے والی بچیوں کو بعد میں سرویکل کینسر کا زیادہ خطرہ رہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر ویکل کینسر کی ویکسین مغربی ایجنڈانہیں ، ہماری بچیوں کی صحت اور جان کے تحفظ کیلئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹرز، نرسز اور افسران بھی اپنی بچیوں کو بھی یہی ویکسین لگوارہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کینسر کے حوالے سے آگاہی کی کمی، اسکریننگ کی محدود سہولتیں اور ثقافتی رکاوٹیں چیلنجز ہیں
سرویکل کینسر دنیا بھر میں خواتین میں چوتھا سب سے عام کینسر ہے۔ 2022 میں تقریباً 660,000 خواتین اس بیماری کا شکار ہوئیں، جن میں سے 350,000 خواتین اس بیماری کے باعث انتقال کر گئیں۔ یہ بیماری خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں زیادہ پائی جاتی ہے، جہاں ویکسینیشن، اسکریننگ اور علاج کی سہولتیں محدود ہیں۔پاکستان میں سرویکل کینسر خواتین میں تیسری سب سے عام کینسر ہے۔ ہر سال تقریباً 5,000 خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں اور تقریباً 3,200 خواتین اس کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔ پاکستان میں سرویکل کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ہے، جو جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔HPV ویکسین پہلی بار 2006 میں امریکہ میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس وقت امریکہ میں سرویکل کینسر کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اور ویکسین کی فراہمی کے بعد، ایک اندازے کے مطابق موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بیماری کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کامیاب تجربے کی بنیاد پر دنیا کے دیگر ممالک نے بھی ویکسینیشن مہمات شروع کیں۔پاکستان میں HPV ویکسینیشن کی مہم حالیہ برس میں شروع کی گئی ہے، اور 2025 میں پنجاب میں 9 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں کو ویکسین لگانے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد بچیوں کو سرویکل کینسر سے محفوظ رکھنا اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ ویکسین اسکولوں اور دیگر مراکز پر فراہم کی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچیوں تک رسائی ممکن ہو۔تاہم، ویکسینیشن کے حوالے سے عوام میں کئی غلط فہمیاں اور تاثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض والدین سمجھتے ہیں کہ ویکسین لگوانے سے لڑکیوں کی جنسی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے یا یہ کہ ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان غلط فہمیوں کی وجہ سے کچھ والدین ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور ویکسینیشن سے گریز کرتے ہیں۔پاکستان میں سرویکل کینسر کے حوالے سے آگاہی کی کمی، اسکریننگ کی محدود سہولتیں اور ثقافتی رکاوٹیں چیلنجز ہیں۔ اگرچہ سرویکل کینسر ایک قابل علاج بیماری ہے، لیکن اس کے لیے عوامی سطح پر آگاہی، ویکسینیشن اور اسکریننگ کی سہولتیں انتہائی ضروری ہیں۔ حکومت، صحت کے ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں اس بیماری کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں، مگر عوامی تعاون اور شعور کی ضرورت برقرار ہے۔لوگوں میں پائی جانے والی تشویش اور ان کی جانب سے پو چھے جانے والے سوالات پر ہم نے ڈاکٹر ثمزہ خرم ،ڈائریکٹر ہیلتھ سروسزEPIپنجاب سے خصوصی نشست کی جس کا احوال قارئین کی نذر ہے ۔
س: کیا یہ ویکسین لگوانا ہماری بیٹی کے مستقبل کے لیے محفوظ ہے؟ کہیں اس کی شادی یا اولاد پر اثر تو نہیں پڑے گا؟
ج:جی بالکل، یہ ویکسین محفوظ ہے اور دنیا کے 146 سے زائد ممالک میں کروڑوں بچیوں کو لگائی جا چکی ہے۔ اس کے کوئی ایسے اثرات ثابت نہیں ہوئے جو شادی یا اولاد پر اثر ڈالیں۔ یہ صرف ایک حفاظتی ویکسین ہے جو بچیوں کو خطرناک کینسر سے بچاتی ہے۔
س: یہ ویکسین ہماری بچیوں کو اتنی چھوٹی عمر میں کیوں لگائی جاتی ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان پر عدم اعتماد کر رہے ہیں؟
ج:ہرگز نہیں!! یہ ویکسین بچیوں میں سب سے زیادہ مؤثر اُس وقت ہوتی ہے جب وہ وائرس لگنے سے پہلے لگوائی جائے جس کا سامناعام طور پر انہیں بعد میں اپنی زندگی میں کرنا پڑ سکتا ہے- اس عمر میں لڑکیوں کے جسم کی قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے اور اس کی ایک خوراک ہی کافی ہوتی ہے ۔ یہ ایک احتیاطی اقدام ہے، عدم اعتماد نہیں، یہ ان کی صحت اور مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔
س: بعض والدین سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین دینے سے لڑکیوں کے رویے یا سوچ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ کیا اس میں کوئی حقیقت ہے؟
ج:ایسا بالکل نہیں ہے!!ویکسین صرف سرویکل کینسر جیسی موذی بیماری سے بچاؤ کے لیے ہے یہ سوچ، کردار یا رویے پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔ یہ ویکسین بالکل ویسی ہی ہے جیسے خسرہ، پولیو یا ٹیٹنس کی ویکسین ہے۔
س: ہم سنتے ہیں کہ یہ ویکسین مغربی ممالک کی دی گئی ہے اور ہمارے معاشرے کے لیے ضروری نہیں۔ آپ اس اعتراض کو کیسے دیکھتے ہیں؟
ج:سرویکل کینسر ایک عالمی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بھی یہ خواتین میں تیسرا سب سے زیادہ عام کینسر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھی اس کا انسداد ضروری ہے۔ یہ کسی مغربی ایجنڈے کے لیے نہیں بلکہ ہماری بچیوں کی صحت اور جان کے تحفظ کے لیے ہے۔
س: اگر ہماری بچی کو کوئی ردِعمل (reaction) ہو گیا تو کیا سرکاری اسپتال یا ادارے اس کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں؟
ج:جی ہاں، حکومت اور صحت کے ادارے ویکسین لگانے کے پورے عمل کی مکمل نگرانی کرتے ہیں۔ عام ردِعمل معمولی ہوتے ہیں، جیسے ہلکا بخار یا بازو میں درد یا سوجن، جو ایک دو دن میں خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی کو زیادہ مسئلہ ہو تو سرکاری اسپتال مکمل علاج اور سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے صحت ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کریں-
س: کیا یہ ویکسین صرف لڑکیوں کے لیے ہے؟ اگر نہیں، تو لڑکوں کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟
ج:اصل بیماری (سرویکل کینسر) صرف خواتین میں ہوتا ہے، اسی لیے زیادہ زور بچیوں پر ہے۔ لیکن کئی ممالک میں لڑکوں کو بھی یہ ویکسین دی جاتی ہے تاکہ وائرس کا پھیلاؤ کم ہو۔ فی الحال پاکستان میں ترجیح بچیوں کو

کینسر کے حوالے سے آگاہی کی کمی، اسکریننگ کی محدود سہولتیں اور ثقافتی رکاوٹیں چیلنجز ہیں

27/09/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے