#صفحۂ اول

جمود کے محل میں پہلی دراڑ

zahid iqbal malik

زاہد ملک

سیاست کی دنیا میں جمہوریت اور آمریت کی کشمکش ہمیشہ سے جاری ہے۔ نظام بدلتے رہے حکومتیں آتی جاتی رہیں اور سیاسی جماعتوں کے نعرے بھی تبدیل ہوتے رہے مگر ایک حقیقت تقریباً ہمیشہ یکساں رہی کہ اقتدار کے اہم منصبوں پر چند مخصوص خاندانوں اور مانوس چہروں کی گرفت مضبوط رہی۔ نسلیں بدل گئیں مگر سیاست کے بڑے نام اکثر وہیں کے وہیں رہے۔ عوام تبدیلی کے خواب دیکھتے رہے لیکن اقتدار کی بساط پر اکثر پرانے مہرے ہی نئی چالوں کے ساتھ سامنے آتے رہے۔ تاہم آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتِ حال نے اس روایت میں ایک غیر معمولی موڑ پیدا کر دیا ہے۔ قوم نے شاید پہلی مرتبہ اس سیاسی طلسم کو ٹوٹتے دیکھا ہے جس میں وزارتِ عظمیٰ اور دیگر کلیدی مناصب کے لیے بھی چند مخصوص اور تجربہ کار نام ہی گردش کرتے رہے ایک ہی ڈگر پر مسلسل چلتے سیاست کے پہیے نے رفتہ رفتہ سیاسی جمود کی کیفیت پیدا کر دی تھی ایسے میں کسی نئے اور غیر روایتی انتخاب کا سامنے آنا محض ایک فرد کی نامزدگی نہیں بلکہ سیاسی جمود کے ٹوٹنے کی علامت ہے جس نے بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو بھی حیران کر دیا۔ آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اس نوعیت کی ایک نمایاں مثال 1991ئ میں بھی ملتی ہے جب سردار عبدالقیوم خان نے صدارت سے استعفیٰ دے کر علمائ و مشائخ کی مخصوص نشست پر اسمبلی میں جگہ بنائی اور اسی روز وزیراعظم منتخب ہوگئے۔تاہم اس بار عوامی اضطراب اس لیے زیادہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ پیش کرتے رہے۔ ایسے میں عام انتخابات میں براہِ راست عوامی ووٹ سے کامیاب نہ ہونے والے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر ایوان میں لاکر وزارتِ عظمیٰ سونپنا بعض حلقوں کو اسی ووٹ کی بے توقیری محسوس ہوا جس کے باعث عوامی اور سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوئی تو عمومی تاثر یہی تھا کہ وزارتِ عظمیٰ پارٹی صدر شاہ غلام قادر یا کسی سینئر اور آزمودہ سیاست دان کے حصے میں آئے گی۔ مگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے روایتی انداز سے ہٹ کر نسبتاً نوجوان اور نئے چہرے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر کامیاب ہونے والے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا۔ اس فیصلے نے جہاں سیاست میں نئے امکانات پیدا کیے وہیں مسلم لیگ (ن) کی مقامی اور سینئر قیادت میں ناراضی بھی پیدا ہوئی۔اس غیر روایتی فیصلے کے پس منظر میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا کردار بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔تاہم اس بار عوامی اضطراب کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف برسوں سے ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ پیش کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں براہِ راست عوامی ووٹ سے کامیاب نہ ہونے والے کسی شخص کو مخصوص نشست کے ذریعے ایوان میں لاکر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچانا بعض حلقوں کے لیے ایک سیاسی تضاد بن کر سامنے آیا جس نے اس فیصلے کے جمہوری جواز پر سوالات اٹھا دیے۔ دوسری طرف حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں برتری ملنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وزارتِ عظمیٰ پارٹی صدر شاہ غلام قادر یا کسی سینئر رہنما کو سونپی جائے گی مگر قیادت نے اس بار روایت سے ہٹ کر نسبتاً نئے چہرے کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک طرف نئی قیادت کے امکانات نے جنم لیا تو دوسری طرف جماعت کے اندر موجود تجربہ کار رہنماو¿ں کے تحفظات بھی نمایاں ہوگئے۔ اس فیصلے کے پس منظر میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی سیاسی سوچ اور مستقبل کی حکمتِ عملی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میاں نواز شریف کی سیاسی سوچ ہمیشہ جماعت کے وسیع تر مفاد اور مستقبل کی سیاسی سمت کے گرد گھومتی رہی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف عملی سیاست حکومتی نظم و نسق اور سیاسی معاملات میں مفاہمت کے حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ مریم نواز بھی نئی نسل کی قیادت کو آگے لانے اور سیاسی میدان میں نئے چہروں کے لیے جگہ پیدا کرنے کے تصور کی نمایاں داعی ہیں۔ ایسے میں آزاد کشمیر کے لیے نسبتاً نئے اور نوجوان چہرے کا انتخاب محض ایک فرد کا فیصلہ نہیں بلکہ مرکزی قیادت کی اس سوچ کی عکاسی بھی قرار دیا جا سکتا ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی تقاضوں کے ساتھ جماعت کو نئی قیادت کے لیے راستے کھولنے ہوں گے۔ تاہم قیادت کا اصل کمال صرف نئے لوگوں کو آگے لانے میں نہیں بلکہ اپنے تجربہ کار ساتھیوں کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے میں بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مرکزی قیادت کے لیے یہ فیصلہ ایک سیاسی امتحان بھی ہے کہ وہ نئی قیادت کے انتخاب اور پرانے ساتھیوں کے تحفظات کے درمیان کس قدر دانش مندی سے توازن قائم کرتی ہے۔شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر اور دیگر سینئر رہنماو¿ں کے تحفظات اس بات کی یاددہانی ہیں کہ جمہوری سیاست صرف نئے چہروں کو آگے لانے کا نام نہیں بلکہ مشاورت اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی بھی اس کی بنیادی روح ہیں۔ کسی بھی جماعت میں تجربہ کار رہنماو¿ں کی سیاسی حیثیت اور عوامی اثرورسوخ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اختلافِ رائے کو محض اقتدار کی خواہش قرار دے کر نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں صرف مرکزی فیصلوں سے نہیں بلکہ کارکنوں کے جذبات اور مقامی قیادت کے اعتماد سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔دوسری طرف نئی قیادت کو آگے لانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوان اہل اور تعلیم یافتہ افراد کو ہمیشہ جلسوں اور انتخابی مہمات تک محدود رکھا جائے تو نئی سیاسی قیادت کب پیدا ہوگی؟ تجربہ یقیناً بڑی دولت ہے مگر صرف تجربے کے نام پر نئی صلاحیتوں کے راستے بند کر دینا بھی سیاسی جمود کو جنم دیتا ہے۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی کو اسی تناظر میں ایک نئے سیاسی تجربے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے لیکن اب اصل امتحان ان کی کارکردگی کا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو صرف نئے چہرے نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی،روزگار،تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں میں عملی بہتری چاہیے۔ نئے وزیراعظم کو اپنی تقریروں سے نہیں بلکہ فیصلوں اور کارکردگی سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی آمد محض چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک نئے انداز کی علامت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے۔ حکومت بنانا نسبتاً آسان مگر جماعت اور حکومت کے درمیان اعتماد کا مضبوط پل قائم رکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں سیاسی استحکام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر اور دیگر سینئر رہنماو¿ں کو ساتھ لے کر چلنا صرف سیاسی ضرورت نہیں بلکہ جماعت کے مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ریاست گزشتہ چند ماہ سے احتجاجی اور عوامی تحریکوں کے باعث پہلے ہی سیاسی و انتظامی طور پر متاثر رہی ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کو بڑے پن صبر و تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ حالات مزید پیچیدگی کی طرف نہ بڑھیں اور ریاست میں سیاسی استحکام قائم رہ سکے۔اقتدار کی مسند کسی ایک فرد یا خاندان کی دائمی میراث نہیں ہوتی اور تبدیلی کے ہر مرحلے کو ظرف اور وقار کے ساتھ قبول کرنا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ عدیم ہاشمی نے اسی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے
گِرو تو ساتھ گرے شانِ شہسواری بھی
زوال آئے تو پورے کمال میں آئے
آج آزاد کشمیر کی سیاست ایک دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف سیاسی جمود توڑنے اور نئی قیادت کو آگے لانے کا عمل شروع ہوا ہے تو دوسری طرف سینئر قیادت کی ناراضی ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آئی ہے۔ اصل دانش مندی پرانے اور نئے ساتھیوں کے درمیان ایسا توازن قائم کرنے میں ہے جس سے تجربہ بھی محفوظ رہے اور نئی صلاحیتوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملے۔سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ مضبوط جماعتیں تبدیلی سے خوفزدہ نہیں ہوتیں مگر تبدیلی کو مشاورت اور سیاسی حکمت کے ساتھ نافذ کرتی ہیں۔ اگر نئی قیادت بہتر کارکردگی دکھاتی عوام کا اعتماد حاصل کرتی اور سینئر ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ فیصلہ آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک خوش آئند تبدیلی ثابت ہوگا۔ لیکن اگر اندرونی اختلافات بڑھتے گئے تو یہی غیر روایتی فیصلہ سیاسی بوجھ بھی بن سکتا ہے جس سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچے گا بلکہ ریاست میں سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں اس مرتبہ صرف حکومت نہیں بدلی بلکہ روایتی سیاسی پیمانوں میں بھی تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔ طلسم ٹوٹا ہے جمود میں دراڑ پڑی ہے اور نئے امکانات نے جنم لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دراڑ روشنی کے لیے راستہ بنتی ہے یا سیاسی اختلافات کا کوئی نیا شگاف۔اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں نئی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی قیادت کی بصیرت ہی دے گی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے