یومِ دفاع؛ قربانی سے قومی ذمہ داری تک
عظمیٰ شیخ
ستمبر کا مہینہ آتے ہی سبز ہلالی پرچم، قومی نغمے اور شہدائ کی یاد ہمارے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ لیکن میرے لیے یومِ دفاع محض ایک قومی دن نہیں، یہ اپنے آپ سے ایک سوال کرنے کا دن بھی ہے۔ ایسا سوال جس کا جواب تقریروں، نعروں اور چند لمحوں کے جذبات سے نہیں بلکہ ہمارے کردار سے ملنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں، کیا ہم اس وطن کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟6 ستمبر 1965ءہماری قومی تاریخ کا وہ دن ہے جب جنگ کی آزمائش نے پاکستانی قوم کو ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ بھارتی افواج نے بین الاقوامی سرحد عبور کی تو لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر ہمارے جوان دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔ مگر منظر صرف میدانِ جنگ میں نہیں تھا؛ پورا پاکستان ایک ہی جذبے میں سانس لے رہا تھا۔ ماو¿ں کے لبوں پر دعائیں تھیں، نوجوانوں کے دلوں میں جوش تھا اور شہری اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ اس وقت کسی سے زبان، صوبہ یا سیاسی وابستگی نہیں پوچھی گئی؛ سب کی پہچان صرف پاکستانی تھی۔ یہی قومی یکجہتی 6 ستمبر کو ہماری تاریخ میں ایک یادگار دن بناتی ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو۔”(آلِ عمران: 139)1965ء کے ان مشکل حالات میں ہمارے جوانوں نے اسی حوصلے، عزم اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے لیے وطن کا دفاع محض ایک ملازمت نہیں تھا؛ یہ ایک عہد تھا، جسے انہوں نے اپنی آخری سانس تک نبھایا۔ہم جب شہداء کا ذکر کرتے ہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے محاذ، مورچے اور جنگ کے مناظر آتے ہیں، مگر شہادت کی اصل قیمت شاید اس گھر میں محسوس ہوتی ہے جہاں ایک کرسی ہمیشہ کے لیے خالی ہوجاتی ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی رہ جاتی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کی آواز کو ترستی ہے، ایک بیوی کی زندگی سے شریکِ حیات کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور ایک بچہ باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے کی خواہش دل میں لیے بڑا ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شہید کی قربانی کو صرف ایک فوجی واقعہ سمجھنا اس کی معنویت کو محدود کردینا ہے۔ اس کے پیچھے ایک خاندان کی عمر بھر کی جدائی، خاموش آنسو اور بے شمار قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔شہید اپنی جان دے کر وطن کو محفوظ کرتا ہے، لیکن اس قربانی کے بعد وطن کی حفاظت کی ذمہ داری پوری قوم کی بن جاتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں یومِ دفاع کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے جڑتا ہے۔آج جنگ کی صورتیں بدل چکی ہیں۔ دشمن ہر بار ٹینک اور توپ لے کر سرحد پر نہیں آتا۔ کبھی جھوٹی خبر کے ذریعے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی نفرت کے ذریعے معاشرے کو تقسیم کیا جاتا ہے، کبھی کرپشن اداروں کو اندر سے کمزور کرتی ہے اور کبھی جہالت ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک کردیتی ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، مگر اسی کے ساتھ غیرمصدقہ خبروں، کردار کشی اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاو¿ کو بھی آسان کردیا ہے۔ایسے حالات میں قومی ذمہ داری کسی بڑے کارنامے کا نام نہیں۔ یہ ہمارے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔جس سپاہی نے سرحد پر اس لیے جان دی کہ پاکستان کے گھر محفوظ رہیں، آج ایک باپ اپنے بچے کو تعلیم دلا کر اسی محفوظ مستقبل کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔ جس جوان نے گولیوں کے سامنے کھڑے ہوکر وطن کی آزادی کی حفاظت کی، آج ایک طالب علم امتحان میں نقل سے انکار کرکے اس آزادی کی قدر ثابت کرسکتا ہے۔جس شہید نے اپنی آخری سانس تک فرض نبھایا، ایک سرکاری ملازم اس کی قربانی کا احترام اس وقت کرتا ہے جب وہ کسی مجبور شہری کا جائز کام رشوت کے بغیر کردیتا ہے۔ جس نے وطن کے لیے اپنا گھر اجاڑ دیا، ایک دکاندار اس کے نام کی لاج اس وقت رکھتا ہے جب وہ کم تولنے، ملاوٹ اور ناجائز منافع خوری سے انکار کرتا ہے۔جس سپاہی نے ہمارے سکون کے لیے اپنی نیندیں قربان کیں، ہم اس کی قربانی کا حق اس وقت ادا کرتے ہیں جب سڑک پر کسی زخمی کو تماشائی بن کر دیکھنے کے بجائے اس کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ کسی ضرورت مند طالب علم کی کتابیں خرید دینا، خون کا عطیہ دینا، کسی بزرگ کو سڑک پار کرانا یا کسی غریب کے علاج میں مدد کرنا شاید اخبار کی سرخی نہ بنے، مگر یہی چھوٹے اعمال معاشرے میں انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔آج سوشل میڈیا بھی ہمارا ایک اہم محاذ ہے۔ کسی افواہ کو تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھانا، کسی کی عزت کو چند لمحوں کی تفریح کے لیے مجروح نہ کرنا، اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ کرنا اور نفرت انگیز مواد کا حصہ نہ بننا بھی قومی ذمہ داری ہے۔ جس قوم کے جوان سرحد پر دشمن کے پروپیگنڈے اور سازشوں کے سامنے ڈٹے رہے، اس قوم کے نوجوانوں کو بھی اپنی اسکرین پر شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔قائداعظم محمد علی جناح کا پیغام "اتحاد، ایمان اور تنظیم” آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اختلاف رائے فطری ہے، مگر اختلاف کو نفرت میں بدل دینا قومی وحدت کو کمزور کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دشمن کے لیے سب سے آسان ہدف وہ قوم ہوتی ہے جو خود اپنے اندر تقسیم ہو۔علامہ اقبال نے کہا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ شعر ہمیں ہماری ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ پاکستان کی تعمیر کسی ایک شخص، ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں؛ ہر فرد اپنے عمل سے اس ملک کے مستقبل میں حصہ ڈالتا ہے۔قرآنِ مجید کا یہ اصول بھی ہمارے لیے رہنمائی رکھتا ہے:”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔”(الرعد: 11)اگر ہم ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگر ہم انصاف چاہتے ہیں تو اپنے معاملات میں انصاف کرنا ہوگا۔ اگر ہم دیانت دار معاشرہ چاہتے ہیں تو دیانت کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ہم ہر سال یومِ دفاع پر شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی تصاویر دیکھتے ہیں، قومی نغمے سنتے ہیں اور ان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سب ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ شہداء کو یاد کرنے کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان کی قربانی ہمارے اندر کوئی مثبت تبدیلی پیدا کرے۔ذرا ان گھروں کا تصور کیجیے جہاں آج بھی کسی شہید کی وردی سنبھال کر رکھی ہوگی، جہاں اس کی تصویر دیوار پر لگی ہوگی اور جہاں اس کی اولاد زندگی کے اہم مواقع پر اپنے باپ کی کمی محسوس کرتی ہوگی۔ کیا ان قربانیوں کا حق صرف ایک دن یاد کرکے ادا ہوسکتا ہے؟نہیں۔شہداء نے اپنا فرض پورا کردیا۔ اب سوال ہماری طرف ہے:کیا ہم اپنے حصے کا فرض پورا کررہے ہیں؟شاید کسی شہید کی ماں آج ہم سے یہ نہ پوچھے کہ تم نے میرے بیٹے کو کتنی بار یاد کیا؛ وہ صرف یہ جاننا چاہے گی کہ جس پاکستان کے لیے میرے بیٹے نے اپنی جان دی، کیا تم نے اسے سنبھال کر رکھا؟اس سوال کا جواب کسی تقریر میں نہیں، ہماری زندگی میں لکھا جائے گا۔ہم اپنے کام کو امانت سمجھیں، اپنے علم کو قوم کی قوت بنائیں، اپنے اختلافات کو دشمنی میں نہ بدلنے دیں اور اپنے اردگرد کے انسانوں کے لیے آسانی پیدا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر شہدائ کی قربانی محض تاریخ کا باب نہیں رہتی بلکہ ہماری قومی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔6 ستمبر ہمیں صرف ایک جنگ کی یاد نہیں دلاتا؛ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ جنہوں نے سرحد پر اپنا آج قربان کرکے ہمارا کل محفوظ کیا، ان کے بعد اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے کردار سے اس کل کو ضائع نہ ہونے دیں۔شاید یہی شہداء کے لیے سب سے سچا خراجِ عقیدت ہے کہ جب آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں کہ تمہیں یہ پاکستان کیسے ملا تھا، تو ہم فخر سے کہہ سکیں:”یہ ہمیں قربانیوں سے ملا تھا، اور ہم نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر سنبھالے رکھا۔”






