پاکستانی ادب کے معمار : ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
قسط:44
شاہد بخاری
ماہنامہ”سفید چھڑی“ کو موصول ہونے والے مکتوبات سے انتخاب
ماہنامہ”سفید چھڑی“کو ہمیشہ معزز ممتاز اور قدآور ادیبوں اور شاعروں کے خطوط ملتے رہے ہیں جن سے کارکنان کا حوصلہ بڑھا ہے اور جریدے کی توقیر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چند ایک خطوط نذرِ قارئین ہیں:
ملک کی ممتاز کہانی کار بانو قدسیہ کا ڈاکٹر شیخ اقبال کے نام مکتوب بڑے حوصلے کا باعث ہے۔
”آپ کی خوبصورت کتاب ”یہ کافر دل نہیں مانا ملی جلد جواب تحریر نہ کر سکی بیمار ہوں آرام کا فقدان ہے اس لئے نسچنت ہو کر آپ کی کتاب کا مطالعہ نہ کر سکی ویسے بھی میں شاعری کی اونچی اڑانوں میں حواس باختہ ہو جاتی ہوں، ضرور سارا کلام قابلِ تعریف ہو گا میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں“
مستنصر حسین تارڑ کچھ یوں لکھتے ہیں:
”برادرم ڈاکٹر شیخ اقبال کی ”سفید چھڑی“ایسی ہے کہ ہم جیسے بھٹکے لوگوں کو بھی راہ دکھاتی ہے۔ میں انہیں نابینا شاعر نہیں سمجھتا صرف اور صرف ایک عمدہ شاعر سمجھتا ہوں۔بلکہ نابینا تو ہمارے و ہ شاعر ہیں جو اپنا اور دوسروں کا وقت اپنی شاعری سے ضائع کرتے ہیں۔ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گویا صرف میرے لئے یہ شعر کہا۔
جو مل سکے اسے لے لے اسے غنیمت جان
سفر سفر ہے یہاں گھر کی راحتیں مت ڈھونڈ!“
ایک خط ڈاکٹر اقبال کے حوالے سے جسٹس جاوید اقبال نے راقم الحروف کو تحریر کیا: ”مجھے پروفیسر شیخ محمدا قبال کے کوائف پڑھ کر بڑا حوصلہ ہو ا۔ وہ آٹھ برس کی عمر میں نابینا ہو گئے۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔ تعلیم نہ صرف جاری رکھی بلکہ اس تاریکی کے عالم میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں نمایاں پوزیشنیں لے کر حاصل کیں۔ وہ ہمارے ملک کے ان لاتعداد انسانوں میں سے افضل و برتر ہیں جو آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ ان کے نام پر رسالہ”رشحات لاہور“ کا ایک نمبر شائع کر رہے ہیں۔
میں نے ان کی تصنیف ”اقبال بحضور اقبال“بھی دیکھی ہے جس میں انہوں نے حضرت علامہ اقبال کے فلسفہ کے مختلف پہلوو¿ں کا جائزہ لیا ہے فلسفہ کوئی آسان موضوع نہیں پھر بھی توقع ہے کہ ان کی کتاب پڑھ کر ہماری نوجوان نسل استفادہ کرے گی۔
شاید پروفیسر صاحب جانتے ہیں کہ علامہ اقبال بچپن ہی سے ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔ آخری سالوں میں بینائی کھو بیٹھے تھے ان کی آخری تصنیف ”ارمغانِ حجاز“ اس کیفیت میں تحریر کی گئی۔
پروفیسر صاحب جیسے باہمت لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لئے رہبری کا سبب بنتے ہیں۔ ان کی مثال سے دل شاد ہوتا ہے اور حوصلہ بڑھتا ہے میری طرف سے انہیں مبارکباد ہو۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے اور قلب کی آنکھ سے دیکھنے کی توفیق دے جس سے اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ممکن ہے“
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ:
””سرگودہا جیسے بے رونق اور گرد آلود شہر میں ”سفید چھڑی“ جیسا جریدہ بارش کے قطروں کی مانند ہے“۔۔۔۔۔۔ نعمتِ دید سے محروم لوگوں کے لئے آپ جو کارِ خیر انجام دے رہے ہیں اس کے لئے ہم دل سے قدر دان ہیں“
جگن ناتھ آزاد (انڈیا)”ماہنامہ سفیدچھڑی“ باقاعدگی سے موصول ہو رہا ہے کس منہ سے شکریہ کیجئے اس لطفِ خاص کا۔ درمیان میں ایک تھوڑی سی مدت کے لئے وقفہ پیدا ہو گیا تھا لیکن پھر دو بارہ آپ نے اسے میرے نام جاری کر دیا ”کرم کردی الہٰی زندہ باشی!“ آپ ایک ہی وقت میں ادبی اور سماجی دونوں کام کر رہے ہیں۔ جزاک اللہ!“
پروفیسر عاصی کرنالی ۔۔۔”آپ صاحبِ عزم ہیں اور مردِ باعمل۔ کئی جہتوں اور سمتوں میں آپ کی کاوشوں کے مظاہر ہمارے لئے باعثِ اطمینان ِ قلب ہیں۔ خدا آپ کو آپ کی عالی ہمتی کے ساتھ زندہ سلامت رکھے اور آپ کے نقوشِ قلم اور نقوشِ قدم مختلف سمتوں میں جگمگاتے رہیں“
پیروز بخت قاضی: ”آپ نے رسالہ سفید چھڑی کا شمارہ بابت اپریل مئی جون ۴۱۰۲ بھیجا ہے جس کے لئے شکر گزار ہوں اس کے مندرجات پڑھ کر خوشی ہوئی کہ ہر تحریر معیار ی اور دلچسپ تھی۔ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر میں نے بطو رلیکچرار محکمہ تعلیم کی نوکری شروع کی تو پہلی تعیناتی جوہر آباد میں ہوئی جہاں مرا قیام تین برس یعنی ۰۶۹۱ سے ۳۶۹۱ تک رہا۔ اس دوران میں نے پہلی مرتبہ آپ کو اور آپ کے والدصاحب کو دیکھا آپ کے والد صاحب کسی سکول میں ٹیچر تھے اور آپ کی تعلیم اور ترقی کے لئے وہ اتنا جذبہ رکھتے تھے کہ کوئی بھی شخص ان سے مل کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار بینائی سے محروم ایک نوجوان کو دیکھا تھا جو سکول کی تعلیم سے فارغ ہو کر کالج میں داخلہ لینے آیا تھا اور جو ایک عظیم جذبہ کے ساتھ علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب آپ مجھ سے اجازت لے کر میری کلاس میں بیٹھے تھے۔ اگرچہ آ پ میرے مضمون کے طالب علم نہ تھے لیکن آپ کا جذبہ دیدنی تھا کہ آپ ہر شعبہءعلم میں واقفیت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ میرا ۳۶۹۱ میں جوہر آباد سے جہلم اور ۶۶۹۱ میں جہلم سے اسلام آباد تبادلہ ہوا اور پھر میں نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے ۸۶۹۱ میں سول سروس جائن کر لی۔ ان دنوں میں آپ کے بارے میں اکثر سوچتا تھا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ آپ نے ترقی کی کتنی منازل طے کر لی ہیں ایک طویل عرصہ کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے انگریزی میں ایم اے کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازمت کر لی ہے مجھے اس خبر سے بڑی خوشی ہوئی لیکن میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب مجھ تک یہ خبر پہنچی کہ آپ نے ڈاکٹریٹ بھی کر لی ہے۔ میں ہمیشہ آپ کی محنت، ہمت اور جذبے کی داد دیتا تھا اور مناسب موقع پر آپ کی مثال دیتا تھا۔ آپ مجھ سے باقاعدہ تو نہ پڑھے تھے کیونکہ میرا مضمون آپ کے اختیاری مضامین میں شامل نہ تھا۔ اور آپ کے کالج میں داخلے کے تھوڑا عرصہ بعد میرا وہاں سے تبادلہ ہو گیا تھا۔ اس لئے میرا خیال تھا کہ میری ذات آپ کو یاد نہ ہو گی جبکہ میں چند برسوں بعد تعلیم کا محکمہ ہی چھوڑ چکا تھا۔
( یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOLبتاریخ 27 مئی 2025 قسط وار شائع کر رہے ہیں)






