#کالم

آخرت، وہ سبق جو نصاب میں نہیں

mudasar qadeer

مدثر قدیر

"مختصر زندگی کی آسائشوں کے پیچھے نہ جائیں، بلکہ طویل زندگی یعنی آخرت کے حوالے سے تیاری مکمل رکھیں۔” یہ جملہ کسی واعظ کا نہیں، پولیس ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مسعود صابری کا ہے۔گزشتہ روز پولیس لائن میں ان سے ملاقات پولیس ملازمین کی صحت کے مسائل پر بات چیت کے لیے ہوئی تھی، مگر گفتگو غیر محسوس طور پر آخرت کی طرف مڑ گئی۔ ایک مصروف طبیب کو تصوف اور آخرت پر ایمان سے اس قدر معمور دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ان کا نقط نظر تھا کہ آخرت کے موضوع کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ انھوں نے یہ بات جذباتی انداز میں نہیں، بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ قرآن و حدیث کے حوالوں سے سمجھائی۔آج ہم نے تعلیم کو مستقبل کی دوڑ سے جوڑ رکھا ہے۔ مصنوعی ذہانت آئی تو ہمارے ادارے فوراً متحرک ہوئے اور اے آئی نصاب کا حصہ بن گئی، جو بلاشبہ دانش مندی ہے۔ مگر جو مستقبل ہر انسان کے لیے یقینی ہے، یعنی موت اور اس کے بعد کی زندگی، اس کے لیے ہمارے نصاب میں کتنی جگہ ہے؟قرآن نے آخرت پر یقین کو متقین کی صفت قرار دیایعنی "اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔” یقین معلومات سے نہیں، کم عمری سے نرمی اور محبت کے ساتھ بار بار سنی ہوئی بات سے پیدا ہوتا ہے۔ سورہ الاعلیٰ میں انسانی کمزوری کی نشان دہی ہے (الاعلیٰ: 16-17)، یعنی "بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔”جس بچے کے دل میں یہ احساس بیٹھ جائے کہ یعنی ذرہ برابر نیکی اور برائی بھی سامنے آئے گی، وہ جھوٹ، نقل اور حق تلفی سے پہلے سو بار سوچے گا۔ کوئی کیمرہ یا نگران احتساب کے اس داخلی احساس کا متبادل نہیں۔یہ تربیت گھر کی ذمہ داری بھی ہے یعنی "اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو¿۔” صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے یعنی ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ اولاد بھی ہماری رعیت ہے۔ترمذی کی روایت کے مطابق قیامت کے دن بندے سے پانچ سوال ہوں گے: عمر کہاں گزاری، جوانی کہاں کھپائی، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور علم پر کتنا عمل کیا۔ یہ وہی میدان ہیں جن کے گرد ہمارا تعلیمی و معاشی نظام گھومتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نوجوان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایایعنی "دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو۔” گویا آخرت کی تربیت کا بہترین وقت نوجوانی ہے۔اسے نصاب میں شامل کرنے کا مطلب بچوں کو ڈرانا نہیں۔ اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کی بشارتیں اتنی ہی اہم ہیں جتنی جواب دہی۔ ابتدائی جماعتوں میں سادہ کہانیاں اور سیرت کے واقعات، درمیانی جماعتوں میں موت، برزخ اور قیامت کا تعارف، اور اعلیٰ جماعتوں میں اخلاقیات اور پیشہ ورانہ دیانت کو آخرت کی جواب دہی سے جوڑ کر پڑھایا جائے۔ اساتذہ کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔اے آئی ہمیں سکھا سکتی ہے کہ مشینیں کیسے سوچتی ہیں، مگر یہ نہیں کہ ضمیر کیسے جاگتا ہے۔ ڈاکٹر مسعود صابری کی بات سادہ ہے اور وزنی بھی: جو زندگی مختصر ہے اس کی تیاری میں ساری توانائی صرف نہ کی جائے، اور جو ہمیشہ رہنے والی ہے اسے نصاب سے باہر نہ رکھا جائے۔ ہم نے اپنے بچوں کو ہر سوال کا جواب سکھا دیا، مگر سب سے بڑے سوال کی تیاری نہیں سکھائی۔ وقت ہے کہ یہ کمی پوری کی جائے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے