#کالم

ٹیکس نظام میں اصلاحات ، قومی معیشت کی بحالی

Untitled 1

حسبِ منشا

کسی بھی ریاست کی معاشی خودمختاری، مالی استحکام اور ترقی کا خواب اس وقت تک شرمند? تعبیر نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا ٹیکس نظام منصفانہ، شفاف، مو¿ثر اور عوام کے اعتماد کا مظہر نہ بن جائے۔ ٹیکس محض سرکاری خزانے کو بھرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان ایک ایسے سماجی معاہدے کی علامت ہے جس کی بنیاد ذمہ داری، اعتماد اور باہمی احساسِ فرض پر استوار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس نظام طویل عرصے سے پیچیدگیوں، انتظامی کمزوریوں، عدم شفافیت اور محدود ٹیکس بنیاد جیسے مسائل کا شکار رہا ہے۔ ہر دورِ حکومت میں اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے گئے، نئے منصوبے متعارف کرائے گئے اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اظہار ہوا، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود قومی معیشت کو درپیش بنیادی چیلنجز پوری طرح حل نہیں ہو سکے۔ایسے حالات میں راشد محمود لنگڑیال کی بطور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) تعیناتی ایک اہم انتظامی پیش رفت اور قومی معاشی مستقبل کے حوالے سے امید کی ایک نئی کرن قرار دی جا سکتی ہے۔ ان کی شخصیت، انتظامی تجربے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اصلاحاتی سوچ سے یہ توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو روایتی دفتری طریق? کار کی گرفت سے نکال کر جدید ٹیکنالوجی، شفافیت اور مو¿ثر انتظامی حکمتِ عملی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔تاہم یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی ایک شخصیت کی قابلیت اپنی جگہ، مگر اداروں کی حقیقی تبدیلی کے لیے مضبوط سیاسی عزم، انتظامی تعاون، مو¿ثر قانون سازی اور تسلسل کے ساتھ اصلاحات کا نفاذ بھی ناگزیر ہے۔
ایک مختلف طرزِ فکر کا منتظم
راشد محمود لنگڑیال کا شمار پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے تجربہ کار افسران میں ہوتا ہے۔ وہ 1995ئ کے بیچ سے تعلق رکھتے ہیں اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول تک تعلیمی سفر نے ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمشنر لاہور، سیکرٹری زراعت پنجاب، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور سیکرٹری پاور ڈویڑن جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے کے باعث انہیں انتظامی معاملات، حکومتی ترجیحات، عوامی ضروریات اور ادارہ جاتی پیچیدگیوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ایک اچھے منتظم کی پہچان محض اس کی دفتری مہارت یا قواعد و ضوابط پر عبور نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل صلاحیت اس امر سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کسی مسئلے کی تہہ تک کس حد تک پہنچتا ہے، دستیاب وسائل کو کس حکمت سے بروئے کار لاتا ہے اور اپنے فیصلوں کے ذریعے کس قدر دیرپا تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔راشد محمود لنگڑیال کے انتظامی سفر کا ایک قابلِ ذکر پہلو خیبر پختونخوا میں سیکرٹری سیاحت کی حیثیت سے ان کی خدمات بھی ہیں، جہاں ان کے دور سے منسوب پہلے ٹورازم ایکٹ کی تشکیل کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی مثال ہے کہ سیاحت جیسے شعبے کی ترقی کے لیے محض قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور دل کش مناظر کافی نہیں ہوتے، بلکہ ان امکانات کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے قانون، پالیسی اور ادارہ جاتی نظم و نسق کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی اصول ٹیکس نظام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ محض محصولات میں اضافے کے اہداف مقرر کر دینا کافی نہیں؛ اصل ضرورت ایسے نظام کی تشکیل ہے جو قانون کے مطابق محصولات جمع کرے، ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور قومی خزانے کے لیے مستقل و پائیدار آمدن کا ذریعہ بنے۔
ایف بی آر: اصلاحات کا ایک ناگزیر مرحلہ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا ایک بنیادی ستون ہے۔ قومی ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، دفاع، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی میں اس ادارے کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر قومی خزانے کو مستحکم بنانا ہے، قرضوں پر انحصار کم کرنا ہے اور ملکی معیشت کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنا ہے تو محصولات کے نظام کو مو¿ثر بنانا ناگزیر ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی بنیاد وسیع کیوں نہیں ہو سکی؟ کیوں معاشرے کے بعض طبقات اپنی حقیقی معاشی حیثیت کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کرتے؟ کیوں ایک عام تنخواہ دار شخص کے لیے ٹیکس کی ادائیگی نسبتاً آسانی سے یقینی بنا دی جاتی ہے، جب کہ بعض بڑے معاشی حلقوں تک پہنچنا ایک پیچیدہ انتظامی مسئلہ بن جاتا ہے؟ان سوالات کے جوابات محض اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ ہمارے معاشی، انتظامی اور سماجی رویّوں میں پوشیدہ ہیں۔ جب شہریوں کو یہ احساس ہو کہ ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہا، جب انہیں سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت نظر نہ آئے اور جب ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود بنیادی سہولتوں کی فراہمی غیر تسلی بخش ہو تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔اس لیے ایف بی آر کی اصلاحات کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا بھی ہونا چاہیے جس میں قانون سب کے لیے یکساں ہو، ٹیکس کی ادائیگی آسان ہو اور قومی خزانے میں جمع ہونے والی رقم کے استعمال پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔
ٹیکس نیٹ کی توسیع: معاشی انصاف کی بنیاد
پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں انتہائی محدود رہی ہے۔ تاہم اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ مجموعی آبادی اور قانوناً ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے پابند افراد کی تعداد ایک جیسی نہیں ہوتی۔اصل سوال یہ ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے تمام اہل افراد اور اداروں کو کس طرح ایک منصفانہ، شفاف اور مو¿ثر ٹیکس نظام کے دائرے میں لایا جائے۔اگر ایک طرف تنخواہ دار طبقہ اور باقاعدہ کاروبار کرنے والے افراد ٹیکس کے نظام میں نمایاں طور پر موجود ہیں، تو دوسری طرف ان معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے جو اپنی حقیقی مالی حیثیت کے باوجود قومی محصولات میں مناسب حصہ ادا نہیں کرتیں۔یہ کام محض چھاپوں، نوٹسوں اور جرمانوں سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے معاشی معلومات کا مو¿ثر تجزیہ، مختلف سرکاری اداروں کے ڈیٹا میں ربط، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور قانون پر یکساں عمل درآمد ضروری ہے۔راشد محمود لنگڑیال کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ایسے طبقات تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں جو اپنی معاشی استعداد کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ٹیکس اصلاحات اسی وقت کامیاب ہوں گی جب ان کا بوجھ صرف پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں پر نہ ڈالا جائے، بلکہ ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دے کر معاشی انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
ڈیجیٹلائزیشن: شفافیت کی طرف فیصلہ کن قدم
آج کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی نے حکومتی نظاموں، مالیاتی اداروں اور کاروباری سرگرمیوں کے طریق? کار کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کے اس دور میں محصولات کے نظام کو روایتی دفتری کارروائیوں، غیر ضروری انسانی مداخلت اور پیچیدہ طریق? کار کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ایف بی آر کی مکمل اور مربوط ڈیجیٹلائزیشن اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کے تعین، ادائیگی، نگرانی اور جانچ پڑتال کے مراحل کو زیادہ شفاف، تیز رفتار اور قابلِ احتساب بنایا جا سکے۔اگر متعلقہ معاشی معلومات کو قانونی تحفظات کے ساتھ باہم مربوط کیا جائے، ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال میں جدید تجزیاتی نظام استعمال ہوں اور کاروباری لین دین کے اعداد و شمار سے حقیقی معاشی سرگرمیوں کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے تو نہ صرف ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ممکن ہوگی بلکہ دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو بھی غیر ضروری دفتری مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔ڈیجیٹلائزیشن کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے انسانی صوابدید کے غیر ضروری استعمال کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ جب فیصلے واضح قواعد، قابلِ تصدیق معلومات اور خودکار نظاموں کی بنیاد پر ہوں تو من مانی، امتیازی سلوک اور بدعنوانی کے امکانات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔تاہم یہ بات بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ محض سافٹ ویئر کی تنصیب یا کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرا دینے سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے مو¿ثر نگرانی، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ، آزادانہ آڈٹ اور خلاف ورزیوں پر بلاامتیاز کارروائی کا نظام بھی ضروری ہے۔راشد محمود لنگڑیال کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ ڈیجیٹلائزیشن کو محض ایک انتظامی منصوبہ بنانے کے بجائے ادارے کی عملی ثقافت میں کس حد تک شامل کر پاتے ہیں۔
ادارہ جاتی مزاحمت اور قیادت کا امتحان
ہر بڑی اصلاح اپنے ساتھ مشکلات اور مزاحمت بھی لاتی ہے۔ خصوصاً ان اداروں میں جہاں کئی دہائیوں سے مخصوص انتظامی روایات، دفتری مفادات اور اختیارات کے روایتی تصورات موجود ہوں، وہاں تبدیلی کا راستہ کبھی ہموار نہیں ہوتا۔ایف بی آر بھی ایک وسیع اور پیچیدہ ادارہ ہے، جس میں ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز سمیت مختلف شعبوں کے افسران اور اہلکار خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس ادارے کی اصلاح کے لیے ان کے تجربے، پیشہ ورانہ مہارت اور عملی تعاون سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔راشد محمود لنگڑیال کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ہے، جب کہ ایف بی آر کے مختلف شعبوں میں مخصوص نوعیت کی فنی مہارت رکھنے والے افسران موجود ہیں۔ اس تناظر میں ان کی قیادت کے لیے سب سے اہم تقاضا یہ ہوگا کہ وہ انتظامی اختیار اور پیشہ ورانہ مہارت کے درمیان ایک متوازن رشتہ قائم کریں۔کسی ادارے کی بہتری محض اس کے اہلکاروں کو تبدیل کرنے یا نئے احکامات جاری کرنے سے نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ادارے کے اندر اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا جائے، اہلیت کی بنیاد پر ذمہ داریاں تفویض ہوں، کارکردگی کا منصفانہ جائزہ لیا جائے اور ہر فرد کو یہ احساس ہو کہ اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت قومی مفاد کے لیے بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ایک کامیاب سربراہ وہ نہیں جو اختلاف کی ہر آواز کو مخالفت سمجھ لے، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کو مشاورت میں تبدیل کرے، مزاحمت کی وجوہات کو سمجھے اور واضح اہداف کے ذریعے ادارے کو مشترکہ سمت عطا کرے۔راشد محمود لنگڑیال کے لیے بھی یہی اصول کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہیں ایک طرف اصلاحات کے عمل میں ثابت قدم رہنا ہوگا اور دوسری طرف ادارے کے اہل، دیانت دار اور تجربہ کار افسران کو اس سفر کا فعال شریک بنانا ہوگا۔
دیانت، تدبر اور انسانی ہمدردی
کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز شخصیت کی اصل قدر صرف اس کے منصب، اختیارات یا تعلیمی اسناد سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ دیانت داری، اصول پسندی، تحمل اور عوامی مفاد سے وابستگی وہ اوصاف ہیں جو کسی منتظم کو محض ایک سرکاری افسر سے بڑھ کر ایک مو¿ثر قومی کردار عطا کرتے ہیں۔راشد محمود لنگڑیال کی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر حوالہ کتاب The Story of the Fair Sex کی تصنیف بھی ہے، جو ان کی انتظامی مصروفیات کے علاوہ تحریری و فکری دلچسپیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ تاہم کسی بھی شخصیت کے فکری رجحانات اور انسانی ہمدردی کے پہلوو¿ں کا حقیقی اندازہ بالآخر اس کے عملی رویّے، فیصلوں اور خدمات سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ایف بی آر جیسے ادارے کی سربراہی میں یہ اوصاف خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں کیے جانے والے فیصلے لاکھوں شہریوں، کاروباری اداروں اور قومی معیشت کے مختلف شعبوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کی پابندی اور انسانی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔قانون کی سختی اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب اس کے نفاذ میں انصاف، یکسانیت اور شفافیت موجود ہو۔
امیدوں کا چراغ اور احتساب کی روشنی
ہماری قومی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان میں اصلاحات کے اعلانات تو بارہا ہوئے، لیکن ان کے نتائج اکثر توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔ اس کی وجوہات میں پالیسیوں کا عدم تسلسل، انتظامی رکاوٹیں، سیاسی مصلحتیں، کمزور احتساب اور ادارہ جاتی مسائل شامل رہے ہیں۔اس لیے راشد محمود لنگڑیال سے وابستہ امیدوں کو محض کسی ایک شخصیت کی تعریف تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان امیدوں کو واضح اہداف، قابلِ پیمائش نتائج اور مستقل احتساب کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔کیا ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا؟ کیا ٹیکس دہندگان کے لیے طریق? کار آسان ہوگا؟ کیا ڈیجیٹل نظام انسانی مداخلت کو کم کرنے میں کامیاب ہوگا؟ کیا محصولات میں اضافہ حقیقی معاشی سرگرمیوں اور بہتر تعمیل کے نتیجے میں ہوگا، یا اس کا بوجھ ایک بار پھر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقوں پر منتقل کر دیا جائے گا؟ کیا ٹیکس دہندگان کی شکایات کے ازالے اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مو¿ثر نظام قائم ہوگا؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے وقت میں ان کی کارکردگی کا حقیقی معیار متعین کریں گے۔ایک ذمہ دار معاشرے میں شخصیات کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے اور ان کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ بھی۔ امید کا مطلب یہ نہیں کہ سوال اٹھانا چھوڑ دیا جائے، بلکہ امید کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ اصلاحات کے عمل کو دیانت دارانہ تنقید، عوامی نگرانی اور مثبت تجاویز کے ذریعے بہتر بنایا جائے۔
معاشی خودمختاری کا راستہ
لاہور میں پچپن برس سے مقیم رہتے ہوئے، ملکی حالات اور انتظامی معاملات کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہمیں اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ قوموں کی ترقی محض وسائل کی فراوانی سے نہیں، بلکہ ان وسائل کے منصفانہ حصول، دانش مندانہ استعمال اور مو¿ثر انتظام سے ممکن ہوتی ہے۔پاکستان کو آج ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو قومی خزانے کو مستحکم کرے، معیشت کو دستاویزی شکل دے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے اور شہریوں کے اعتماد کو بحال کرے۔ ایسا نظام جس میں ٹیکس کی ادائیگی کو سزا یا بوجھ کے بجائے ایک ذمہ دار شہری کے قومی کردار کے طور پر دیکھا جائے۔راشد محمود لنگڑیال کے سامنے ایک بڑا موقع موجود ہے۔ وہ چاہیں تو اپنے انتظامی تجربے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اصلاحاتی سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے ایف بی آر میں ایسی تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جن کے اثرات ان کے عہدے کی مدت سے آگے تک محسوس کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں سیاسی و انتظامی حمایت، ادارہ جاتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی اعتماد کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی میں سمو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ہمیں ان کی کامیابی کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کرنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ توقع بھی وابستہ رکھنی چاہیے کہ وہ قومی مفاد کو ہر ذاتی، گروہی اور ادارہ جاتی مصلحت پر ترجیح دیں گے۔کیونکہ ٹیکس اصلاحات محض ایف بی آر کی اصلاحات نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی تقدیر سے جڑا ہوا ایک بنیادی معاملہ ہیں۔آخرکار کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت اس کے شہریوں پر عائد ٹیکسوں کی مقدار سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے متعین ہوتی ہے جو شہری ریاست کے نظام، اس کے قانون اور اس کے انصاف پر کرتے ہیں۔راشد محمود لنگڑیال کے لیے اصل کامیابی یہی ہوگی کہ وہ ایف بی آر کو ایک ایسے جدید، شفاف، جواب دہ اور عوام دوست ادارے میں تبدیل کرنے میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کریں جہاں قانون کی بالادستی ہو، دیانت داری کی قدر ہو، ٹیکنالوجی شفافیت کی ضامن بنے اور قومی خزانے میں ہر شہری کا حصہ اس کی معاشی استعداد اور قانونی ذمہ داری کے مطابق متعین ہو۔اگر ایسا ممکن ہو سکا تو یہ صرف ایک افسر کی کامیابی نہیں ہوگی، بلکہ قومی معیشت کی بحالی، ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی اور پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔امید کا چراغ روشن ہے؛ اب وقت اس امید کو عمل، شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج کی روشنی میں بدلنے کا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے