عنوان: انصاف کے متلاشی معصوم بچے
میاں اسامہ صادق
زندگی اور موت بلاشبہ اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے۔ ہر ذی روح نے ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے، لیکن بعض اموات اپنے پیچھے ایسے سوالات، دکھ اور محرومیاں چھوڑ جاتی ہیں جو نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ایسا ہی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ محمد عدنان کی وفات کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے ایک ہنستے بستے گھرانے کی خوشیاں چھین لیں اور چار معصوم بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھا دیا۔محمد عدنان ایک نوجوان اور چار کم سن بچوں کا باپ تھا۔ جو کے برنالہ تحصیل صفدر آںاد ضلع شیخوپوہ کا رہائشی تھا۔ اسے پتے میں پتھری کی شکایت تھی، جس کے علاج کے لیے سانگلہ ہل کے ایک ہسپتال میں اس کا آپریشن کیا گیا۔ پتے کی پتھری ایک ایسا طبی مسئلہ ہے جس کے علاج کے لیے ضرورت پڑنے پر آپریشن کیا جاتا ہے۔ یہ ایک معروف جراحی عمل ہے جہاں پیچیدگیوں کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔محمد عدنان بھی صحت یابی کی امید لیے ہسپتال پہنچا تھا۔ اسے اور اس کے اہل خانہ کو امید تھی کہ آپریشن کے بعد وہ صحت مند ہو کر اپنے گھر لوٹے گا، اپنے بچوں کو سینے سے لگائے گا اور دوبارہ معمول کی زندگی گزارے گا۔ مگر افسوس کہ وہ گھر واپس نہ آ سکا۔ آپریشن کے دوران پیش آنے والی صورتحال کے بعد اس کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔عدنان کی موت ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور لاپروائی کے باعث ہوئی۔ یہ ایک نہایت سنگین الزام ہے جس کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ طبی غفلت کا حتمی تعین متعلقہ طبی ریکارڈ، ماہرین کی رائے اور قانونی تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمد عدنان کے آپریشن کے دوران آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہار گیا؟ کیا آپریشن سے قبل تمام ضروری طبی معائنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں؟ کیا بے ہوشی کی دوا دینے اور آپریشن کے دوران مریض کی مسلسل نگرانی کے تمام تقاضے پورے کیے گئے؟ کیا کسی پیچیدگی کی صورت میں فوری طبی امداد اور جان بچانے کے ضروری انتظامات موجود تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا محمد عدنان کی جان بچانے کے لیے تمام ممکنہ طبی کوششیں بروقت کی گئیں؟ جب وہ تکلیف میں تھا تو ڈاکٹر موجود کیوں نہیں تھے۔ کیوں بار بار ڈاکٹروں کو بلانے کا کہا گیا مگر نرسوں نے دیہان نہیں دیا ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات محض زبانی وضاحتوں سے نہیں بلکہ شفاف طبی تحقیقات سے سامنے آنے چاہییں۔محمد عدنان کی وفات کا سب سے المناک پہلو اس کے چار معصوم بچے ہیں، جنہیں شاید ابھی زندگی کی تلخ حقیقتوں کا مکمل ادراک بھی نہیں۔ وہ بچے جن کے لیے ان کا باپ محبت، تحفظ اور امید کا سہارا تھا، آج ہمیشہ کے لیے اس شفقت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا کوئی دولت، کوئی تسلی اور کوئی وعدہ پورا نہیں کر سکتا۔ایک باپ کی جدائی کا دکھ وہی بچے سمجھ سکتے ہیں جو بچپن میں یتیمی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔ محمد عدنان کے بچوں کی تعلیم، تربیت، کفالت اور مستقبل اب ایسے سوالات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان معصوم بچوں کا آخر کیا قصور تھا کہ انہیں اتنی کم عمری میں اپنے والد کی محبت سے محروم ہونا پڑا؟طب ایک مقدس اور ذمہ دارانہ پیشہ ہے۔ ڈاکٹر انسانیت کے مسیحا کہلاتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں ہزاروں ڈاکٹر دن رات انسانی جانیں بچانے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی خدمات قابلِ احترام ہیں، لیکن اس پیشے سے وابستہ ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ انسانی زندگی کی حرمت، پیشہ ورانہ دیانت اور طبی اصولوں کو مقدم رکھے۔ اگر کہیں غفلت یا لاپروائی ثابت ہو تو اس پر مو¿ثر قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ہم وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، صوبائی وزیر صحت، محکمہ صحت پنجاب، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پ±رزور مطالبہ کرتے ہیں کہ محمد عدنان کی وفات کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔اس واقعے کی تحقیقات کے لیے غیر جانب دار اور قابل طبی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ آپریشن سے متعلق مکمل طبی ریکارڈ، بے ہوشی کی ادویات اور نگرانی کی تفصیلات، آپریشن تھیٹر کا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ شواہد محفوظ کرکے ان کا جائزہ لیا جائے۔ اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ہم کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں چاہتے، نہ ہی کسی بے گناہ کو سزا دلوانا ہمارا مقصد ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف اور صرف انصاف ہے۔ ایسا انصاف جو شفاف تحقیقات کے ذریعے حقیقت کو سامنے لائے، ذمہ داری کا تعین کرے اور اگر کوئی جرم یا غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائے۔محمد عدنان اب اس دنیا میں واپس نہیں آ سکتا۔ اس کے بچوں کو ان کا باپ دوبارہ نہیں مل سکتا۔ لیکن ریاست اور متعلقہ ادارے ان بچوں کو یہ احساس ضرور دلا سکتے ہیں کہ وہ بے سہارا نہیں، ان کی فریاد سننے والا قانون موجود ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں۔آج سوال صرف محمد عدنان کی موت کا نہیں، بلکہ انسانی جان کی حرمت، نظامِ صحت کی جواب دہی اور چار معصوم بچوں کے مستقبل کا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے خصوصی اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا ذاتی نوٹس لیں، شفاف تحقیقات یقینی بنائیں اور مرحوم کے بچوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کریں۔کیونکہ اگر کسی غفلت کے نتیجے میں ایک گھر کا چراغ بجھا ہے تو اس کی حقیقت سامنے آنا ضروری ہے، تاکہ آئندہ کسی اور گھر کے بچوں کو ایسے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔محمد عدنان کی زندگی تو واپس نہیں آ سکتی، لیکن اس کے چار معصوم بچوں کو انصاف ضرور ملنا چاہیے۔یہ صرف ایک خاندان کی فریاد نہیں، انسانیت اور انصاف کی آواز ہے۔






