#کالم

ڈیجیٹل الیکشن اور سیاست

Untitled 5

جاویدایازخان

بہاولپور کے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی گہماگہمی اس وقت عروج پر ہے۔ان انتخابات کی خصوصیت یہ ہے کہ اس انتخاب کا میدان صرف جلسہ ،جلوس ،کارنرمیٹنگ اور انتخابی نشان ہی نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا بھی انتخابی میدان بن چکا ہے۔اس سے قبل بھی گذشتہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کو ووٹر تک پہنچنے اور انہیں متحرک کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو نمائیاں طور پر استعمال کیا تھا مگر اس مرتبہ لگتا یہ ہے کہ الیکشن اب پولنگ اسٹیشن سے زیادہ سوشل میڈیا کی اسکرین پر بھی لڑے جائیں گے۔بیلٹ باکس سے پہلے فیس بک باکس بھرنے لگے ہیں۔اور اب امیدوار کو گلی گلی ہی نہیں بلکہ اسکرین اسکرین تک پہنچنا پڑے گا۔پہلے امیدوار ووٹر کے گھر پہنچتا تھا اب اس کی پوسٹ پہنچتی ہے ،پہلے نعرہ جلسے میں لگتا تھا اب ٹرینڈ بنتا ہے، پہلے مخالف کو جواب تقریر یا پریس کانفرنس میں دیا جاتا تھا اب چند سکینڈ کی وڈیو اپ لوڈ کر دی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل کا ووٹر امیدوار کو دیکھ کر ووٹ دے گا یا اس کے سوشل میڈیا اکاونٹ کو دیکھ کر فیصلہ کرے? گا ؟ میرا خیال ہے کہ دونوں کو دیکھے گا مگر اب اس کا تناسب بدل رہاہے۔ا?ج سوشل میڈیا کی بدولت سیاسی شعور اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔کوئی نئی خبر چند سکینڈ میں ہی ہر ا?دمی کی اسکرین تک پہنچ جاتی ہے۔الیکشن چیمبر ا?ف کامرس کا ہو یا جم خانہ بہاول کلب کا ہو ِیا پھر بار کا ہو ِ اور یاپھر سیاسی میدان ہو ،بہاولپور ہمیشہ سے اخلاقی شائستگی اور ایک دوسرے? کے احترام کی روایات کے لیے مشہور رہا ہے اس لیے سوشل میڈیا مہم بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
کبھی الیکشن کا موسم آتا تھا تو گلیاں، چوک، بازار اور دیواریں سیاست سے بھر جاتی تھیں۔ امیدوار محبت کا اظہار کرتے ،ووٹ کی درخواست کرتے ، پرانے تعلق یاد دلاتے ،بزرگوں کی دعائیں لیتے، نوجوانوں کو گلے لگاتے اور بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ کسی کے گھر کی چارپائی یا تھڑے پر بیٹھ کر چائے پی لینا بھی انتخابی مہم کا حصہ ہوتا تھا۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔اب امیدوار کی فیس بک پر موجودگی ضروری ہے اب امیدوار کا حلقے میں موجود ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کا پوسٹ شیئرکرنا ضروری ہے۔کارکن کا محلے یا گلی میں نعرہ لگانا ضروری نہیں اور جلسے میں ہزاروں افراد کی موجودگی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جلسے کی ویڈیو کتنے لاکھ لوگوں تک پہنچی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سیاست نے زمین سے اٹھ کر موبائل کی اسکرین پر گھر بنا لیا ہے۔ پہلے امیدوار ووٹر کے دروازے پر دستک دیتا تھا، اب الگورتھم ووٹر کے موبائل پر دستک دیتا ہے۔ پہلے انتخابی منشور چھپتا تھا، اب چند سیکنڈ کی ویڈیو منشور کا کام کرتی ہے۔ پہلے مخالف امیدوار کو جواب دینے کے لیے اگلے جلسے کا انتظار کرنا پڑتا تھا، اب جواب آنے سے پہلے ہی جواب کا جواب تیار ہوتا ہے۔یہ ڈیجیٹل سیاست اور ڈیجیٹل الیکشن کا دور ہے جہاں مقبولیت بھی ڈیجیٹل ہے اور مخالفت بھی ڈیجیٹل اور کبھی کبھی حقیقت بھی ڈیجیٹل ہوتی ہے۔ ایک تصویر، ایک جملہ، ایک جذباتی ویڈیو یا ایک خوبصورت نعرہ چند گھنٹوں میں ایسا ماحول بنا سکتا ہے جیسے پورا ملک ایک ہی امیدوار کے ساتھ کھڑا ہو۔ مگر حقیقت کا پولنگ اسٹیشن سوشل میڈیا کی ٹائم لائن سے مختلف ہوتا ہے۔ وہاں لائک کا بٹن نہیں ہوتا، بیلٹ کا نشان ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹل سیاست کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ ووٹر کو کچھ عرصے کے لیے متاثر کیا جا سکتا ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں۔ پانچ سال کی کارکردگی کو پانچ منٹ کی ویڈیو میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، مگر پانچ سال کی ناکامی کو ہمیشہ پانچ منٹ کی ویڈیو میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ایک غیر مصدقہ جھوٹ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔سوشل میڈیا نے سیاست کو یقینا” طاقت دی ہے لیکن اسی کے ساتھ ایک نیا خطرہ بھی پیدا کردیا ہے۔جھوٹ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔ایک غیر مصدقہ خبر ،ایک مصنوعی تصویر یا مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیو ہزارنہیں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔یوں ووٹر کے ہاتھ میں معلومات کا سمندر تو ا?جاتا ہے مگر اس میں سچ اور جھوٹ کو الگ کرنے کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور شاید یہی آنے والے انتخابات کا سب سے بڑا سوال ہےکہ ووٹ امیدوار کو ملے گا یا اس سوشل میڈیا اکاونٹ کو ملے گا ؟ جواب شاید یہ ہے کہ ووٹر وقتی طور پر اکاو¿نٹ سے متاثر ہو سکتا ہے، مگروہ فیصلہ بالآخر امیدوار کے کردار، کارکردگی اور اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کرے گا۔مہنگائی ڈیجیٹل نہیں ہوتی ،بےروزگاری ڈیجیٹل نہیں ہوتی ،ٹوٹی سڑک ڈیجیٹل نہیں ہوتی ،گندہ پانی ڈیجیٹل نہیں ہوتا اور ہسپتال کی قطار بھی ڈیجیٹل نہیں ہوتی کیونکہ سیاست چاہے کتنی ہی ڈیجیٹل کیوں نہ ہوجاے? ووٹ بھی آخرکار ایک ایسے انسان کو دینا ہے جو ان حقیقی مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ اس لیے شاید آنے والے الیکشن کا سب سے بڑا مقابلہ امیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ تصویر اور حقیقت کے درمیان ہو گا۔ اسکرین پر امیدوار جتنا بھی خوبصورت، مقبول اور کامیاب دکھائی دے، پولنگ اسٹیشن کے پردے کے پیچھے ووٹر اکیلا ہوگا۔ وہاں نہ لائکس ہوں گے، نہ فالوورز، نہ ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ۔وہاں صرف اس کا ضمیر ،اس کی ضرورت اور اس کاووٹ ہوگا اور یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔الیکشن ڈیجیٹل ہو سکتا ہے ،انتخابی مہم ڈیجیٹل ہو سکتی ہے ،سیاسی جنگ ڈیجیٹل ہو سکتی ہے مگر ووٹ ا?ج بھی انسان ہی ڈالتا ہے۔اس لیے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال میں احتیاط ازحد ضروری ہے۔
ضرورت اس بات کی ہےکہ ڈیجیٹل سیاست یا الیکشن کے اس نئے دور میں ہم اپنے جذبات کو دلیل پر اور اختلاف کو اخلاق پر غالب نہ ا?نے دیں۔سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ شاید چند سکینڈ میں ہماری انگلیوں سے نکل جاے? مگر الفاظ کسی کے دل میں برسوں رہ سکتے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اسکرین کی دوسری جانب بھی انسان ہے جس کے جذبات بھی ہیں اورعزت نفس بھی ہے۔اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے ،دشمنی نہیں ،تنقید جمہوری حق ہے ،نفرت نہیں ،سیاسی مقابلہ اپنی جگہ مگر اخلاقیات کا دامن ہر صورت تھامے رکھیں۔ا?خر کار الیکشن ختم ہو جاے? گا نتیجہ بھی ا?جاے? گا جیت والا جشن اور ہار والا اگلے معرکے کی تیاری کرے? گا مگر الفاظ کے ذخم شاید باقی رہ جائیں۔یقینا” جمہوریت کا حسن صرف ووٹ کی ا?زادی ہی نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنے میں بھی ہوتا ہے۔بہاولپور کی بہترین روایات کے مطابق احترام کے رشتے ٹوٹنے مت دیں محبت کوفروغ دیکر نئی ،بہتر اور ڈیجیٹل مثالیں قائم کریں۔جو ہماری ا?نےے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بن سکیں۔

ڈیجیٹل الیکشن اور سیاست

عیدمیلادالنبی کے تقاضے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے