عیدمیلادالنبی کے تقاضے
شاہد بخاری
عید میلادالنبی گزر بھی چکی لیکن یہ بحث سوشل میڈیا پر جاری ھے کہ اسے منانی چاھئیے تھی یا نھیں ؟؟۔عاشقان رسول کی طرف سے چراغاں کرنے کو اسراف بےجا،کہنے والوں اور جشن نہ منانے والوں کو گستاخ رسول کےفتوے جاری ھیں۔دوسری طرف سے جوابی مہم جاری ھے۔ اگر ان بحثوں میں الجھنے کے بجائے،رسول پرجو کتاب نازل ھوئی،اس کو سمجھ کر پڑھتے ،اس پر عمل کرتے اور سیرت رسول کو اپناتے تو فلسطینیوں کو تباہ و برباد کرنے اور مقبوضہ کشمیر یوں پر ظلم وستم کرنے کی کسی کو بھی جرات نہ ھوتی۔ قرآن پاک میں ھے کہ
جو مانے گا حکم خدا و رسول
نہ ھوگا قیامت میں وہ دل ملول
قرآن مجید کی جو پہلی آیت نازل ھوئی اس کا مطلب ھے۔پڑھ۔۔۔یہودی پڑھ رھے ھیں اور ھر میدان میں آگے بڑھ رھے ھیں۔ان چند کروڑ نے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو اپنے آگے آگے لگا رکھا ھے۔ گڑھی شاھو لاھور کے خالد اب نیدر لینڈ کے شہری ھیں،انھوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے آ کر حلقہ اربا ب ذوق میں بتلایا تھا کہ وھاں سب پڑھے لکھے اور مہذب ھیں۔ دکانوں کے آگے ناجائز تجاوزات کہیں بھی دیکھنے میں نظر نہیں آ ئے۔وھاں ھر پرو ڈکٹ ملاوٹ سے پاک اور خالص ملی۔ ھسپتال اور عدالتیں ویران اور سکول و لائیبریریاں،آباد تھیں۔ ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی رات کے سناٹےمیں بھی نھیں دیکھی گئی۔صفائی، ھر جگہ مثالی تھی۔”رسول پاک کا یوم پیدائش منانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ھے کہ ھم سیرت رسول کو ھر جگہ پیش نظر رکھیں۔ حضرت عائشہ نے آپ کو چلتا پھرتا قرآن ،فرمایا ھے۔ وہ عامل قرآن تھے۔ھم عامل قرآن تب ھی ھو سکتے ھیں،جب اس کے ترجمے کو سمجھ کر پڑھیں۔اس میں لکھا ھے کہ صلات قائم کریں۔زکات دیں۔سچ بولیں۔جھوٹ نہ بولیں۔ملاوٹ نہ کریں۔چوری،ٹھگی،نہ کریں۔
گداگروں کو بھیک نہ دیں۔
رکھو ان غریبوں کا بھی تم خیال
جو کرتے نھیں تم سے آ کر سوال
تمھارے مصارف سے جو بچ رھے
کرو خرچ راہ خدا میں اسے
بھلائی میں تم سب کے حامی رھو
بدی میں نہ ھرگز تعاون کرو
عزیزوں پہ احساں کرو دم بہ دم
یتیموں پہ رکھو نگاہ کرم
غریبوں کی امداد کرتے رھو
فقیروں کا دل شاد کرتے رھو
خدا دوست رکھتا ھے بےشک اسے
ھر اک سے جو انصاف کرتا رھے
تلاش اپنی روزی کرو جابجا
رھے ذکر خالق بھی لب پہ سدا
صلاتوں میں سر کو جھکاتے رھو
بھلائی کی جانب بلاتے رھو
زمیں میں نہ فتنے اٹھاتے پھرو
ھمیشہ شرارت سے بچتے رھو
کرو ایسی باتیں نہ صبح و مسا(شام)
پڑے جس سے اسلام میں تفرقہ
رھے ھر گھڑی خوف روز جزا
ھے جس دن خدا کی طرف لوٹنا
رکھو عہدو پیماں کا اپنے خیال
ضرور ان کے بارے میں ھو گا سوال
عاشقان رسول وھی ھیں،جو رسول پاک کی سیرت کے ان نکات کو پیش نظر رکھتے ھیں: آ پ میں تکبر نہیں تھا، برد بار تھے۔آپ مشکلات میں صبر کرنے والے تھے(ھمت سے کام لیتے تھے،گھبراتےنھیں تھے)آپ میں قوت برداشت تھی۔آپ کی زبان میں فصاحت و بلاغت تھی۔آپ پاکدامن تھے آ پ در گذر کرنے والے تھے۔آ پ کا کردار بلند تھا۔آپ اعلیٰ ظرف تھے۔آپ بے حد حلیم الطبع تھے۔آپ نے ذاتی انتقام کبھی نہیں لیا۔آپ برائیوں سے بچتے تھے۔آپ جلد ھی راضی ھو جاتے تھے۔آپ سخی تھے۔آپ بہادر،دلیر،سمجھدارتھے۔ آپ بہت زیادہ با حیا تھے۔ آ پ کو دشمن بھی صادق وامین،مانتے تھے۔ان کے پاس اپنی امانتیں رکھتے تھے۔آ پ بہت نرم دل و عادل مزاج تھے۔آپ صحابہ کرام کو اپنے استقبال کے لئیے کھڑا ھونے سے
منع فرماتے تھے۔آپ یتیموں،مسکینوں اور بیواو¿ں کی مدد کرتے تھے۔آپ بیماروں کی عیادت کرتے تھے۔آپ محنتی تھے۔آپ مفلسوں وفقراءکے ساتھ میل جول رکھتے تھے۔آپ غریبوں کی دعوت پر تشریف لےجاتے تھے۔آپ بغیر امتیاز کے پبلک کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔آپ اپنے کپڑے وغیرہ خود مرمت کر لیتے تھے۔ آپ اپنے گھر کے کام کاج خود کر لیتے تھے۔ آپ اپنی بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے۔آپ اپنے وعدوں کے پابند رھتے تھے۔آپ صلہ رحمی کو پسند کرتے تھے۔آپ سب سے شفقت، مروت ورحمدلی سے پیش آتے تھے۔آپ ادب واخلاص میں سب سے اچھے تھے۔
آپ فالتو بات نہیں کرتے تھآپ کسی پر لعنت نھیں بھیجتے تھے۔آپ ملاوٹ نہیں کرتے تھے۔آپ برائی کے بدلے میں برائی نہیں کرتے تھے۔آپ عفوو در گزر سے کام لیتے تھے۔آپ کھانے میں عیب نہیں نکالتے تھے۔ آپ کو غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں عار نھیں تھا۔آپ اپنے خادم کا کام اکثر خود ھی کر دیتے تھے۔آ پ نے اپنے خادم کو کبھی آف تک نہیں کہا۔آپ غریبوں،مسکینوں سے شفقت سے پیش آتے تھے۔آپ ان کے جنازوں میں جاتے تھے۔آپ کسی فقیر کو حقیر نہیں سمجھتے تھے۔آپ اپنے ساتھیوں میں خود کو ممتاز نھیں سمجھتے تھے۔آپ وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔آپ امانت دار تھے۔آپ کی طبیعت میں نرمی تھی۔آپ کشادہ دل تھے۔
آپ ھر نعمت کا شکر ادا کرتے تھے۔آپ ساتھیوں کو جوڑتے تھےآپ اپنے ساتھیوں کی خبر گیری رکھتے۔ آپ اچھی چیز کی تعریف کرتے بری چیز کو برا سمجھتے تھے۔آپ اٹھتے بیٹھتے اللہ کاذکر اور شکر کرتے تھے۔آپ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے یا کرا دیتے تھے۔آپ سب سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔آپ لوگوں سے ھمدردی کرتے تھے۔آپ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرتے تھے۔آپ سچے تھے۔آ پ حاجت مندوں کو نوازتے تھے۔آپ اجنبی کا بھی استقبال کرتے۔اور میہمان نوازی کرتے۔آپ کے چہرے پر بشاشت رہتی تھی۔آپ ھمیشہ پاک صاف رھتے تھے۔آپ کسی کی مذمّت یا چغلی، نہیں کرتے تھے۔آپ ھمیشہ بھلائی کی بات کرتے تھے۔آپ احسان کا بدلہ احسان سے دیتے تھے۔ آپ کسی بھی قسم کا نشہ ہیں
کرتے تھے۔ آپ چھو ٹے سے حجرے میں رھتے تھے،جس کا ثبوت روضہئ رسول،دنیا کے سامنے موجود ھے۔ھمیں سب کو رسول پاک کے اخلاق حسنہ کی پیروی کر نی چا ھئیے تا کہ یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے.آخیر میں چند احادیث برائے خود احتسابی درج ہیں :رسول پاک نے فرمایا،اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ ھے،جو اپنے ماتحتوں پر نرمی برتتا ھے۔غلط فیصلے دینے والے قاضی(جج) کو آگ کا سامنا ھوگا۔آپ نے فرمایا، "بیماروں کی عیادت کرو،بھوکے کو کھانا کھلاو¿،غلا م کو آزاد کرو۔” ” تم میں سب سے اچھا،وہ ھے،جو اپنی بیوی پر رحم دل ھے اوراس سے نرمی سے پیش آتا ھے۔” ” اگر تم قرآن اور میری سنتوں پر عمل کرتے رھو گےتو کبھی نہیں بھٹکو گے۔” "علم حاصل کرنا ،ھر مسلمان مرد و عورت پر لازم ھے”۔”مھد (پنگھوڑے) سے لےکر لہد تک علم حاصل کرو”۔”جو چھپ کر خیرات دیتا ھے،بروز قیامت،عرش الٰہی کے سائے تلے ھو گا۔” "ایمان تب تک مکمل نھیں ھو سکتا،جب تک،تم اپنے بھائی کے لئیے وہ نہ چاھوجو اپنے لئے پسند کرتے ھو” ” سب سب سے بہترین جگہ،مسجد ھے”۔اللہ کاذکر ،ایک نعمت ھے””کھانا،شروع کرنے سے قبل،بسم اللہ پڑھیں،اورکھا لینے کے بعد،شکر الحمد اللہ کہیں””جس نے صلات چھوڑ دی، اس نے کفر کیا””طہارت اور پاکیزگی نصف ایمان ھے”مسلمانوں وہ ھے،جس کی زبان و ھاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رھیں۔””تمھاری شرافت وعزت، تمھارے تقوا میں ھے””لوگوں میں سب زیادہ عزت والا وہ ھے،جو سب سے زیادہ،الللہ سےڈرنے والا ہے”۔”لوگوں میں اچھا وہ ھے جو دوسروں کو(جائز) فائیدہ پہنچاتاھے۔””لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آوئ "”دوسروں پر جھوٹ باندھنے والا،جنت میں داخل نہ ھو گا””خاندانی شرافت ،اعمال سے ھے۔”نیکی کی راہ نمائی کرنے والا،نیکی کرنے والے کی طرح ھے۔””جماعت میں برکت ھے۔””تم جماعت کے ساتھ رھو””دوسروں سے نفرت مت کرو”۔”روزہ،گناھوں کی ڈھال ھے””زکات،دیتے رھو”۔”بات چیت کرنے سے پہلے، سلام کیا کرو۔””جنت سخی لوگوں کا گھر ھے۔””عمل میں اخلاص پیداکرو””سچائی کو اپنے پرلازم کر لو””امانت داری میں عزت ھے”.(جاری)






