وہ بچے جو علاج کیلئے آئے تھے،جلنے کیلئے نہیں،پمز کا سانحہ اور ہمارے نظام کے ضمیر پر دستک
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز—پمز—کی نرسری میں 26 اگست کی صبح جو کچھ ہوا، اسے محض ”آتش زدگی کا ایک واقعہ“ لکھ دینا ان ننھی جانوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی۔ یہ آگ صرف ایک نرسری میں نہیں لگی، اس نے کئی ماو¿ں کی گود، کئی باپوں کے خواب اور کئی خاندانوں کی امیدیں جلا کر راکھ کر دیں۔ وہ نومولود جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک طرح دیکھا بھی نہیں تھا جن کی آنکھوں نے شاید اپنی ماں کا چہرہ بھی پوری طرح نہیں پہچانا تھا، جن کی ننھی انگلیاں کسی بڑے کی انگلی تھامنے کے قابل بھی مشکل سے ہوئی تھیں، وہ ایک ایسی جگہ زندگی کی جنگ ہار گئے جہاں انہیں زندگی دینے اور بچانے کے لیے لایا گیا تھا۔ذرائع ابلاغ میں جاں بحق بچوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعداد سامنے آئے۔ بعض اطلاعات میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت بتائی گئی جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق 15 میں سے ایک بچے کو بچا لیا گیا اور 14 جانیں ضائع ہوئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم چودہ اور پندرہ کے ہندسوں میں کیوں الجھیں. کیا ایک نومولود بچے کا بھی اس طرح دنیا سے چلے جانا کسی زندہ اور مہذب معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی نہیں .ہر عدد کے پیچھے ایک بچہ تھا، ایک ماں تھی، ایک باپ تھا ایک گھر تھا اور وہ خواب تھے جو اس ننھی جان کے ساتھ وابستہ ہوچکے تھے۔ذرا ان ماو¿ں کے بارے میں سوچیے جنہوں نے چند گھنٹے یا چند دن پہلے اپنے بچوں کو جنم دیا ہوگا۔ دردِ زہ کی تکلیف سہنے کے بعد جب انہیں بتایا گیا ہوگا کہ بچہ نرسری میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی نگرانی میں ہے تو انہوں نے شاید سکون کا سانس لیا ہوگا۔ کسی نے اپنے بیٹے کا نام سوچ رکھا ہوگا، کسی نے اپنی بیٹی کے لیے ننھا سا لباس خریدا ہوگا، کسی باپ نے خوشی سے عزیزوں کو فون کیا ہوگا کہ ہمارے گھر ایک نیا مہمان آیا ہے۔ کہیں دادا دادی دعائیں مانگ رہے ہوں گے اور کہیں نانا نانی بچے کے گھر آنے کی تیاریاں کررہے ہوں گے۔ شاید کسی گھر میں ایک ننھا سا جھولا رکھا تھا، الماری میں چھوٹی چھوٹی جرابیں، ٹوپی، کپڑے اور وہ کمبل تہہ کیا ہوا تھا جس میں بچے کو ہسپتال سے گھر لایا جانا تھا۔ لیکن وہ بچہ گھر نہ آسکا۔ وہ کپڑے وہیں رہ گئے، جھولا خالی رہ گیا اور ایک گھر کی خوشیوں پر ایسا ماتم اتر آیا جسے شاید وقت بھی مکمل طور پر نہ مٹا سکے۔سوچیے اس ماں پر کیا گزری ہوگی جسے یہ بتایا گیا ہوگا کہ جس بچے کو اس نے نو ماہ اپنے وجود میں سنبھالا، جس کی پہلی حرکت محسوس کرکے مسکرائی، جس کے لیے راتوں کو جاگ کر دعائیں مانگیں، جسے چند لمحوں کے لیے ہسپتال کے محفوظ ہاتھوں کے حوالے کیا تھا، اب وہ واپس نہیں آئے گا۔ یہ صرف ایک بچے کی موت نہیں ہوتی، ماں کے وجود کا ایک حصہ اس کے ساتھ دفن ہوجاتا ہے۔ ان ماو¿ں کے دلوں میں شاید ساری زندگی ایک ہی سوال گونجتا رہے گا: ”میرا بچہ ہسپتال میں محفوظ کیوں نہیں تھا؟“ اور اس سوال کا جواب صرف خاندانوں کو نہیں بلکہ ریاست اور پورے نظام کو دینا ہوگا۔ابتدائی اطلاعات میں آگ کی ممکنہ وجہ ایئرکنڈیشننگ یونٹ یا کمپریسر میں خرابی اور شارٹ سرکٹ بتائی گئی۔ تحقیقات سے اصل وجہ سامنے آئے گی، مگر اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی۔ زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد ہمارے حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟ فائر الارم کہاں تھا، اسموک ڈیٹیکٹر کس حالت میں تھے، فائر فائٹنگ سسٹم کتنی جلدی فعال ہوا، ہنگامی راستے کس حد تک قابلِ رسائی تھے اور آگ اور دھواں پھیلنے کے ابتدائی چند منٹوں میں ان بے بس بچوں کو فوری طور پر منتقل کرنے کا مو¿ثر نظام کیوں موجود نہ تھا؟ہسپتال کی نرسری کوئی عام کمرہ نہیں ہوتی۔ یہاں وہ بچے ہوتے ہیں جو پہلے ہی کمزور، بیمار یا انتہائی نگہداشت کے محتاج ہوتے ہیں۔ وہ آگ دیکھ کر بھاگ نہیں سکتے، دروازہ نہیں کھول سکتے، کھڑکی توڑ نہیں سکتے، کسی کو فون نہیں کرسکتے اور نہ ہی اپنی جان بچانے کے لیے کوئی تدبیر کرسکتے ہیں۔ شاید وہ اتنا بھی نہ کہہ سکیں کہ ”مجھے بچا لو۔“ ان کی حفاظت سو فیصد ان ہاتھوں کی ذمہ داری ہوتی ہے جن کے حوالے والدین انہیں کرتے ہیں۔ اسی لیے نرسری، این آئی سی یو، آئی سی یو، آپریشن تھیٹر اور زچہ و بچہ وارڈ میں فعال فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر، محفوظ برقی نظام، آگ بجھانے کے آلات اور قابلِ استعمال ہنگامی راستے محض کاغذی تقاضے نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان آخری دیوار ہوتے ہیں۔رپورٹس میں ہنگامی راستوں تک رسائی کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ بعض عینی شاہدین نے بند راستوں کی شکایت کی جبکہ انتظامیہ کی طرف سے محدود رسائی کو بچوں کی چوری روکنے کے حفاظتی انتظامات سے جوڑا گیا۔ امدادی کارروائی کے دوران بعض مقامات پر کھڑکیوں اور گرِلوں کے ذریعے اندر پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اگر ایسا تھا تو ہمیں ایک بنیادی اصول ہمیشہ کے لیے سمجھنا ہوگا کہ وہ سکیورٹی جو کسی ہنگامی صورتِ حال میں انسانی جان بچانے کے راستے میں رکاوٹ بن جائے، سکیورٹی نہیں رہتی بلکہ خود ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ بچوں کی چوری روکنا یقیناً ضروری ہے، مگر ایسا نظام کیوں نہ ہو جو عام حالات میں محفوظ اور کسی ایمرجنسی میں فوری طور پر کھل سکے؟سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کا حکم دیا، وفاقی سیکرٹری صحت کی معطلی کی خبر سامنے آئی اور ذمہ داروں کے تعین کا وعدہ بھی کیا گیا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی جانب سے تحقیقات اور ضرورت پڑنے پر مزید اعلیٰ سطحی انکوائری کی بات بھی کی گئی۔ مگر پاکستان کے عوام ”تحقیقاتی کمیٹی“ کا جملہ اتنی مرتبہ سن چکے ہیں کہ اب محض اس لفظ سے دل کو تسلی نہیں ہوتی۔ ہر بڑے سانحے کے بعد ایک کمیٹی بنتی ہے، چند افسر معطل ہوتے ہیں، وزرا موقع پر پہنچتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں بیانات جاری ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔ پھر چند دن گزرتے ہیں، کوئی نیا واقعہ میڈیا کی توجہ حاصل کرلیتا ہے اور پہلی تحقیقاتی رپورٹ کسی سرکاری الماری میں فائلوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔لیکن جس ماں کا بچہ چلا جاتا ہے، اس کے گھر سے سانحہ کبھی نہیں جاتا۔ وہاں ایک خالی جھولا رہ جاتا ہے چند ننھے کپڑے رہ جاتے ہیں، ایک تصویر رہ جاتی ہے، شاید ہسپتال کا کوئی کاغذ رہ جاتا ہے اور سینے میں ایسا زخم رہ جاتا ہے جس پر کوئی تحقیقاتی کمیٹی مرہم نہیں رکھ سکتی۔ دنیا کے لیے وہ ایک خبر ہوتی ہے، ماں کے لیے پوری دنیا کا خاتمہ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہسپتال سانحہ بھی نہیں۔ جون 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا تھا اور پاکستان میں طبی مراکز میں آتش زدگی اور حفاظتی خامیوں کے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم ہر سانحے کے بعد واقعی سبق سیکھتے ہیں تو پھر تاریخ خود کو بار بار کیوں دہراتی ہے اگر گزشتہ حادثات کی تحقیقات کے نتیجے میں ملک بھر کے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات ٹھیک کردیے جاتے تو شاید آج ہمیں پمز کی نرسری کے باہر کھڑے ہوکر یہ سوال نہ پوچھنا پڑتا۔پمز پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کا ایک بڑا سرکاری طبی ادارہ ہے۔ اگر اسلام آباد کے ایک اہم ہسپتال کی انتہائی حساس نرسری میں ایسا سانحہ رونما ہوسکتا ہے تو چھوٹے شہروں، تحصیلوں اور دور دراز علاقوں کے ہسپتالوں کے بارے میں سوچ کر خوف آتا ہے۔ کتنے ہسپتال ایسے ہیں جہاں پرانی وائرنگ برسوں سے تبدیل نہیں ہوئی؟ کتنے وارڈوں میں فائر الارم صرف دیوار کی زینت بنے ہوئے ہیں؟ کتنے ہنگامی راستوں کے سامنے سامان رکھا ہے یا انہیں تالے لگے ہیں اور کتنے ملازمین ایسے ہیں جنہوں نے کبھی باقاعدہ فائر ڈرل میں حصہ ہی نہیں لیا.اس لیے اب صرف پمز کی انکوائری کافی نہیں۔ پاکستان کے ہر سرکاری اور نجی ہسپتال، بالخصوص این آئی سی یو، آئی سی یو، نرسری، آپریشن تھیٹر اور زچہ و بچہ وارڈ کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے۔ برقی وائرنگ، ایئرکنڈیشننگ سسٹم، فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر، آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی راستوں کی تکنیکی جانچ لازمی قرار دی جائے۔ ہنگامی دروازوں کو اس طرح بند رکھنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ کسی حادثے کی صورت میں انہیں کھولنے کے لیے قیمتی منٹ ضائع ہوں۔ عملے کو باقاعدہ تربیت دی جائے اور وقفے وقفے سے فائر ڈرل کروائی جائے تاکہ ڈاکٹر، نرس، وارڈ بوائے اور سکیورٹی اہلکار سب جانتے ہوں کہ آگ لگنے کے پہلے چند منٹوں میں کیا کرنا ہے، کیونکہ آگ میں زندگی اور موت کا فیصلہ بعض اوقات گھنٹوں نہیں بلکہ چند سیکنڈوں میں ہوجاتا ہے۔اس سے بھی اہم چیز جوابدہی ہے۔ اگر تحقیقات میں کسی افسر، ہسپتال منتظم، انجینئر، ٹھیکیدار یا کسی اور ذمہ دار کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو کارروائی صرف معطلی، تبادلے یا شوکاز نوٹس تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انسانی جان کی قیمت ایک سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی شخص اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا ہے تو قانون کو پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آنا چاہیے تاکہ آئندہ کسی ادارے میں کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ غفلت کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک تبادلہ یا چند ماہ کی معطلی اس کا مقدر ہوگی۔ہمیں اپنے اجتماعی رویے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہمارے ہاں حادثے کے بعد اکثر اسے ”قسمت“ کہہ کر قبول کرلیا جاتا ہے۔ قسمت پر ایمان اپنی جگہ مگر خراب وائرنگ قسمت نہیں، غیر فعال فائر الارم قسمت نہیں، ناقص حفاظتی انتظامات قسمت نہیں، بند ہنگامی راستہ قسمت نہیں اور بار بار ہونے والے حادثات کے باوجود نظام کو درست نہ کرنا بھی قسمت نہیں۔ یہ انسانی غفلت ہے اور جہاں انسانی غفلت انسانی جان لے لے وہاں جوابدہی ضروری ہوجاتی ہے۔میں سوچتی ہوں ان ننھے بچوں کے کفن کتنے چھوٹے ہوں گے۔ جس بچے کو ابھی رنگ برنگے کپڑے پہننے تھے، اسے سفید کفن پہنادیا گیا۔ جس کے قدموں نے ابھی زمین پر چلنا بھی نہیں سیکھا تھا اسے قبر تک پہنچادیا گیا۔ جس نے ابھی ”ماں“ کہنا نہیں سیکھا تھا آج اس کی ماں شاید اس کا نام لے لے کر رو رہی ہوگی۔ شاید کسی گھر میں وہ جھولا اب بھی رکھا ہے جسے ایک ماں دیکھنے کی ہمت نہیں کرپارہی۔ شاید کوئی ننھی سی ٹوپی، جرابوں کا جوڑا یا دودھ کی بوتل کسی الماری میں پڑی ہے اور ہر بار اسے دیکھ کر گھر والوں کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔پمز کے ان ننھے بچوں کے کفن بہت چھوٹے ہوں گے لیکن انہوں نے ہمارے نظام، حکومت اور اجتماعی ضمیر کے سامنے بہت بڑا سوال رکھ دیا ہے۔ کیا ہم اس سانحے کو بھی چند تعزیتی بیانات، ایک تحقیقاتی کمیٹی، چند معطلیوں اور چند دن کی خبروں کے بعد بھول جائیں گے یا اس مرتبہ واقعی ایسا نظام بنائیں گے جس میں کسی ماں کو ہسپتال کے دروازے پر کھڑے ہوکر یہ فریاد نہ کرنا پڑے کہ ”میں نے اپنا بچہ علاج کے لیے دیا تھا جلنے کے لیے نہیں۔“ان معصوم جانوں کو ہم واپس نہیں لاسکتے، لیکن ان کی موت کو بے معنی ہونے سے ضرور بچا سکتے ہیں۔ اگر اس سانحے کے بعد پاکستان کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے نظام بدل جاتے ہیں، ہنگامی راستے کھل جاتے ہیں، الارم فعال ہوجاتے ہیں، عملے کو تربیت ملتی ہے اور غفلت کے ذمہ داروں سے حقیقی حساب لیا جاتا ہے تو شاید آئندہ کسی ایک ماں کی گود اجڑنے سے بچ سکے۔ یہی ان ننھی جانوں کو ہمارا سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔ورنہ اگلی آگ جب بھڑکے گی، دھواں پھر کسی وارڈ کو بھر دے گا اور کسی ماں کی چیخ پھر ہسپتال کی دیواروں سے ٹکرائے گی، تو ہم ایک مرتبہ پھر وہی پرانا سوال پوچھ رہے ہوں گے: آخر ذمہ دار کون ہے؟ اور شاید اس سوال کا جواب کسی ایک افسر یا ایک ادارے میں نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام اور اجتماعی ضمیر میں چھپا ہوا ہے۔






