#کالم

14اگست، وہ پاکستان جس کی تعمیر ابھی باقی ہے

Untitlfgfdgfged 1

ڈاکٹر ذاکر اللہ خان

ہر سال 14 اگست کو پاکستان سبز و سفید پرچموں، ملی نغموں، قومی ترانوں اور تقریبات کے ساتھ اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے۔ عمارتیں چراغاں سے جگمگاتی ہیں، بچے سبز و سفید لباس پہنتے ہیں اور تقاریر میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یومِ آزادی محض ماضی کی ایک عظیم کامیابی کا جشن نہیں؛ یہ اس سوال پر غور کرنے کا دن بھی ہے کہ ہمیں جو پاکستان ورثے میں ملا، ہم نے اسے کس حد تک اس منزل تک پہنچایا جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ یہ ایک ایسی تحریک کی کامیابی تھی جس کے پیچھے سیاسی تحفظ، اجتماعی شناخت، سماجی انصاف، انسانی وقار اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کی خواہش کارفرما تھی۔ تقریباً آٹھ دہائیوں بعد پاکستان ایک بڑی آبادی، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، مضبوط دفاعی صلاحیت، ایٹمی قوت، نوجوان افرادی قوت اور بے پناہ انسانی صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے ابتدائی تصورات اور آج کی زمینی حقیقتوں کے درمیان موجود فاصلہ ایک سنجیدہ قومی سوال بن چکا ہے۔یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا قومی خامیوں پر خاموشی اختیار کرنا ہے۔ حقیقی حب الوطنی اپنے مسائل کی نشاندہی کرنے، کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کوشش کا نام ہے۔ کوئی قوم اپنی خامیوں سے انکار کرکے مضبوط نہیں ہوسکتی، اور نہ ہی مسلسل مایوسی اسے ترقی کی راہ پر لے جاسکتی ہے۔ 2026 میں پاکستان کو اسی لیے دو انتہاو¿ں سے بچنے کی ضرورت ہے: ایک طرف غیر حقیقی خود ستائی اور دوسری طرف تباہ کن مایوسی۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ ادارہ جاتی عدم استحکام، سیاسی محاذ آرائی اور اقتدار کی شخصی سیاست نے قومی ترقی کو بارہا متاثر کیا۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے، آئینی ترامیم ہوتی رہیں اور مختلف ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی حدود پر بحث جاری رہی۔ نتیجتاً ہماری سیاسی ثقافت میں کئی مرتبہ اقتدار کا حصول اداروں کو مضبوط بنانے سے زیادہ اہم دکھائی دیا۔ایک متنوع وفاق کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر اپنی الگ تاریخی، ثقافتی اور سیاسی شناخت رکھتے ہیں۔ قومی یکجہتی انتظامی یکسانیت مسلط کرکے پیدا نہیں کی جاسکتی۔ اس کے لیے انصاف، مساوی نمائندگی، آئین کی بالادستی اور مواقع کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی اور سماجی کشیدگی بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ قومی اتحاد صرف نعروں سے قائم نہیں رہتا۔ سیاسی نمائندگی، معاشی مواقع، عوامی سہولیات اور حکمرانی سے متعلق شکایات جب طویل عرصے تک نظر انداز ہوں تو وہ وسیع تر سیاسی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوری اور انتخابی عمل یہ راستہ بھی فراہم کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ادارہ جاتی طریقے سے حل کیا جائے۔اس تناظر میں پاکستان کے لیے بنیادی سبق یہی ہے کہ وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب شہریوں کو یقین ہو کہ ریاستی ادارے ان کی بات سنتے ہیں۔پاکستان کی شناخت میں مذہب ایک بنیادی اور اہم عنصر ہے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی شعور سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ تاہم اسلام کو محض قومی نعروں، مذہبی حوالوں یا رسمی تقریبات تک محدود کرنا اس کی اصل روح کو محدود کردینا ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات عدل، دیانت، امانت، مساوات، رحم، انسانی وقار اور جواب دہی پر زور دیتی ہیں۔قرآن مجید کا تصورِ امت بھی محض جذباتی یکجہتی کا نام نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی عدل کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک اسلامی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کامیاب نہیں سمجھا جاسکتا کہ اس میں مذہبی علامات نمایاں ہوں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کمزور کو انصاف مل رہا ہے؟ کیا قومی وسائل امانت سمجھ کر استعمال کیے جارہے ہیں؟ کیا طاقتور قانون کے سامنے جواب دہ ہے؟ کیا غریب کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہیں؟ اور کیا اقلیتیں عزت، تحفظ اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں؟پاکستان کا آئینی نظام بھی مذہبی اقدار اور جمہوری اصولوں کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قراردادِ مقاصد میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کو بنیادی اصولوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جبکہ اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر آزادانہ عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو فروغ دینے کے حقوق بھی تسلیم کیے گئے ہیں۔یہ توازن اس لیے اہم ہے کہ مذہبی شناخت اور شہری حقوق کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ایک مضبوط اسلامی ریاست اپنی مذہبی شناخت ثابت کرنے کے لیے امتیاز کی محتاج نہیں ہوتی؛ وہ اپنے کردار سے انصاف ثابت کرتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کسی پر احسان نہیں بلکہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔پاکستان کا سماجی بحران بھی سیاسی بحران سے کم پیچیدہ نہیں۔ لاکھوں پاکستانی آج بھی غیر معمولی محنت، صلاحیت، کاروباری ذہانت اور اجتماعی سخاوت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی ماہرین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جبکہ ملک کے اندر عام شہری بھی مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی مثالیں قائم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود غربت، بے روزگاری، تعلیمی عدم مساوات، آبادی میں اضافہ، مہنگائی، صحت کی سہولیات میں فرق اور معاشی مواقع کی غیر مساوی تقسیم قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کررہی ہے۔پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے معدنی ذخائر، جغرافیائی محلِ وقوع یا دفاعی صلاحیت سے بھی بڑھ کر اس کے عوام ہیں۔ نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ایسا تعلیمی نظام برداشت نہیں کرسکتا جو صرف ڈگریاں اور اسناد تقسیم کرے۔ پاکستان کو ایسے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو تنقیدی سوچ رکھنے والے طلبہ، سائنس دان، محققین، ہنرمند کارکن، کاروباری افراد، اخلاقی قیادت اور ذمہ دار شہری پیدا کرے۔مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی دنیا کے معاشی اور پیشہ ورانہ ڈھانچے کو تیزی سے تبدیل کررہی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم، تحقیق، فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور اختراع کو قومی ترجیحات میں شامل کرے۔ مستقبل کی معیشت صرف روایتی ملازمتوں سے نہیں چلے گی؛ ہمیں اپنے نوجوانوں کو عالمی مسابقت کے لیے تیار کرنا ہوگا۔خواتین اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھی قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں لانا ناگزیر ہے۔ کوئی ملک اس وقت تک حقیقی ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کی انسانی صلاحیت کا بڑا حصہ پوری طرح بروئے کار نہ آئے۔ پاکستان کی مستقبل کی معاشی مسابقت کا انحصار تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، ہنرمندی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی جامع شرکت پر ہوگا۔پاکستان کی آزادی کا ایک اہم پہلو اس کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار بھی ہے۔ چین، سعودی عرب، ترکیہ، خلیجی ممالک، امریکہ، یورپ، افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پاکستان کے پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد بالآخر مضبوط داخلی ریاست ہوتی ہے۔ معاشی استحکام، سیاسی ساکھ، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی تسلسل کسی بھی عارضی جغرافیائی سیاسی اتحاد سے زیادہ پائیدار سفارتی قوت فراہم کرتے ہیں۔اسی لیے قومی سلامتی کا تصور بھی وسیع ہونا چاہیے۔ محفوظ پاکستان صرف وہ نہیں جس کی سرحدیں مضبوط ہوں اور دفاعی ادارے مو¿ثر ہوں۔ محفوظ پاکستان وہ بھی ہے جہاں ایک بچے کو معیاری تعلیم میسر ہو، نوجوان کو باعزت روزگار مل سکے، کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل ہو، صنعت کار کے لیے کاروباری ماحول قابلِ پیش گوئی ہو، انصاف عام شہری کی پہنچ میں ہو اور اختلافِ رائے دشمنی میں تبدیل نہ ہو۔یہی وہ مقام ہے جہاں 14 اگست کا پیغام زیادہ سنجیدہ اور ذمہ دارانہ بن جاتا ہے۔ آزادی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ مسلسل قومی ذمہ داری ہے۔قومی پرچم سیاست دانوں کو آئینی ذمہ داری، انتظامیہ کو عوامی جواب دہی، اساتذہ کو نسلوں کی تربیت، صحافیوں کو ذمہ دارانہ ابلاغ، علمائ کو عدل و برداشت کے فروغ، کاروباری طبقے کو اخلاقی معاشی ترقی اور عام شہری کو اپنے کردار اور ذمہ داری کا احساس دلانا چاہیے۔پاکستان کو ایسی نسل کی ضرورت نہیں جو صرف حب الوطنی کے نعرے یاد کرے؛ اسے ایسی نسل درکار ہے جو یہ سمجھے کہ شہری ہونے کا مطلب کیا ہے اور پاکستان کیوں قائم کیا گیا تھا۔اصل المیہ یہ نہیں کہ پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک مسائل سے پاک نہیں۔ اصل المیہ اس وقت ہوگا جب پاکستان کے پاس ان مسائل پر قابو پانے کے لیے انسانی صلاحیت، جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل اور فکری قوت موجود ہو، لیکن ہم تقسیم، ادارہ جاتی عدم اعتماد اور قلیل المدتی مفادات کے دائرے سے باہر نہ نکل سکیں۔14 اگست 2026 کو ہمیں پاکستان کی آزادی کا جشن ضرور منانا چاہیے، لیکن جشن کے ساتھ احتساب بھی ہونا چاہیے۔ 1947 کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے تاریخ کو صرف ماضی کی یادگار نہیں بنانا چاہیے۔ قائداعظم محمد علی جناح? کو خراجِ عقیدت صرف ان کی تصاویر آویزاں کرکے یا تقریریں کرکے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے تصورِ ریاست، آئین کی بالادستی، اتحاد، نظم و ضبط، جمہوری نمائندگی اور مساوی شہریت کو عملی زندگی میں جگہ دینا ہی حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔پاکستان کا مستقبل صرف پرچموں سے نہیں بنے گا۔ یہ مستقبل کلاس رومز، جامعات، لیبارٹریوں، عدالتوں، کھیتوں، کارخانوں، پارلیمان، نیوز رومز اور گھروں میں تشکیل پائے گا۔ یہ اس وقت تشکیل پائے گا جب ایک شہری بدعنوانی کے مقابلے میں دیانت، نفرت کے مقابلے میں مکالمہ، سفارش کے مقابلے میں اہلیت اور ذاتی مفاد کے مقابلے میں قومی مفاد کا انتخاب کرے گا۔آزادی کا سب سے بڑا جشن یہی ہے کہ پاکستان زیادہ منصفانہ، زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ خوشحال، زیادہ جمہوری، زیادہ برداشت کرنے والا اور زیادہ متحد ملک بنے۔آزادی کے 79 برس بعد سوال یہ نہیں کہ پاکستان زندہ ہے یا نہیں۔ پاکستان زندہ ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس پاکستان کی تعمیر کے لیے تیار ہیں جس کے قیام کے لیے ہماری پچھلی نسلوں نے قربانیاں دی تھیں؟

14اگست، وہ پاکستان جس کی تعمیر ابھی باقی ہے

14/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے