ڈاکٹر نگہت خورشید: بچوں کے ادب کی معمار
سید محمد اصغر کاظمی
بچوں کا ادب کسی بھی معاشرے کے مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بچپن انسان کی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جب اس کی سوچ، تخیل، عادات اور شخصیت کے بنیادی خدوخال تشکیل پاتے ہیں۔ ایک حساس اور باشعور ادیب جب بچوں کے لیے قلم اٹھاتا ہے تو وہ صرف کہانی یا نظم تخلیق نہیں کرتا بلکہ نئی نسل کے ذہنوں میں علم، اخلاق، تخیل اور شعور کے چراغ روشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر نگہت خورشید کی ادبی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت اور قابلِ قدر پہلو بچوں کے ادب سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ڈاکٹر نگہت خورشید کا تخلیقی سفر بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ ابتدائی عمر ہی سے انہیں لکھنے، تخلیق کرنے اور نئے نئے تجربات کرنے کا شوق تھا۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ مختصر ڈرامے اور اسکرپٹ لکھتی تھیں، اپنی ساتھی طالبات کے ساتھ انہیں پیش کرتی تھیں اور خود ان کی رہنمائی بھی کرتی تھیں۔ یہ تخلیقی سرگرمیاں اس بات کا اظہار تھیں کہ ان کے اندر ایک حساس تخلیق کار ابتدا ہی سے موجود تھا، جو آگے چل کر ادب کے مختلف میدانوں میں نمایاں ہوا۔بچوں کے ادب سے ان کا تعلق محض ایک ادیبہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ہے جو بچوں کی نفسیات اور ان کی ضرورتوں کو سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک بچوں کے لیے لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ بچوں کے ذہن نہایت پاکیزہ اور اثر قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ ان کی تحریروں میں تفریح کے ساتھ ساتھ تربیت، علم اور مثبت سوچ کے عناصر بھی شامل ہوں۔ڈاکٹر نگہت خورشید نے بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں اور اپنی پہلی کتاب بھی بچوں کے ادب کے حوالے سے پیش کی۔ اس کتاب کو ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی اور ان کی اس ابتدائی ادبی کاوش کو مسعود خدر پوش ٹرسٹ کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف تھا کہ انہوں نے بچوں کے ادب میں ایک منفرد اور تخلیقی انداز کے ساتھ قدم رکھا۔ان کی بچوں کے لیے لکھی گئی تحریروں میں سادگی، محبت اور مقصدیت نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ بچوں کے ادب میں ایسا اسلوب ضروری ہے جو بچے کی سمجھ کے قریب ہو اور اس کے اندر تجسس پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں آسان الفاظ، شگفتہ انداز اور تربیتی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر نگہت خورشید نے بچوں کی نظموں کے ذریعے بھی اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بچوں کو رنگوں کی پہچان، گنتی، پہاڑے اور مختلف بنیادی معلومات کو شاعرانہ انداز میں سمجھانے کی کوشش کی، تاکہ تعلیم بچوں کے لیے بوجھ نہ بنے بلکہ ایک خوشگوار تجربہ بن جائے۔ ان کی نظموں میں بچوں کی عمر، ذہنی سطح اور دلچسپیوں کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ان کی ادبی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے بچوں کو اپنی زبان اور ثقافت سے جوڑنے کی کوشش کی۔ پنجابی زبان و ادب سے گہری وابستگی رکھنے کی وجہ سے انہوں نے بچوں کے لیے ایسی تخلیقات پیش کیں جن میں پنجابی ثقافت، روایات اور تہذیبی اقدار کی جھلک ملتی ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ نئی نسل جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیبی شناخت سے بھی وابستہ رہے۔ڈاکٹر نگہت خورشید نے بچوں کے لیے دینی اور اخلاقی موضوعات پر بھی کام کیا۔ آسان زبان میں اچھی باتوں، اخلاقی اقدار اور دینی تعلیمات کو بچوں تک پہنچانے کی ان کی کوشش قابلِ تحسین ہے۔ وہ ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ڈاکٹر نگہت خورشید کے بچوں کے ادب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بچوں کے معصوم جذبات، خوابوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو اہمیت دیتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بچے صرف معلومات کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ انہیں ایسے ادب کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے اندر سوال کرنے، سوچنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ اسی مقصد کے تحت ان کی تحریروں میں زندگی کے مثبت پہلو، امید، محنت، محبت اور اچھے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ان کی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے بچوں کو کتاب اور مطالعے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ موجودہ دور میں جب بچوں کی دلچسپیاں مختلف ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہیں، ایسے میں معیاری بچوں کا ادب تخلیق کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر نگہت خورشید نے اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں کے لیے ایسا ادبی سرمایہ فراہم کرنے کی کوشش کی جس میں تفریح کے ساتھ علم، تہذیب اور تربیت کے عناصر بھی شامل ہوں۔ایک استاد کی حیثیت سے ڈاکٹر نگہت خورشید کو بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ یہی تجربہ ان کے بچوں کے ادب کو حقیقت سے قریب اور مو¿ثر بناتا ہے۔ انہوں نے اپنی تدریسی بصیرت اور ادبی صلاحیت کو یکجا کر کے بچوں کے لیے ایسا ادب تخلیق کیا جو ان کی شخصیت سازی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔بچوں کے ادب میں اصل کامیابی یہ ہے کہ لکھنے والا بچے کے دل تک پہنچ جائے۔ ڈاکٹر نگہت خورشید کی تحریروں میں یہی خوبی نمایاں ہے کہ وہ بچوں کو محض قاری نہیں سمجھتیں بلکہ انہیں مستقبل کا معمار تصور کرتی ہیں۔ اسی لیے ان کا قلم بچوں کے لیے محبت، تربیت اور امید کا پیغام لے کر آتا ہے۔ڈاکٹر نگہت خورشید کی بچوں کے ادب کے لیے خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ادب کو نسلوں کی تعمیر کا وسیلہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ننھے ذہنوں میں تخیل کی پرواز، علم کی جستجو اور اخلاقی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔یوں ڈاکٹر نگہت خورشید صرف بچوں کے لیے لکھنے والی ادیبہ نہیں بلکہ بچوں کے ادب کی معمار ہیں، جنہوں نے اپنی محبت، محنت اور تخلیقی صلاحیتوں سے بچوں کے لیے ادب کی ایک خوبصورت دنیا آباد کی۔ ان کی یہ خدمات اردو اور پنجابی ادب میں ایک قابلِ قدر سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور آنے والی نسلیں ان کی کاوشوں سے یقیناً فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔






