#کالم

آرمی اور سول بیوروکریسی کا فرق

ملک محمد سلمان

ملک سلمان
کینٹ سے گزرتے ہوئے میں نے ایک آرمی آفیسر کو کال کی کہ اگر آفس ہیں تو میں چکر لگاتا ہوں اس نے فوراً سے پہلے خوشی کا اظہار کیا کہ بھائی لازمی تشریف لائیں۔میرا خیال تھا کہ سٹاف کالج ٹاپر ہے اور برگیڈ میجر بھی،بھائی کے ششکے ہوں گے لیکن جیسے ہی ان کے آفس میں داخل ہوا دیکھا کہ میجر صاحب شدید گرمی میں پنکھا لگائے کام میں مصروف تھے۔گرمی کی شدت کے باعث بنا تکلف میں نے کہا کہ بھائی اے سی آن کریں شدید گرمی ہے۔اس نے بتایا کہ بجلی بچاؤ پلان کے تحت برگیڈئیر سے نچلے رینک کے افسران اپنے دفاتر میں اے سی استعمال نہیں کرسکتے۔”ہاں ایک حل ہوسکتا ہے“ یہ کہتے ہوئے اس نے پی ٹی سی ایل کا رسیور اٹھا کر کمانڈر سے اجازت طلب کی کہ ایک دوست ملنے آئے ہیں اور ہم تھوڑی دیر کیلئے ٹی بار جانا چاہتے ہیں۔
مجھے اس کے مقابل بیوکریسی کے مناظر یاد آنے لگے کہ کیسے صاحب کے آنے سے پہلے دفتر کے اے سی آن کردیے جاتے ہیں جبکہ گاڑی میں بیٹھنے سے قبل گاڑی سٹارٹ کرکے اے سی آن کیا جاتا ہے۔
مڈل کلاس شہری کسی سرکاری دفتر چلا جائے تو عجیب عالم ہوتا ہے۔ باہر شدید گرمی ہوتی لیکن سرکاری بابو کے آفس میں کیبنٹ چلر اور سپلٹ اے سی دونوں بیک وقت آن ہوتے ہیں اور کمرے کا ٹمپریچر 16ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، باہر پچاس درجہ حرارت سے آنے والا شدید گرمی میں کاٹن کا سوٹ اس لیے پہنتا ہے کہ گرمی نہ لگے لیکن جب سرکاری بابو کے کمرے میں داخل ہوتا ہے تو منظر یکسر تبدیل ہوتا ہے صاحب نے کوٹ پہنا ہوتا ہے اور”چِل“ کررہے ہوتے ہیں اور ہمیں گرمی میں سردی لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سردیوں میں بھی فیشن الٹ ہی ہوتا ہے۔ہم سخت سردی سے بچاؤ کیلئے جرسیاں،جیکٹ اور کوٹ پہن کر سرکاری دفتر میں چلے جائیں تو وہاں انورٹر 30سے32سینٹی گریڈ پر کمرے کو ہیٹ کر رہے ہوتے ہیں اور شدید سردی میں صاحب ہاف سلیو شرٹ زیب تن کیے انجوائے کررہے ہوتے ہیں۔

آرمی میں پاسنگ آؤٹ انہی کی ہوتی ہے جنہوں نے دوران ٹریننگ گریجوایشن مکمل کی جبکہ میجر رینک میں سٹاف کورس،لاجسٹک سٹاف کورس اور انٹیلیجنس سٹاف کورس کی صورت ماسٹر ڈگری کرنے والے ہی لیفٹننٹ کرنل بن پاتے ہیں۔اسی طرح برگیڈئیر کیلئے وار کورس کی صورت ایم فل کی ڈگری لازم ہے۔جبکہ آرمی کے مقابل بیوروکریسی میں ترقی کیلئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں بس ایک دفعہ سیکنڈ ڈویژن کے ساتھ بی اے پاس کرکے سی ایس پی بن جاؤ پھر ساٹھ سال تک نوکری اور گریڈ بائیس نہیں تو اکیس تو کنفرم مل جاتا ہے۔
گریڈ سترہ کے اسسٹنٹ کمشنر اور اے ایس پی لامحدود اختیارات کے مالک اور ڈالے لیے گھوم رہے ہوتے ہیں ان کے مقابل کپتان کو ملٹی ٹاسک سے فرصت نہیں ہوتی اسی طرح گریڈ اٹھارہ کے میجر کے مقابلے میں گریڈ اٹھارہ کے ہی ڈپٹی کمشنر، اے ڈی سی آر، سی ای او، ایم ڈی، ایس پی اور ڈی پی او کے لامحدود اختیارات اور وسائل کے استعمال کی لمبی داستانیں ہیں۔گریڈ انیس اور بیس کے ڈی آئی جی چار چار جبکہ سیکرٹری صاحبان اور انکی آل اولاد درجن بھر سرکاری گاڑیاں مع پیٹرول اور ڈرائیور لیے پھرتے ہیں اس کے مقابل آرمی افسران سرکاری گاڑی آفیشل کام کے علاوہ باہر نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
ائیر فورس کی افسران ہر وقت ہواؤں میں معلق رہ رہ کر اپنی کمر تڑوا لیتے ہیں جبکہ نیوی کے افسران گہرے پانیوں کے خطرے مول لیکر ہرلمحہ زندگی کو رسک پر لگائے رہتے ہیں۔آرمی افسران سیاچین کی خون جمادینے والی سردی میں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں تو کہیں جسم کو پگھلا دینے والی جان لیوا گرمی میں وطن عزیز کی حفاظت پر معمور ہیں۔
بیوروکریسی میں سب کے کنسیپٹ کلئیر ہیں کہ ایک دفعہ سرکاری نوکری مل گئی تو پھر چاہے جتنی مرضی انکوائیریاں، معطلیاں اور برخاستگیاں ہوں انہوں نے بحال ہو کہ پہلے سے بھی زیادہ دیدہ دلیری اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ دونوں ہاتھوں اور جھولیاں بھر کر مال بنانا ہے۔ آرمی کی بطور ادارہ عزت و وقار اور کامیابی کی وجوہات میں سب سے اہم احتساب اور میرٹ ہے۔آرمی میں سخت محنت سے کمیشن کا امتحان پاس کرنے والے افسران کو سول افسران کی طرح ”عمر پٹہ“ نہیں مل جاتا بلکہ آرمی میں ایک منظم میرٹ اور چیک سسٹم کے تحت قریباً91 فیصد کمیشنڈ افسران کو بطور میجر، لیفٹیننٹ کرنل اور فل کرنل ریٹائرڈ کردیا جاتا ہے، صرف6 فیصد کے قریب بریگیڈئیر جبکہ سارا کیرئیر نیندیں حرام کرنے والے بمشکل 3پرسنٹ جرنیل بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کر پاتے ہیں جبکہ وائلیشن یا کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر سپاہی سے جرنیل تک کو براہ راست گھر بھیج دیا جاتا ہے اور واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہوتا۔
60سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بیوروکریٹ ممبر پی پی ایس سی، ایف پی ایس سی، چیف الیکشن کمشنر، صوبائی اور وفاقی محتسب سمیت درجنوں سیٹوں جبکہ ہر محکمے میں ایم پی سکیل اور سپیشل پروفیشنل پے سکیل پر بیس لاکھ ماہانہ کی خطیر رقم پر آخری سانس تک جونک بن کر چمٹے رہتے ہیں۔ کسی بھی بیوروکریٹ کی پوسٹنگ ہسٹری دیکھ لیں وہ بغیر کسی ٹریننگ اور مہارت کے صحت، تعلیم، قانون، زراعت، ایکسائز، ہاؤسنگ سمیت ساٹھ سے زائد محکموں میں جاسکتا ہے اور جاتا بھی ہے۔
اگر کسی آرمی آفیسر کی کسی سول محکمے میں تعیناتی کی جاتی ہے تو بیوروکریسی طوفان برپا کر دیتی ہے۔سینکڑوں مثالیں ہیں جہاں ریٹائرڈ آرمی افسران نے نقصان والے قومی اداروں کو فائدے میں بدل کر وطن عزیز کو کروڑوں اور اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا۔ آرمی افسران کی تقرری سے تکلیف کی ایک ہی وجہ ہے کہ سول افسران کو باخوبی معلوم ہے کہ آرمی والے نہ تو کرپشن کریں گے اور نہ ہی ہونے دیں گے۔ اس لیے وہ اپنی کرپشن کو بچانے کیلئے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، صحافیوں اور دیگر افراد کے زریعے آرمی مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔

آرمی اور سول بیوروکریسی کا فرق

اللہ دیکھ رہا ہے

آرمی اور سول بیوروکریسی کا فرق

20/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے