#کالم

سرسبز درخت اور محفوظ مستقبل

main usama sadiq

میاں اسامہ صادق

زمین اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جسے انسان کی رہائش، آسائش اور بقا کے لیے پیدا کیا گیا۔ اس زمین کو سرسبز و شاداب رکھنا بھی انسان ہی کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ آج کا انسان ترقی کی دوڑ میں قدرت کے ساتھ ایسا بے رحم سلوک کر رہا ہے جس کے نتائج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، فضائی آلودگی، پانی کی قلت، بے موسم بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ہم نے قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر بروقت اس روش کو نہ بدلا گیا تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا پاکستان ملے گا جہاں صاف ہوا، ٹھنڈا موسم اور پینے کا پانی بھی نایاب ہو جائے گا۔آج پاکستان دنیا کے ا


±ن ممالک میں شامل ہے جو موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہر سال گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں سورج آگ برساتا محسوس ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں درجہ? حرارت پچاس درجے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ شدید گرمی کی لہروں سے بزرگ، بچے اور مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، سڑکوں پر محنت مزدوری کرنے والے افراد اور روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں لوگ اس شدید موسم کا سامنا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر گرمی اس قدر کیوں بڑھ رہی ہے؟اس کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی اندھا دھند کٹائی، جنگلات کا خاتمہ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور کارخانوں کی کثرت، کوڑا کرکٹ کو جلانا اور فضا میں زہریلی گیسوں کا مسلسل اضافہ ہے۔ جب درخت کم ہوتے ہیں تو فضا میں موجود نقصان دہ گیسیں جذب نہیں ہوتیں، جس کے نتیجے میں سورج کی حرارت زمین پر زیادہ دیر تک رہتی ہے اور موسم غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:”خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا، ان اعمال کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائے۔”(سورہ الروم: 41)یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ جب انسان قدرتی نظام میں بے جا مداخلت کرتا ہے تو اس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ آج کا ماحولیاتی بحران اسی قرآنی حقیقت کی زندہ مثال ہے۔فضائی آلودگی آج پاکستان کا ایک نہایت سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بڑے شہروں میں صبح کے وقت فضا گردوغبار، دھوئیں اور زہریلے ذرات سے بھری ہوتی ہے۔ سانس کی بیماریاں، دمہ، الرجی، دل کے امراض اور آنکھوں کی تکالیف میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بچے کھلی فضا میں کھیلنے سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ بزرگ آلودہ ہوا کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ صاف ہوا انسان کا بنیادی حق ہے، مگر ہم خود اپنے ہاتھوں سے اس نعمت کو ختم کرتے جا رہے ہیں۔درخت قدرت کا وہ خاموش سپاہی ہیں جو دن رات انسان کی خدمت کرتے ہیں۔ وہ زہریلی گیسوں کو جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں، گردوغبار کو روکتے ہیں، گرمی کم کرتے ہیں، بارشوں میں مدد دیتے ہیں، زمین کی نمی برقرار رکھتے ہیں اور ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں۔ اگر شہروں میں درخت زیادہ ہوں تو درجہ حرارت کئی درجے تک کم ہو سکتا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ترقی کے نام پر ہزاروں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں مگر ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جاتے۔ نئی سڑکیں، عمارتیں اور رہائشی بستیاں تو بن جاتی ہیں لیکن سبزہ ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں سایہ دار درخت ناپید ہوتے جا رہے ہیں اور ہر طرف صرف کنکریٹ اور سیمنٹ کا جنگل دکھائی دیتا ہے۔درختوں کی کٹائی کے نقصانات صرف گرمی تک محدود نہیں۔ جنگلات ختم ہونے سے بارشوں کا نظام متاثر ہوتا ہے، زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی جاتی ہے، زمین بنجر ہونے لگتی ہے، مٹی بہہ جاتی ہے اور سیلاب زیادہ تباہی مچاتے ہیں۔ بے شمار پرندے اور جنگلی جانور اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یوں قدرت کا پورا نظام عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ جب موسم خراب ہوتا ہے تو گندم، کپاس، چاول، گنا اور دیگر فصلیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ کسان کو نقصان ہوتا ہے، غذائی قلت پیدا ہوتی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک درخت کا کٹنا صرف ماحول ہی نہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔شجر کاری ان تمام مسائل کا سب سے مو


¿ثر، آسان اور کم خرچ حل ہے۔ ایک چھوٹا سا پودا چند برسوں میں ایک مضبوط درخت بن کر ہزاروں انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ سایہ دیتا ہے، پھل دیتا ہے، لکڑی فراہم کرتا ہے، پرندوں کو پناہ دیتا ہے، زمین کو مضبوط بناتا ہے اور فضا کو صاف رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جنگلات میں اضافہ کر رہے ہیں اور ہر سال لاکھوں نئے درخت لگا رہے ہیں۔اسلام نے بھی شجر کاری کو نہایت عظیم نیکی قرار دیا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا:”اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک پودا ہو، اور وہ اسے لگا سکتا ہو، تو ضرور لگا دے۔”ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ جو مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس سے کوئی انسان، جانور یا پرندہ فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت لگانا صرف ماحول کی خدمت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جنگلات کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرے، غیر قانونی کٹائی کو روکے اور ہر ترقیاتی منصوبے کے ساتھ نئے درخت لگانا لازمی قرار دے۔ تعلیمی اداروں میں ہر طالب علم کو کم از کم ایک پودا لگانے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی جائے۔ مساجد کے خطباء، اساتذہ، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیمیں عوام میں شجر کاری کا شعور بیدار کریں۔اس کے ساتھ ساتھ ہر شہری کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہر خاندان سال میں صرف دو یا تین درخت لگا کر ان کی حفاظت کرے تو چند ہی برسوں میں پاکستان دوبارہ سرسبز ہو سکتا ہے۔ ہمیں صرف تصویری مہمات یا ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ درختوں کی مسلسل دیکھ بھال کو اپنی عادت بنانا ہوگا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں، گلیوں، سکولوں، کالجوں، مساجد، کھیتوں، نہروں کے کناروں اور سرکاری زمینوں پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی درختوں سے محبت سکھانی چاہیے تاکہ وہ ایک صحت مند اور صاف ماحول میں زندگی گزار سکیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ درخت زمین کا حسن بھی ہیں اور زندگی کی ضمانت بھی۔ اگر ہم نے آج درخت نہ لگائے تو کل ہمارے بچوں کو نہ ٹھنڈی ہوا ملے گی، نہ صاف پانی اور نہ ہی صحت مند ماحول۔ آئیے عہد کریں کہ ہر سال کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں گے، اس کی حفاظت کریں گے اور دوسروں کو بھی اس نیکی کی ترغیب دیں گے۔ یاد رکھیے! آج کا ایک پودا کل کی محفوظ زندگی، خوشحال پاکستان اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

سرسبز درخت اور محفوظ مستقبل

انتخاب یا سیاسی تماشا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے