#کالم

انتخاب یا سیاسی تماشا

zahid iqbal malik

زاہد اقبال ملک

ابھی موسم بہار نے پوری طرح دستک بھی نہیں دی کہ کلیاں کِھلکھلانے لگی ہیں پرندے بے وقت نغمہ سرا ہو گئے ہیں ہواو


¿ں میں محبت کے گیت گونجنے لگے فضاو


¿ں میں اخوت و یگانگت کے رنگ بکھرنے لگے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں کی تلخیاں اچانک رخصت ہو گئی ہوں معاشرے میں راحت و فرحت کا سمندر امڈ آیا ہو مگر ذرا ٹھہریے یہ فطرت کی بہار نہیں بلکہ سیاست کا موسمِ بہار ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں خزاں رسیدہ چہرے بھی کِھل اٹھتے ہیں، سالہا سال عوام سے نظریں چرانے والے اچانک ہر دروازے پر دستک دینے لگتے ہیں اقتدار کے ایوانوں میں آسائشوں کے عادی لوگ خاک آلود گلیوں میں عجز و انکساری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کل تک جن ہاتھوں کو کارکنوں سے مصافحہ کرنا بھی اپنی شان کے خلاف لگتا تھا آج وہی ہاتھ ہر آنے والے کی طرف بے اختیار بڑھ رہے ہیں۔ جن نگاہوں میں کبھی پہچان تک نہ تھی آج وہ نگاہیں اپنائیت سے لبریز ہیں اور جو زبانیں پانچ سال تک گونگی رہتی ہیں وہ اچانک عوام کے دکھ درد کی ترجمان بن جاتی ہیں یوں لگتا ہے جیسے انتخابی موسم نے لیڈر اور کارکن کے درمیان حائل تمام دیواریں گرا دی ہوں مگرسیاست کے پیچ و خم سے آشنا لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ قربتیں، محبتیں، گلے ملنا اور حال احوال پوچھنا صرف ووٹ کی پرچی کے استعمال تک محدود ہوتا ہے جونہی ووٹ کی پرچی بیلٹ بکس میں گرتی ہے یہ اپنائیت بھی دھیرے دھیرے رخصت ہو جاتی ہے اور عوام اگلے انتخابی موسم تک اپنے نمائندوں کی ایک جھلک کو ترستے رہ جاتے ہیں۔الیکشن کمیشن آذاز جموں و کشمیر نے 27 جولائی کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے ان انتخابات میں صرف آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی نشستیں ہی نہیں بلکہ مہاجرینِ مقیم پاکستان کے لیے مختص بارہ نشستیں بھی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ پرانے آزمودہ اور تجربہ کار امیدواروں کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے چہرے بھی قسمت آزمانے کے لیے میدانِ سیاست میں اتر آئے ہیں اور ہر طرف انتخابی گہماگہمی اپنے عروج پر ہے۔ گلی محلوں میں چار سو اک شور برپا ہے۔ جھنڈوں، بینروں اور پوسٹروں نے صرف دیواروں کو ہی نہیں بلکہ حقیقت کو بھی ڈھانپ لیا ہے۔ بڑے بڑے سیاسی فنکار، اداکار، شعبدہ باز اور وعدوں کے سوداگر اپنے اپنے کرتب دکھانے میدان میں اتر آئے ہیں کسی کے پاس لفظوں کا جادو ہے کسی کے پاس نعروں کی گھن گرج کوئی خوابوں کی نئی فصل بیچ رہا ہے اور کوئی گزشتہ وعدوں کی لاش پر نئے وعدوں کی چادر اوڑھے کھڑا ہے۔ انتخابی موسم وہ عجیب موسم ہے جس میں ہر امیدوار خود کو مسیحا ہر جماعت خود کو نجات دہندہ اور ہر منشور جنت کا پروانہ ثابت کرنے پر ت


±ل جاتا ہے۔ غربت کے خاتمے سے لے کر دودھ اور شہد کی نہریں بہانے تک، ہر وعدہ اتنی روانی سے کیا جاتا ہے جیسے خزانے کی چابیاں پہلے ہی جیب میں موجود ہوں۔صاحبِ قلم نے گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاست کے نشیب و فراز، انتخابی معرکوں، رنگ بدلتے نعروں، دل موہ لینے والے وعدوں اور عوامی جذبات کی سودے بازی کا نہایت باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے۔ یہی طویل تجربہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جیسے ہی انتخابات کی آمد کی آہٹ سنائی دیتی ہے کردار بدل جاتے ہیں لہجوں میں مٹھاس گھل جاتی ہے برسوں کے سیاسی حریف بھی بغل گیر دکھائی دیتے ہیں اور عوام کی دہلیز پر حاضریاں اس انداز سے بڑھ جاتی ہیں گویا یہی دروازے ان کی منزلِ مقصود ہوں۔ گلی، محلے، جنازے، شادی بیاہ، تعزیت، عیادت، فاتحہ، خوشی و غمی کی ہر تقریب اچانک سیاسی عقیدت کا مرکز بن جاتی ہے۔ ہمدردی، اخلاص اور محبت کی سبیلیں جگہ جگہ سج جاتی ہیں خدمت کے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے نصف بھی حقیقت کا روپ دھار لیں تو شاید اس خطے میں کوئی مسئلہ باقی نہ رہے مگر افسوس کہ پولنگ کا سورج غروب ہوتے ہی یہی گرمجوشی یہی اپنائیت اور یہی خدمت کا جذبہ بھی اکثر انتخابی پوسٹروں کے ساتھ دیواروں سے اتر جاتا ہے اور اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی عوام سے کئے وعدے سرکاری فائلوں کی گرد میں دفن ہو جاتے ہیں اور عوام اگلے انتخاب تک صرف صبر، یقین دہانیوں اور نئے خوابوں کے سہارے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاست میں کردار سے زیادہ اشتہار، خدمت سے زیادہ تشہیر، دیانت سے زیادہ دولت اور کارکردگی سے زیادہ خطابت کی قدر رہ گئی ہے۔ سیاست عبادت نہیں کاروبار بن گئی ہے اصول نظریات کے تابع نہیں بلکہ مفادات کے غلام بن چکے ہیں۔ وفاداریاں نظریات پر نہیں، اقتدار کی ٹھنڈی ہوا کے رخ پر تبدیل ہوتی ہیں اور عوام ہر بار وہ مجمع ثابت ہوتے ہیں جسے تماشہ ختم ہونے کے بعد خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اپنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ووٹ محض ایک مہر نہیں قوم کی تقدیر پر ثبت ہونے والا فیصلہ ہے۔ اگر عوام اس بار بھی نعروں، وقتی مہربانیوں، موسمی محبتوں اور خوش کن وعدوں کے سحر میں گرفتار ہو گئے تو پھر اگلے پانچ برس شکووں اور شکایتوں کا حق بھی کمزور پڑ جائے گا لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ فیصلہ چہروں پر نہیں، کردار پر نعروں پر نہیں کارکردگی پر ،رشتوں پر نہیں، دیانت پر اور وعدوں پر نہیں، عملی خدمت پر کیا جائے۔ ورنہ پھر پانچ سال بعد یہی سیاسی بہار آئے گی یہی انتخابی تماشا سجے گا یہی فنکار نئے کرداروں میں اسٹیج پر جلوہ گر ہوں گے مگر عوام کے نصیب میں پھر وہی محرومیاں وہی پرانی خزاں اور خزاں رسیدہ شاخوں سے جھڑتے پتوں کی مانند بکھرے ہوئے خواب ہی آئیں گے۔

انتخاب یا سیاسی تماشا

مفاد سے ماورا دوستی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے