#کالم

صفدر علی خان کی فکری جدوجہد: ڈیجیٹل دہشت گردی، قانون کی بالادستی اور

new desing 20
safdar sb new 1 copy 1

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف

قومی یکجہتی کا امین قلم
افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیاں، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی
دہشت گردی کے خلاف م¶ثر حکمتِ عملی اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی قومی
کاوشوں کے تناظر میں

موجودہ دور میں جنگوں کی نوعیت جوہری طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ اب دشمن محض سرحدوں پر حملہ آور نہیں ہوتا بلکہ ذہنوں، افکار، اطلاعات اور قومی بیانیے کو نشانہ بناتا ہے۔ سوشل میڈیا، جعلی خبروں، گمراہ کن پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے ریاستوں کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی مذموم کوششیں کی جاتی ہیں۔ اسی تناظر میں ”ڈیجیٹل دہشت گردی” ایک ایسا سنگین چیلنج بن کر ابھری ہے جس نے دنیا بھر کی حکومتوں، دانشوروں اور قومی سلامتی کے اداروں کو نئی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان بھی اس غیر روایتی اور پیچیدہ جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے نازک حالات میں بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں کے ذریعے قومی شعور کو بیدار کرنے کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ سرزمین کے چیف ایڈیٹر، ممتاز قانون دان اور سینئر صحافی صفدر علی خان کا شمار انہی باضمیر اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی، ڈیجیٹل دہشت گردی، قومی سلامتی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کے احترام، سماجی ہم آہنگی اور نوجوان نسل کی مثبت رہنمائی جیسے حساس موضوعات پر تسلسل کے ساتھ قلم اٹھایا ہے۔ ان کی صحافتی بصیرت اور فکری گہرائی انہیں معاصر کالم نگاروں میں ایک ممتاز و منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
صفدر علی خان کے کالموں کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کو صرف بندوق اور بارود تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی اطلاعات، نفرت انگیز مہمات، ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا اور نوجوانوں کی ذہنی گمراہی کو بھی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال معاشرے میں انتشار، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کر سکتا ہے، اس لیے میڈیا، تعلیمی اداروں اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کو ذمہ دارانہ اور تنقیدی انداز میں معلومات کا جائزہ لینے کی تربیت دی جائے۔
برطانیہ کے عظیم مدبر ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ ایک آزاد، دیانت دار اور نڈر عدلیہ کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے، اور جہاں انصاف کا نظام مضبوط اور غیرجانبدار ہو، وہاں کوئی بیرونی یا اندرونی دشمن ریاست کو نقصان پہنچانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ صفدر علی خان اپنی تحریروں میں بارہا اسی فکر کی بازگشت پیش کرتے ہیں۔ ان کا م¶قف ہے کہ عدالتی نظام کی خودمختاری، شفافیت اور دیانت داری وہ ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے جس کے سائے میں کوئی سازش، کوئی پروپیگنڈا اور کوئی دشمن قوت وطن کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ان کے نزدیک قانون کی حکمرانی اور آزاد عدالتی نظام ہی وہ بنیاد ہیں جن پر مستحکم اور خودمختار ریاستوں کی عمارت استوار ہوتی ہے۔
ان کی تحریروں میں پاکستان کے بارے میں امید، اعتماد اور حب الوطنی کا واضح پیغام جھلکتا ہے۔ وہ پاکستان کو بے پناہ صلاحیتوں، قدرتی وسائل اور باصلاحیت نوجوانوں کی سرزمین قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک وطن سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھتے ہوئے قومی مفاد، سماجی استحکام اور ریاستی اداروں کے احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔
صفدر علی خان نے اپنے مختلف کالموں میں دہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ہزاروں جوانوں اور افسروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن کی قربانیاں قوم ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو م¶ثر، فیصلہ کن اور مسلسل حکمتِ عملی اپنائی ہے، صفدر علی خان اسے قومی سلامتی کی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ عزم کہ سرحد پار سے پھیلائی جانے والی دہشت گردی کو ریاست کی مکمل قوت سے کچل دیا جائے گا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا نیٹ ورک جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، پوری قوم کے عزم و حوصلے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ان کے بقول جنگیں محض میڈیا بیانات یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے جیتی جاتی ہیں، اور یہی وہ فکر ہے جو آج پوری مسلح افواج کے جذبے میں رچی بسی نظر آتی ہے۔
اسی طرح وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی حکومتی سطح پر دہشت گردی کے خلاف سیاسی و انتظامی کاوشیں بھی قابلِ ستائش ہیں۔ صفدر علی خان اپنے کالموں میں اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ سول و عسکری قیادت کا مربوط تال میل، قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی عزم، ریاست کی مجموعی طاقت کو مہمیز دیتا ہے۔ ان کے نزدیک جب سیاسی قیادت اور مسلح افواج ایک صفحے پر کھڑی ہوں تو کوئی بھی اندرونی یا بیرونی سازش قومی یکجہتی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
ان کی تحریروں میں نوجوانوں کے لیے خصوصی پیغام بھی موجود ہوتا ہے۔ وہ انہیں تلقین کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر کو بلا تحقیق قبول نہ کریں، جذبات کے بجائے دلیل، تحقیق اور قومی ذمہ داری کو ترجیح دیں، اور اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق، اختراع، کردار سازی اور قومی ترقی کے لیے وقف کریں۔ ان کے نزدیک باشعور نوجوان ہی پاکستان کی حقیقی طاقت اور مستقبل کے معمار ہیں۔
صفدر علی خان نے سماجی ہم آہنگی، برداشت اور رواداری کو بھی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہبی، سیاسی اور سماجی اختلافات کو نفرت اور تشدد میں تبدیل ہونے سے روکنا ہر شہری کی اخلاقی

خوشحال خوشاب کی جانب سفر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے