مٹی کی مہک کا اسیر ( قسط اول)
شہزاد احمد ورک
رؤف کلاسرہ صاحب ہمارے ملک کے نامور صحافی ہیں ایک جگہ لکھتے ہیں: مجھے دسمبر 2014ء میں بھارت کے دارالحکومت دہلی کی وہ اداس شام نہیں بھولتی جب ہندوستان کی
پارلیمنٹ کے لائبریرین سپرا صاحب مجھے منت ترلے سے اپنے گھر لے گئے تھے کہ ان کی ماں پاکستان سے آ ئے کسی سرائیکی سے ملنا چاھتی تھیں۔ اس کی ماں کی عمر اس وقت اسی
برس سے زائد تھی اور ان کی زندگی کی آ خری خواہش تھی کہ وہ پاکستان سے آ ئے کسی سرائیکی شخص کے ساتھ سرائیکی میں باتیں کریں اور جب وہ میرے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھیں تو
سپرا صاحب کی آ نکھوں میں ایک لمحے کیلئے بھی آ نسو نہ رکے۔ مجھے اس لمحے احساس ہوا کہ وطن کی دھرتی کی محبت کیا چیز ہوتی ہے۔وچھوڑا کس بلا کا نام ہے۔سپرا صاحب کی
سرائیکی ماں کا دکھ اور درد مجھے اب بھی برسوں بعد محسوس ہوتا ہے۔ ہر مٹی کی اپنی کشش ہوتی ہے جو دل کے اندر مہکتی رہتی ہے،مسافر کو اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔انسا ن رگ وپے میں سرایت اس مٹی کی مہک کا اسیر ہوتا ہے۔
گزشتہ روز محمد اظہار الحق صاحب بک کارنر جہلم تشریف لائے۔ آ پ پاکستان آ ڈٹ سروس سے 22ویں گریڈ میں ریٹائر ہوئے۔صاحب طرز ادیب شاعر،فارسی کے حافظ اور نامور کالم نگار بھی ہیں۔گفتگو کے دوران فرمانے لگے پٹھان کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اپنی زبان اور آ بائی جگہ کبھی نہیں چھوڑتا۔جب کہ پنجابی یہ کام سب سے
پہلے کرتا ہے اور ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔ فرمانے لگے میں نے آسٹریلیا میں مقیم اپنے ڈاکٹر بیٹے، بہو اور بچوں کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں آپ نے گاؤں میں آ کر گزارنی ہیں اور پنجابی بولنی ہے۔ تاکہ آپ کسی صورت بھی اپنے کلچر کو بھول نہ سکیں۔
یہ واقعات مجھے آج خوشاب کے تاریخی قصبے ہڈالی کی اس مٹی پہ کھڑے ہو کر یاد آیا جس نے خشونت سنگھ جیسے بڑے انسان کو جنم دیا خوشاب بھی بڑی دلچسپ جگہ
ہے۔ سننے میں آتا ہے کہ کبھی دارالحکومت کراچی سے یہاں شفٹ کرنے کا بھی ارادہ تھا جس کے لیے 50 فیصد کام مکمل کر لیا گیا تھا مگرکار پردازوں نے اسلام آباد کا رخ کیا۔ اس میں بھی یقیناکوئی حکمت ہو گی۔خوشاب کے اس گاؤں ہڈالی کی مرکزی سڑک پر کھڑا میں خشونت سنگھ کی خوشبو محسوس کر رہا تھا۔ خشونت سنگھ کی بنیادی پہچان ایک ممتاز بھارتی صحافی، ادیب اور لکھاری کی ہے۔ آپ بہت بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے۔ سیاست میں آئے تو راجیہ سبھا کے ممبر منتخب ہوئے۔ صحافت میں وارد ہوئے تو نیشنل ہیرالڈ اور ہندوستان ٹائمز جیسے اخبارات کی ادارت سنبھالی لیکن ان کی بنیادی پہچان ان کی کاٹ دار تحریریں ہی ہیں۔خشونت سنگھ نے ناول لکھے، مضامین تحریر کیے، ذاتی زندگی کے واقعات قلمبند کیے۔ زندگی کے آخری ایام تک لکھا اور خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں بلا کی روانی اور سلاست تھی۔ لفظ سیدھے دل میں اترتے جاتے۔ آج تک مقبول لکھاری ہیں۔ کہا جاتا ہے آپ نے 99 سال عمر پائی اور 99 ہی کتابیں تخلیق کیں ایک سے بڑھ کر ایک۔ وہ اپنے آبائی قصبے ہڈالی خوشاب سے ایسے عشق میں مبتلا تھے کہ بعد از مرگ ان کی وصیت کے مطابق ان کی راکھ بھی ہڈالی گاؤں میں بکھیری گئی۔
ہڈالی پنجاب کے شہر خوشاب کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔پنجاب کے دیگر دیہاتوں کی طرح خوبصورت، درختوں میں گھرا ہوا، دور دور تک کھلیانوں میں مہک بکھیرتا ہوا مگر اسے ممتازخشونت سنگھ کرتا ہے جو متحدہ پاکستان کی تقسیم سے قبل 1915 میں یہاں سکھ گھرانے میں پیدا ہوا۔ حسب روایت خشونت سنگھ کو بھی گاؤں کے دیگر بچوں کی طرح دھرم شالہ مقامی سکول میں داخل کرایا گیا۔ اس زمانے میں گاؤں میں گارے سے کچے مکان بنے ہوتے تھے۔ جہاں سردیوں میں خوب سردی پڑتی اور گرمیوں میں خوب گرمی۔ پنجاب کے چند گاؤں آج بھی ایسے ہی ہیں جو گئے وقتوں کی نشانی دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں زندگی بغیر کسی بناوٹ کے گزرتی ہے۔ خشونت سنگھ بھی گاؤں کی گلیوں کی تپتی ہوئی ریت پر ننگے پاؤں دوڑتا رہتا۔ اس کو اپنی دادی کے دوپٹے کے پلو میں سے گھر کی تندوری میں پکی رات کی روٹیاں نکال کے کھانا آج بھی یاد ہے۔ مجھے بھی گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے ننھیال میں گزارے ایام یاد ہیں جب ہم سب کزن نانی کے پلو سے چوری پیسے کھولتے اور مقامی پرچون کی دکان میں جا کر عیاشی کرتے۔خشونت سنگھ اپنی تختی دھوتا،پھر کاسنی رنگ کی گاچی لگاتا، تختی کو ہوا میں خشک کرتا اور دادی جان کی انگلی پکڑ کر سکول روانہ ہو جاتا۔ گاؤں کا تازہ ماحول، کھلا آسمان،چاروں طرف ہریالی اور پنجاب کی خالص بھورے رنگ کی گندم کی مہک آج بھی اسے بہت اچھی لگتی ہے جس کا ذکر خشونت سنگھ کی تحریروں میں جا بجا ملتا ہے۔خشونت سنگھ یہ بات آج تک بھول نہیں پایا کہ ہڈالی میں رات اس کو کیسی ٹھنڈی لگتی تھی۔ خوشگوار ہوا ساری رات کس طرح اس کو سکون دیتی تھی اور اس کے گھر میں لگے چنبیلی، گلاب، موتیا ور رات کی رانی کے پھولوں کی مہک اس ہوا میں کس طرح شامل ہو جایا کرتی تھی۔ اپنی دادی کے ساتھ اس گاؤں میں گزارا وقت اسے زندگی کے آخری لمحات تک ہانٹ کرتا رہا۔ وہ رات کو بستر پر لیٹتا تو دادی اسے کہانی سناتی اور کہانی سنتے سنتے اسے نیند آ جاتی۔ اپنے گاؤں اور اس میں لگے درختوں سے اسے اتنی انسیت تھی کہ چھوٹی عمر میں ہی اسے گاؤں کے سب درختوں کے ناموں کا پتہ تھا۔ زندگی اچھی بھلی خوشی سے گزر رہی تھی جب ایک صبح اسے یہ سننا پڑا کہ اب ہم سب لوگ دلی میں اکٹھے رہیں گے۔ خشونت سنگھ جب اپنی جنم بھومی ہڈالی سے جدا ہو رہا تھا تو دور تک اسے پیچھے مڑ کر دیکھتا رہا۔ ہڈا لی کے روشن آسمان کو،بلند قامت درختوں کو، اپنی حویلی کو اور تا حد نگاہ پھیلے ہوئے سرسوں کے زرد کھیتوں کو۔ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی بھی انہی گلیوں میں گزارنا چاہتا تھا۔ (جاری ہے)






