انتہاپسندی کے خلاف فکری دفاع
ڈاکٹر ذاکر اللہ خان
دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی دو دہائیوں پر محیط جدوجہد نے یہ حقیقت پوری طرح آشکار کر دی ہے کہ محض عسکری کارروائیاں، انٹیلی جنس آپریشنز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابیاں کسی بھی معاشرے کو مستقل امن فراہم نہیں کر سکتیں۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک تو ختم کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان نظریات، سماجی محرکات، نفسیاتی عوامل اور فکری خلا کو ختم نہ کیا جائے جو انتہاپسندی کو جنم دیتے ہیں تو خطرہ کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس نے دنیا بھر میں سلامتی کے تصور کو تبدیل کیا ہے۔ اب صرف "کاؤنٹر ٹیررازم” کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ "پریونٹنگ اینڈ کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم” یعنی پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کو قومی سلامتی کی پالیسی کا لازمی حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
سلامتی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور ترقی کے بغیر پائیدار سلامتی قائم نہیں رہ سکتی۔
اسی تناظر میں حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کا قیام ایک اہم اور دور رس پالیسی اقدام ہے۔ یہ محض ایک نیا سرکاری ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ریاستی اداروں، تعلیمی حلقوں، مذہبی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور تحقیقاتی اداروں کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ انتہاپسندی کا مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم، مکالمے، تحقیق، سماجی شمولیت، مؤثر ابلاغ اور مثبت قومی بیانیے کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے گورننس، تعلیم، صحت، ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی خدمت کے شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ یہ حقیقت قابل تحسین ہے کہ پنجاب حکومت نے سلامتی کے مسئلے کو صرف پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے سماجی ترقی، تعلیمی اصلاحات اور نوجوانوں کی مثبت کردار سازی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہی جدید ریاستوں کا ماڈل ہے جہاں امن کو صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
نائب چیئر مین سینٹر آف ایکسی لینس خواجہ سلمان رفیق نے اس ادارے کی فعالیت کو عملی شکل دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء، جامعات، سول سوسائٹی، پولیس، محکمہ اوقاف، محکمہ تعلیم، محکمہ اطلاعات، جیل خانہ جات اور دیگر اداروں کے درمیان رابطے اور مشاورت اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب انتہاپسندی کے خلاف ایک جامع اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس کے چیف کوآرڈینیشن آفیسر غلام صغیر شاہد نے ادارے کی تنظیم، پالیسی سازی، تحقیقی سمت، بین الادارہ جاتی روابط اور عملی اقدامات کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ ایک نئے ادارے کو قلیل مدت میں قانون سازی سے لے کر عملی فعالیت تک پہنچانا آسان کام نہیں ہوتا، لیکن ادارے کی اب تک کی پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اس سمت میں سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں۔
"اندھیرا اندھیرے کو ختم نہیں کر سکتا، صرف روشنی ہی یہ کام کر سکتی ہے۔ نفرت کو نفرت نہیں بلکہ محبت ہی شکست دے سکتی ہے۔"
تاہم کسی بھی ادارے کی اصل کامیابی اس کے قیام میں نہیں بلکہ اس کے نتائج میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ پاکستان ماضی میں کئی ایسے ادارے دیکھ چکا ہے جنہوں نے شاندار آغاز کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ محض اجلاسوں، ورکشاپس اور سرکاری رپورٹوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس کے لیے بھی یہی اصل امتحان ہے کہ آیا یہ ادارہ محض سرگرمیوں کی فہرست مرتب کرے گا یا واقعی معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگا۔
پنجاب جیسے بڑے اور متنوع صوبے میں انتہاپسندی کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ چند برس پہلے تک خطرہ زیادہ تر مسلح تنظیموں تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر آج انتہاپسندانہ نظریات سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، مختصر ویڈیوز، آن لائن پروپیگنڈا، نفرت انگیز مواد، جھوٹی خبروں اور سازشی نظریات کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ الگورتھمز ایسی معلومات کو تیزی سے پھیلاتے ہیں جو اشتعال، نفرت اور تقسیم پیدا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی جنگ سرحدوں پر کم اور ذہنوں کے اندر زیادہ لڑی جا رہی ہے۔مضبوط، پائیدار اور امید افزا بنیاد ثابت ہوگی۔
اس تناظر میں پنجاب سینٹر کو چاہیے کہ وہ صرف سیمینارز اور کانفرنسوں تک محدود نہ رہے بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل فارنزک، سوشل میڈیا اینالیٹکس، رویہ جاتی سائنس اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن پر مشتمل ایک جدید تحقیقی یونٹ قائم کرے۔ آنے والے برسوں میں ڈیپ فیک ویڈیوز، مصنوعی مواد اور آن لائن انتہاپسندانہ نیٹ ورکس پاکستان کے لیے ایک نئے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے لیے پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔
تعلیم اس جدوجہد کا دوسرا اہم ستون ہے۔ اگر نصاب، اساتذہ اور تعلیمی ادارے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، برداشت، آئینی شعور، اختلاف رائے کا احترام اور ذمہ دار شہری ہونے کا احساس پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انتہاپسندی کے لیے زمین خود بخود تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ پنجاب سینٹر کی جانب سے نصاب کے جائزے اور اساتذہ کی تربیت کے اقدامات خوش آئند ضرور ہیں، لیکن ان کی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب یہ پروگرام مستقل بنیادوں پر جاری رہیں اور ان کے نتائج کا آزادانہ جائزہ بھی لیا جائے۔
جامعات بھی اس عمل میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں دینے کے ادارے نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت تیار کرنے کی درسگاہیں ہیں۔ نوجوان اسی مرحلے پر اپنے سیاسی، سماجی اور فکری نظریات تشکیل دیتے ہیں۔ اگر جامعات میں مکالمہ، تحقیق، امن، بین المذاہب ہم آہنگی، ڈیجیٹل لٹریسی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مستقل پروگرام تشکیل دیے جائیں تو ان کے اثرات کئی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
امن بندوقوں کے سائے میں نہیں بلکہ تعلیم یافتہ ذہنوں، مضبوط اداروں، ذمہ دار قیادت اور باشعور معاشرے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
علمائے کرام کے ساتھ مسلسل رابطہ بھی اس ادارے کا ایک مثبت پہلو ہے۔ پاکستان کے اکثریتی علماء ہمیشہ دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کو ایک میز پر لا کر قومی اتحاد، مذہبی رواداری اور آئینی اقدار کے فروغ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم اس عمل میں شفافیت، غیر جانبداری اور تمام مکاتب فکر کی مساوی نمائندگی کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
میڈیا اس پورے عمل میں سب سے مؤثر شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے۔ ذمہ دار صحافت نہ صرف نفرت انگیز بیانیوں کا توڑ کر سکتی ہے بلکہ معاشرے میں امید، برداشت اور قومی وحدت کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ، سنسنی خیزی اور غیر مصدقہ معلومات انتہاپسند عناصر کے مقاصد کو غیر ارادی طور پر تقویت بھی دے سکتی ہیں۔ اس لیے پنجاب سینٹر کو میڈیا اداروں، صحافیوں اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کے ساتھ مستقل بنیادوں پر تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
اسی طرح خواتین، نوجوانوں، اساتذہ، سماجی کارکنوں، کاروباری طبقے اور مقامی کمیونٹی لیڈرز کو اس قومی کوشش کا حصہ بنائے بغیر پائیدار نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انتہاپسندی کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ایک باشعور، تعلیم یافتہ، بااختیار اور باہم جڑا ہوا معاشرہ ہوتا ہے۔
آخرکار پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کی کامیابی کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوگا کہ اس نے کتنے اجلاس منعقد کیے، کتنی ورکشاپس کیں یا کتنی پالیسی دستاویزات تیار کیں۔ اس کا اصل معیار یہ ہوگا کہ آیا پنجاب کا نوجوان شدت پسندی کے بجائے اختراع، تعلیم، مکالمے اور قومی خدمت کو اپنا راستہ بناتا ہے؛ آیا تعلیمی ادارے برداشت اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتے ہیں؛ آیا مذہبی تنوع قومی اتحاد کی طاقت بنتا ہے؛ اور آیا ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔
انتہاپسندی کا خاتمہ صرف دہشت گردوں کے خاتمے سے نہیں بلکہ ان حالات، محرکات اور نظریات کے خاتمے سے ممکن ہے جو تشدد کو جنم دیتے ہیں۔"
اگر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سیاسی سرپرستی، خواجہ سلمان رفیق کی بین الادارہ جاتی قیادت اور چیف کوآرڈینیشن آفیسر غلام صغیر شاہد کی انتظامی و پالیسی صلاحیتیں اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں، اور ساتھ ہی اس ادارے کو تحقیق، شفافیت، احتساب، جدید ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی شمولیت اور آزادانہ کارکردگی جانچنے کے نظام سے مضبوط بنایا جائے تو یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔
آج کی دنیا میں امن صرف سرحدوں کی حفاظت سے قائم نہیں رہتا بلکہ ذہنوں، تعلیمی اداروں، معاشرتی رویوں اور قومی بیانیے کی تعمیر سے برقرار رہتا ہے۔ اگر پنجاب اس حقیقت کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ صرف ایک صوبے کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک






