#کالم

ہیں کواکب کچھ؟

Untitled 14

جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
……………………….
زندگی.. حالات، امیری غریبی ،خوشی غمی، منصب و اقتدار سے ہم نے جوڑ رکھی ہے ورنہ جو شے زوال پذیر ہو اسے کیا جوڑنا ؟یہ تمام چیزیں ایسی ھیں جو آ نکھ جھپکتے اپنا رخ موڑ لیتی ہیں اور حضرت انسان منہ تکتے رہ جاتے ہیں ، آ ج کی دنیا کے کسی بھی شخص کی تلاشی لے لیں وہ زندگی کو کوستے امیری غریبی ،خوشی غمی، منصب و اقتدار کا رونا روتا ہی دکھائی دے گا حالانکہ معاملات ایسے ہرگز نہیں٫٫ ہیں کواکب کچھ ،نظر آ تے ہیں کچھ،، کسی واقعہ اور خبر کا پوسٹ مارٹم کر کے دیکھ لیں سانحہ کاھنہ وہ نہیں ، جس کا شور مچایا گیا اور نہ ہی انسانیت سوز ٫٫کارنامہ ڈیفنس،، لاہور وہ ہے جس کا ہنگامہ برپا ہے دونوں سانحات کے رد عمل میں کاروائی حقیقی معنوں میں عوامی محاذ تک نہیں پہنچ سکی لہذا جو چاہیں کرشمہ ساز کریں، بریکنگ نیوز، فوری خبر نے سوتوں کو جگا دیا اور جاگتوں کو خبردار کر دیا کہ بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب۔۔۔ یہ چیف صاحب کسی ادارے کے ہوں کہ مافیا یا پولیس کے بلکہ ریاستی چیف کو بھی پیغام مل گیا کہ ٫٫ہیں کوا کب کچھ،، آ پ ہمت کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیں ورنہ اپنے ہی اس قدر ظلم ڈھاتے ہیں کہ بڑے بڑوں کو نانی یاد آ جاتی ہے ،کوئی زندگی کو بے وفا کہتا ہے کوئی اسے چھوٹی گردانتا ہے حالانکہ یہ سب معاملات حضرت انسان خود بگاڑتے ہیں پہلے وقت ضائع کرتے ہیں اور جب جینے کا طریقہ ، سلیقہ اور راستوں کی بھول بھلیاں سمجھ آ نے لگتی ہیں تو لوٹنے کا وقت ہو جاتا ہے، ماضی میں ذرا جھانکیں۔۔۔ کیا کمال زمانہ تھا گھر کچے ،گلی اور بازار کچے لیکن رشتے مخلص اور پکے، خواہش محدود ،خوراک متوازن، فجر کے وقت دن کا آ غاز مغرب کے وقت سب کے سب کاروبار زندگی سے منہ موڑ کر اپنے اپنے گھر، اب گھر علی شان ،بازار خوبصورت ،سڑکیں پکی اور دل بھی اسی طرح پکے کہ نہ کسی کو کسی کی فکر نہ ہی جائز ناجائز اور حلال و حرام میں تمیز ،سب جائز لیکن پھر بھی سب اچھا ہرگز نہیں، پہلے محدود آ مدنی میں بڑا کنبہ بھی خوشحال تھا اور آ ج لامحدود آ مدنی میں بھی محدود خاندان بے حال، اس وقت گھر کے صحن میں دھول بھی ہوتی تھی لیکن دل سچے اور صاف و شفاف تھے دیواریں چھوٹی ہونے کے باوجود دروازے کھلے تھے اور خوشیاں غم سانجھے، اب گھروں میں دھول نہیں لیکن دل پر دھول ہے غیروں کے لیے نہیں، اپنوں کے لیے بھی دروازے بند ہیں حسد کا یہ حال ہے کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ غم کو چھوڑیں خوشیوں میں بھی اپنوں کی آ نکھیں نم ہیں!!! سمجھ سکتے ہیں تو سمجھ لیں ابھی وقت ہے کہ ہیں کواکب کچھ نظر آ تے ہیں کچھ، کیا وقت تھا وہ اور کیا وقت لمحہ موجود میں ہے غور کریں۔۔ زندگی کسی کتاب سے کم نہیں، اس کے اوراق پلٹیں کچھ باب اداس، کچھ خوش کن اور کچھ پرجوش نظر آ ئیں گے، مطلب وقت ایک سا نہیں رہتا لیکن یہ سب کچھ اوراق پلٹے بغیر آ پ جان نہیں سکتے، سیانے کہتے ہیں زندگی قدرت کا حسین تحفہ ہے اور روز محشر حساب صرف عبادتوں کا نہیں ہوگا بلکہ اس لمحے کا بھی ہوگا جب تم کسی کی مدد کر سکتے تھے مگر تم نے نہیں کی لیکن اپنا احتساب اور مثبت فیصلہ کیسے ہوگا؟ اس کی فکر بھی آ پ کو خود کرنی ہوگی کیونکہ بظاہر ٫٫ہیں کوا کب کچھ نظر آ تے ہیں کچھ،، اب سوال ہے کہ فیصلہ خود کرنا ہوگا ہاں۔۔۔ اس لیے کہ عالمی شہرت یافتہ دانشور ٫٫مارک ٹوین،، یہ راز فاش کر چکا ہے کہ احمق لوگوں سے بحث نہ کرو وہ پہلے تمہیں اپنے درجے تک گرا دیں گے پھر اپنے تجربے سے تمہیں شکست دے دیں گے، ہم دعویدار ہیں ستاروں پر کمنٹ ڈالنے کے لیکن باصلاحیت اور جوہر قابل ہونے کے باوجود ہمیں فائدے کے بغیر مدد کرنا نہیں آ تا ،مطلب کہ بغیر کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتے، غرور کے بغیر عاجزی سے چل نہیں سکتے، کون بتائے کہ دکھاوے کے بغیر زندگی جینا سیکھیے۔۔۔ وجہ یہی ہے کہ صاحب اقتدار سے عام آ دمی تک سب کا چلن ایک سا ہی بن چکا ہے، بھاری بھرکم ترقیاتی منصوبے اور ان کی تشہیر کے لیے خطیر رقم۔۔ انگلیاں تو اٹھیں گی کیونکہ ٫٫ہیں کو ا کب کچھ؟؟؟،،
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نیک نیتی اور ذمہ داری سے دونوں اہم سانحات پر نہ صرف بطور ماں اور حوا کی بیٹی غمزدہ اور پریشان تھیں بلکہ مثبت انداز میں مسائل کا حل چاہتیں تھیں انہوں نے اپنی پہلی ترجیح اور معلومات کے مطابق بہت کچھ کیا، لیکن تاثر یہی نکلا کہ وہ کچھ نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا 14۔ معصوم بچوں کے لواحقین کو 20 ،20 لاکھ کی امدادی رقم دی یقینا یہ والدین کا غم غلط نہیں کر سکتی لیکن اہل علاقہ کے خواہش ہے کہ اگر وزیراعلی اتنی ہی مزید رقم سے کوئی تعلیمی ادارہ بنا کر وہاں 14۔ معصوموں کے نام سے کلاس رومز منسلک کر دیتیں تو زخمی ٹیچر کے تعلیمی چراغ کی روشنی برسوں تعلیم کی راہ دکھاتی رہتی اور آ پ بھی امر ھو جاتیں ،اسی طرح٫٫ سانحہ ڈیفنس،، میں غیر ملکی لڑکیاں اور امیر ذاتوں کی موجودگی نے پاکستان کے دور پذیرائی میں٫٫ سبکی کا سائن بورڈ ،، آ ویزاں کر دیا ڈیوٹی فل سینٹر فیصل واڈا نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قربانی مانگ لی لیکن سوال یہی ہے کہ٫٫ باس،، کیوں ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا؟ ہمارے باصلاحیت اور جدید سہولیات سے آ راستہ ادارے اسے منظر عام پر کیوں نہیں لا سکے؟ کیا وہ رضا ڈار سے بھی زیادہ اہم شخصیت ہیں، بقول شخصے٫٫ باس،، حقیقی طور پر اس واردات کا چیف ہے اگر وہ بے نقاب ہو گیا تو پھر بڑے صوبے کی صوبائی حکومت اور وفاق میں بھونچال آ جائے گا لہذا سیاسی بحران میں سیاسی آ فات سے بچانے والے ادارے حرکت میں آ چکے ہیں پھر بھی یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ کامیابی بھی ہوگی کہ نہیں، اس لیے کہ ٫٫ہیں کواکب کچھ نظر آ تے ہیں کچھ،، افواہ ساز کمپنیاں بھی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں، کچھ ٫٫باس،، کا رشتہ برسر اقتدار پارٹی سے جوڑ رہے ہیں اور کچھ اسے ڈائریکٹ وزیر اعلی کا خاص قرار دے رہی ہیں، جو بھی ہے معاملہ ابھی ٹھپ نہیں ہوا، غیر ملکی لڑکیاں عالمی فورم پر انصاف لینے پہنچ گئیں، اس لیے قوم وزیراعلی سے امید کر رہی ہے کہ انہوں نے ایک ماں، بیٹی اور پہلی خاتون وزیراعلی کی حیثیت سے ٫٫بنت حوا،، کو اپنی٫٫ ریڈ لائن،، قرار دیا تھا وہ اپنے پختہ عزم کا اظہار ایسے دلیرانہ فیصلے سے کریں گی کہ کواکب کچھ بھی ہیں ہر کسی کو حقائق کو نظر آ سکیں گے ورنہ پنجاب میں ان کی شب و روز کی محنت رائیگاں چلی جائے گی، ملزمان اور پولیس پر اٹھنے والے سوالات کی وضاحت نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے اس لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی نہیں، مستقبل کی ایسی منصوبہ بندی کے اقدامات بھی ہونے چاہییں کہ آ ئندہ اس قسم کا سانحہ رونما نہ ہو بلکہ اس مقدمے کو ماضی کی طرح سرد خانے کے سپرد کر کے ٫٫قصہ ماضی،، نہ بنایا جاسکے، فیصلہ اور کاروائی اس قدر عبرت ناک ہو کہ٫٫ حوا کی بیٹی،، غیر ملکی ہو یا اپنی، کسی کے ساتھ کہانی دہرائی نہ جا سکے بلکہ ادارے بھی جھوٹی سچی کہانی سنانے کی بجائے حقائق منظر عام پر لانے کے پابند ہو جائیں ورنہ کواکب جب کچھ اور نظر آ ئیں گے تو بات کا پتنگڑ بھی بنے گا اور الزامات کے ساتھ افواہؤں کا بازار بھی گرم ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا
#############

ہیں کواکب کچھ؟

مٹی کی مہک کا اسیر ( قسط

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے