#کالم

دوستا  ۔۔زندگی بے وفا ہے

Untitled 5

تحریر :۔ جاویدایازخان  احساس کے انداز

اس سے قبل میں نے اپنے ارٹیکل "روح کی آواز ” میں استاد پٹھانے خان مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا تھا ۔ان کی زندگی اور ان ذات کے لیے لکھنا میرۓ لیے اس لیے بہت آسان تھا کہ مجھے بچپن سے جوانی تک ان  کی شفقت کا اعزاز حاصل رہا ۔ان کی ذات کو ذاتی طور پر بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کا شرف حاصل رہا ۔آج  "دوستا ۔۔زندگی بےوفا ہے "سننے کے بعد استاد نواز بھٹہ پر لکھنا میرے لیے تھوڑا مشکل ضرور ہے مگر ان کی آواز میں موجود سچائی ،دکھ اور درد بھر لہجہ مجھے حوصلہ دیتا ہے کہ اس ہستی   کو بھی خراج تحسین پیش کروں ۔زندگی میں کچھ گیت صرف کانوں میں رس نہیں گھولتے بلکہ انسان کے دل، ذہن اور روح پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ وقت گزرنے کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ ہر نئے دور میں ایک نئی معنویت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ سرائیکی زبان کا شہرۂ آفاق کلام "دوستا زندگی بے وفا ہے” بھی انہی لازوال تخلیقات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ گیت ہے جس نے سرائیکی موسیقی کو ایک نئی پہچان دی اور استاد نواز بھٹہ کو عوامی محبت کی ایسی بلندیوں تک پہنچایا جہاں پہنچنا ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے برسوں تک بے شمار اردو اور سرائیکی کلام گائے، مگر اس ایک گیت نے ان کی آواز کو ہر دل کی آواز بنا دیا۔ ہر دور میں کچھ گیت ایسے جنم لیتے ہیں جو صرف موسیقی نہیں رہتے بلکہ ایک عہد ،ایک احساس ،اور ایک فلسفہ زندگی بن جاتے ہیں ۔استاد نواز بھٹہ کا سرائیکی زبان کا شہرآفاق کلام "دوستا زندگی بےوفا ہے ” بھی انہی نادر تخلیقات میں شمار ہوتا ہے جو رات رات شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے ۔یہ وہ گیت ہے جسے سننے والا صرف اس کی دھن اور لہجے سے ہی محظوظ نہیں ہوتا بلکہ زندگی کی ناپائیداری اور وقت کی بےرحمی پر سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے ۔

استاد نواز بھٹہ کا تعلق میری جنم بھومی کوٹ  ادو شہر سے ہے ۔اس سرائیکی دھرتی نے  فنون لطیفہ کے بےشمار فنکار پیدا کئےہیں جنہوں نے اپنی ثقافت ،زبان  ،سچائی اور احساسات کو دنیا تک پہنچایا ۔مگر چند ہی ایسے ہوتے ہیں جن کی آواز نسلوں تک زندہ رہتی ہے ۔استاد نواز بھٹہ سےقبل استاد پٹھانے خان مرحوم  کی آواز بھی اسی دھرتی سے پوری دنیا پر اپنا سحر طاری کرچکی ہے ۔یقینا”استاد نواز بھٹہ بھی انہی خوش نصیب فنکاروں میں  شامل ہیں ۔انہوں نے نے نصف صدی سے زائد عرصے میں سینکڑوں سرائیکی  اور اردو کلام گاۓ لیکن "دوستا زندگی بے وفا ہے ” آج ان کی شناخت بن کر پوری دنیا میں گونج رہا ہے ۔یہ وہ گیت ہے جس نے انہیں ہر گاوں ،ہر شہر اور شاید ہر ملک میں ہر سرائیکی سمجھنے والے دل تک پہنچا دیا ہے ۔اس گیت کی اصل طاقت  اس کے سچے ،سادہ مگر گہرۓ الفاظ ہیں جبکہ ان کی آواز میں   استاد پٹھانے خان مرحوم جیسی سرائیکی زبان کی دلسوزی ،سچائی ،عاجزی،اپنائیت ،وجدانیت اور اس وسیب کی محرومیوں کا دکھ بھی چھلکتا ہے ۔انسان ساری زندگی دولت ،شہرت اور آسائشوں کے پیچھے دوڑتا  رہتا ہے مگر آخرکار اسے یہی احساس ہوتا ہے کہ زندگی کسی کی وفادار نہیں جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان کا کردار ،اس کی محبت ،اس کی خدمت اور اس کی نیک نامی ہے ۔گو میں ان کے گیتوں اور غزلوں کو ہمیشہ سے ہی پسند کرتا رہا ہوں  مگر جو عروج اس کلام کو حاصل ہوا ہے ان کی ریاضت اور محنت  سے زیادہ ان پر خصوصی عطا خداوندی محسوس ہوتی ہے ۔

کچھ گیت یا اشعار صرف کانوں میں رس نہیں گھولتے بلکہ انسان کے دل، ذہن اور روح پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ وقت گزرنے کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ ہر نئے دور میں ایک نئی معنویت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ سرائیکی زبان کا شہرۂ آفاق کلام "دوستا زندگی بے وفا ہے” بھی انہی لازوال تخلیقات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ گیت ہے جس نے سرائیکی موسیقی کو ایک نئی پہچان دی اور استاد نواز بھٹہ کو عوامی محبت کی ایسی بلندیوں تک پہنچایا جہاں پہنچنا ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے برسوں تک بے شمار سرائیکی کلام گائے، مگر اس ایک گیت نے ان کی آواز کو ہر دل کی آواز بنا دیا۔ اس کلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں زندگی کی تلخ حقیقت کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی دائمی نہیں، دولت، شہرت، اقتدار اور خوبصورتی سب عارضی ہیں۔ جو چیز باقی رہتی ہے وہ انسان کا کردار، اس کی محبت، اس کی خدمت اور اس کے نیک اعمال ہوتے ہیں۔ آج  نئی نسل بھی اسے اسی شوق سے سنتی ہے جس طرح پرانی نسل سنتی آئی ہے، کیونکہ سچا فن اور سچی بات کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ سرائیکی دھرتی نے ہمیشہ ایسے فنکار پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی ثقافت، زبان اور احساسات کو دنیا تک پہنچایا۔ استاد نواز بھٹہ انہی عظیم فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی آواز میں درد بھی ہے، اپنائیت بھی، اور وہ سچائی بھی جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ آج جب زندگی کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے، رشتے کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور انسان مادیت کی دوڑ میں خود کو بھولتا جا رہا ہے، ایسے میں "دوستا زندگی بے وفا ہے” صرف ایک گیت نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ زندگی مختصر ہے، اس لیے نفرت کے بجائے محبت، غرور کے بجائے عاجزی اور خود غرضی کے بجائے انسانیت کو اختیار کرنا چاہیے۔ عظیم فنکار جسمانی طور پر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ استاد نواز بھٹہ کی آواز بھی آنے والی نسلوں تک سرائیکی ثقافت کی خوشبو بکھیرتی رہے گی، اور جب بھی یہ کلام گونجے گا، دل بے اختیار یہی کہے گا: "دوستا، زندگی بے وفا ہے۔ 

وقت گزر جاتا ہے، نسلیں اور سوچیں بدل جاتی ہیں، لیکن وہ آوازیں کبھی نہیں مرتیں جو انسان کے دل کی دھڑکن بن جائیں۔ "دوستا زندگی بے وفا ہے” محض ایک سرائیکی گیت نہیں بلکہ زندگی کی بے ثباتی کا ایسا پیغام ہے جو ہر دور میں اپنی معنویت برقرار رکھے گا۔ استاد نواز بھٹہ نے اپنی سحر انگیز آواز سے اس کلام کو امر کر دیا، اور یہی ایک سچے فنکار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے خود کو وقت کی قید سے آزاد کر دے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے علاقائی فنکاروں، زبان اور ثقافتی ورثے کی قدر کریں، کیونکہ جو قومیں اپنے فن اور فنکاروں کو زندہ رکھتی ہیں، تاریخ بھی انہیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ہمیں اپنے وسیب کی ان اخداداد صالاحیتوں بھری آوازوں  پر فخر کرنا چاہیے ۔ عظیم فنکار جسمانی طور پر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ استاد نواز بھٹہ کی آواز بھی آنے والی نسلوں تک سرائیکی ثقافت کی خوشبو بکھیرتی رہے گی، اور جب بھی یہ کلام گونجے گا، دل بے اختیار یہی کہے گا: "دوستا، زندگی بے وفا ہے۔استاد نواز بھٹہ کے لیے سلامتی اور صحت کی بادشاہی کی دعا ئیں ہیں ۔ "زندگی بے شک بے وفا ہے، مگر سچا فن، خلوص سے نکلی آواز اور محبت سے جڑا نام کبھی بے وفا نہیں ہوتے؛ وہ دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں”

مجھے کوٹ ادو کی دھرتی  اور وسیب کے ہی مایہ ناز اور عظیم  صوفی شاعر” بیاض سونی پتی ” مرحوم کی قبر کے کتبے پر لکھا ان کا ہی یہ شعر یا آ گیا ہے جو  شاید  اس  وائرل گیت کی بہترین تشریح بھی کرتا ہے  اور میری یہ استدعا ہے کہ استاد نواز بھٹہ صاحب اپنے شہر کے اس عظیم صوفی شاعر بیاض سونی پتی مرحوم کی کوئی ایک غزل ضرور  اپنے مخصوص لہجہ میں گا کر ان کے کلام کو بھی امر کردیں ۔یہ ان کے لیے اور سرزمین کوٹ ادو کے لیے بھی کسی اعزاز سے کم نہ ہو گا ۔

ہر چیز پرقادر وہی معبود خدا ہے 

انسان تو مجبور ہے راضی بارضا ہے 

کب جانیے کب اس کو بجھا دے کوئی جھونکا

یہ زیست لرزتا ہوا مٹی کا دیا ہے 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے