داتا گنج بخشؒ میلے کا حسن اور وزیراعلیٰ پنجاب و سیکرٹری اوقاف سے چند گزارشات
تحریر: محمد ندیم بھٹی
لاھور کی پہچان صرف اس کی تاریخی عمارتیں، قدیم بازار یا ثقافتی رنگ نہیں بلکہ وہ روحانی عظمت بھی ھے جس نے صدیوں سے اس شہر کو دنیا
بھر میں ممتاز مقام عطا کیا ھے۔ اس عظمت کا سب سے روشن مینار حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت علی بن عثمان الھجویریؒ کا مزارِ اقدس ھے، جہاں ہر روز ہزاروں اور سالانہ عرس کے موقع پر لاکھوں زائرین عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔ داتا گنج بخشؒ کا عرس محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ محبت، رواداری، اخوت، خدمتِ خلق اور اسلامی تہذیب کی ایک زندہ روایت ھے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ نے اپنی پوری زندگی انسانیت، علم، اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا پیغام عام کرنے میں گزاری۔ آپؒ کی شہرۂ آفاق کتاب کشف المحجوب آج بھی تصوف اور روحانیت کا ایک معتبر حوالہ سمجھی جاتی ھے۔ آپؒ کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ انسان کی عظمت اس کے کردار، عاجزی، دیانت اور خدمتِ خلق میں پنہاں ھے۔ یہی وہ پیغام ھے جو ہر سال عرس کے موقع پر لاکھوں دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ھے۔
داتا گنج بخشؒ کے سالانہ عرس کی ایک منفرد خوبصورتی یہ بھی ھے کہ یہاں ہر طبقۂ فکر، ہر زبان، ہر علاقے اور ہر عمر کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہاں نہ کوئی امیر ھوتا ھے نہ غریب، نہ کوئی بڑا ھوتا ھے نہ چھوٹا۔ سب کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضرت داتا گنج بخشؒ سے اپنی عقیدت کا اظہار ھوتا ھے۔ یہی منظر اسلام کے آفاقی پیغامِ مساوات اور بھائی چارے کی عملی تصویر پیش کرتا ھے۔
عرس کے ایام میں داتا دربار کا پورا علاقہ روحانی رنگوں میں ڈھل جاتا ھے۔ گنبد کی روشنی، قرآن کریم کی تلاوت، درود و سلام، ذکر و اذکار، قوالی کی روح پرور محفلیں، لنگر کی تقسیم اور عقیدت مندوں کی پرامن آمدورفت ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ھے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ھے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین بھی اس روحانی فضا سے بے حد متاثر ھوتے ہیں۔
ماضی میں داتا گنج بخشؒ کا عرس صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ لاھور کی تہذیبی شناخت کا بھی اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں رونقیں بڑھ جاتی تھیں۔ چھوٹے بڑے بازار آباد رہتے تھے، کھانے پینے کی دکانوں پر رش ھوتا تھا اور مقامی کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا تھا۔ بھاٹی گیٹ سے لے کر یادگار تک سڑکیں زائرین سے بھری رہتی تھیں۔ دور دراز شہروں اور دیہات سے آنے والے قافلے کئی کئی دن لاھور میں قیام کرتے تھے۔ ہوٹل، گیسٹ ہاؤس اور سرائے مکمل طور پر بھر جاتے تھے جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ھوتا تھا۔
زائرین کے بڑے بڑے گروپ اپنی مالی حثیت کے مبابق ایک کمرہ کرائے پر لے کر قیام کرتے، عبادت کرتے، اور جاری فیض سے مستفید اور عرس کی تقریبات میں شریک ھوتے اور میلہ ختم ہونے پر واپس اپنے شہروں کو روانہ ھو جاتے تھے۔ یہ روایت کئی دہائیوں تک جاری رھی اور اس سے لاھور کی مقامی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا رہا۔ افسوس کہ بعض اوقات انتظامی سختیوں اور غیر ضروری کارروائیوں کے باعث کئی بے گناہ زائرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ بعض مواقع پر گرفتاریاں اور مقدمات بھی سامنے آئے، جس سے عقیدت مندوں میں تشویش پیدا ھوئی۔ یقیناً قانون کی عملداری ضروری ھے، تاہم اصل توجہ جرائم پیشہ عناصر پر مرکوز رہنی چاہیے تاکہ حقیقی زائرین کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ھے کہ لاکھوں افراد کی آمد کے باعث انتظامیہ پر غیر معمولی ذمہ داریاں عائد ھوتی ہیں۔ ٹریفک کی روانی، صفائی، پارکنگ، رہنمائی، پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات، خواتین، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے آسانیاں، اور فول پروف سکیورٹی جیسے معاملات بروقت منصوبہ بندی کے متقاضی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتری ضرور آئی ھے،
لیکن مزید جدید اور مستقل اقدامات کی گنجائش اب بھی موجود ھے۔
محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ!
پنجاب کی ترقی، عوامی خدمت اور تاریخی و مذہبی مقامات کی بحالی کے لیے آپ کی حکومت مختلف منصوبوں پر کام کر رھی ھے۔ جس میں سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ دن رات مصروف عمل دکھائ دئتے ہیں ، داتا گنج بخشؒ کا مزار اور سالانہ عرس بھی ایسے اہم مواقع میں شامل ہیں جو نہ صرف لاکھوں زائرین بلکہ پاکستان کے مثبت اور پُرامن تشخص کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس لیے مؤدبانہ گزارش ھے کہ داتا دربار اور اس کے گردونواح کی ترقی کے لیے ایک جامع اور مستقل منصوبہ تشکیل دیا جائے، جس میں صرف عرس کے چند دن نہیں بلکہ پورا سال زائرین کی سہولت کو مدنظر رکھا جائے۔
اگر داتا دربار کے اطراف پیدل چلنے والوں کے لیے کشادہ اور محفوظ راستے، جدید معلوماتی رہنمائی مراکز، صاف ستھرے وضوخانے، معیاری واش رومز، جدید پارکنگ پلازے، خواتین، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے خصوصی سہولتیں، ہنگامی طبی امداد کے مراکز اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے تو زائرین کو حقیقی معنوں میں سہولت میسر آ سکتی ھے۔ اس کے ساتھ جدید سی سی ٹی وی نظام، ڈیجیٹل رہنمائی، ہیلپ ڈیسک اور رضاکاروں کی منظم ٹیمیں بھی عرس کے انتظامات کو مزید مؤثر بنا سکتی ہیں۔
اسی طرح داتا دربار کے اطراف تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کے مستقل حل، صفائی کے اعلیٰ معیار اور تاریخی عمارتوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ داتا دربار کے اردگرد موجود تاریخی بازاروں، قدیم گلیوں اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنا کر ایک خوبصورت روحانی و ثقافتی زون کی شکل دی جا سکتی ھے، جہاں آنے والے ملکی و غیر ملکی زائرین نہ صرف روحانی سکون حاصل کریں بلکہ لاھور کی تہذیبی خوبصورتی سے بھی لطف اندوز ھوں۔
عرس کے موقع پر مقامی تاجروں، ہوٹل مالکان، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور چھوٹے کاروباری طبقے کی معاشی سرگرمیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اگر حکومت اس موقع پر بہتر انتظامات، مناسب پارکنگ، ٹریفک مینجمنٹ اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے تو اس کا براہِ راست فائدہ ہزاروں خاندانوں تک پہنچ سکتا ھے۔ مذہبی سیاحت صرف روحانی سرگرمی نہیں بلکہ معاشی ترقی کا بھی ایک اہم ذریعہ ھے۔
یہ بھی ضروری ھے کہ عرس کے دوران ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو جیب تراشی، منشیات فروشی، بھکاری مافیا یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ھوں، جبکہ پرامن اور قانون پسند زائرین کے ساتھ عزت، سہولت اور خوش اخلاقی کا برتاؤ یقینی بنایا جائے۔ داتا گنج بخشؒ کی تعلیمات محبت، برداشت، خدمتِ خلق اور انسان دوستی کا درس دیتی ہیں، لہٰذا عرس کے انتظامات میں بھی انہی اقدار کی جھلک نمایاں نظر آنی چاہیے۔
داتا گنج بخشؒ کا عرس مذہبی سیاحت کے فروغ کا بھی ایک سنہری موقع ھے۔ اگر اس روحانی اجتماع کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں متعارف کرایا جائے، اس کی مناسب تشہیر کی جائے اور بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کے لیے معلوماتی اور رہنمائی کے مراکز قائم کیے جائیں تو پاکستان کا مثبت، معتدل اور صوفیانہ تشخص دنیا کے سامنے مزید نمایاں ھو سکتا ھے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ھے کہ وہ صفائی کا خیال رکھیں، قانون کی پابندی کریں، انتظامیہ سے تعاون کریں اور حضرت داتا گنج بخشؒ کی تعلیمات کے مطابق محبت، برداشت، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اولیائے کرام کا احترام صرف مزار پر حاضری تک محدود نہیں بلکہ ان کے اخلاق، کردار اور انسان دوستی کے پیغام کو عملی زندگی میں اپنانے میں ھے۔
داتا گنج بخشؒ کا میلہ ہمیں یہ سبق دیتا ھے کہ نفرت کے مقابلے میں محبت، تقسیم کے مقابلے میں اتحاد اور خود غرضی کے مقابلے میں خدمتِ خلق کو اختیار کیا جائے۔ یہی وہ فکر ھے جس نے صدیوں سے برصغیر کے معاشرے کو جوڑے رکھا اور آج بھی اسی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رھی ھے۔
آخر میں راقم یعنی محمد ندیم بھٹی کی ایک بار پھر محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سے مؤدبانہ گزارش ھے کہ داتا دربار، اس سے وابستہ تاریخی و ثقافتی ورثے، زائرین کی سہولت وادب ، مذہبی سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی مضبوطی کے لیے جاری اقدامات کو مزید وسعت دی جائے۔ داتا گنج بخشؒ کا یہ عظیم روحانی مرکز صرف لاھور ھی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مشترکہ سرمایہ ھے۔ اس کی خدمت دراصل ہماری تاریخ، ہماری تہذیب، ہماری روحانی شناخت اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثے کی حفاظت ھے۔ اگر اس عظیم مرکز کو عالمی معیار کی سہولتوں سے آراستہ کر دیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ھوگا بلکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے دلوں میں بھی پاکستان کا ایک روشن، پُرامن اور مہذب تشخص اجاگر کرے گا۔






