چھت نہیں گری؟
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور کی نواحی آ بادی کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے دو درجن سے زائد بچے اور انہیں تعلیم دینے والی استاد انیلا ملبے تلے دب گئے اہل علاقہ اور ریسکیو جوانوں نے کاروائی کر کے جان بچانے کی کوشش کیں پھر بھی 14۔ معصوم جانیں ضائع ہو گئیں حکومت نے حسب روایت زخمیوں کے علاج اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا بلکہ مالک مکان اوراستانی کو بھی زیر حراست لے لیا دعوی ہے کہ غیر جانبدار تحقیقات کے بعد مجرمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی 14۔ معصوم بچوں کی ہلاکت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا صدر مملکت، وزیراعظم، وزرائے اعلی، تمام سیاسی و سماجی شخصیات اور ہر انسان دوست اس غم میں اشکبار ہے مریم نواز نے تعزیتی پیغام کے ساتھ بچوں کے لواحقین کو 20۔ 20 ہزار امداد دینے کا اعلان بھی کیا ہے کیا اس سانحے پر یہی کچھ ہونا چاہیے؟ کیا انکوائری کمیٹی بنانا ہی کافی ہے یا پھر بات اس سے آ گے جانی چاہیے ؟کیونکہ 14 ۔قیمتی جانوں کا نقصان ہی نہیں ہمارا مستقبل اور مستقبل سنوارنے والی مسیحا روحانی ماں بھی نہ صرف ہسپتال میں پڑی ہے بلکہ اب اسے ملزمان کی فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا ہے وہ صرف دو سے تین سو روپے فیس لیتی تھی بلکہ کئی بچے تو مفت تعلیم حاصل کر رہے تھے،قصور کس کا ہے ابتدائی معلومات کے مطابق مالک مکان ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن اس کا وہ عمل جس کی وجہ سے چھت فری خالصتا مثبت تھا کہ مون سون کی آ مد سے قبل وہ کمرے کو محفوظ بنانے کے لیے چھت پر مٹی ڈلوا رہا تھا استانی انیلا بھی اچھی شہرت کی مالک تھیں ان اسی لیے ایک کمرے کے ٹیوشن سینٹر میں 35 بچے اصول تعلیم کے لیے موجود تھے انکی بیٹی اور بہن بھائی کے بچے بھی مارے گئے لیکن زخمی استانی اور اس کا فروٹ فروش شوہر گرفتاری کے باعث جنازے میں بھی شرکت نہیں کر سکا اسی لیے ایک کمرے کے ٹیوشن سینٹر میں 35 بچے حصول علم کے لیے موجود تھے، حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ غلطی کم علمی کی تھی مٹی دلوانے والے مالک کو اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ٫٫ گارڈر ،،گلے ہیں اور وہ مزید مٹی یا مزدوروں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے، مزدور ،مالک اور استانی سب کے سب رزق حلال کی خواہش میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے تھے پھر بھی ذرا سی ٫٫چوک،، نے سب کچھ حرام کر دیا ، تحقیقاتی کمیٹی کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے؟ کسے سزاوار قرار دیتی ہے اور کسے بری کرتی ہے اس سے قطع نظر حادثہ بھی پیش آ یا اور جانی و مالی نقصان بھی ہوا، اندازہ لگائیں کہ ان 14۔ معصوم بچوں میں سے چار ایک ہی گھر کے ہیں، ذرا سی غلطی سے پورا گھر اجڑ گیا استانی پر بھی یہ الزام لگے گا کہ اس نے غیر معیاری کمرے میں ٹیوشن سنٹر کیوں بنایا؟ ابھی یہ غم تازہ ہی تھا کہ لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں ایک سکول کی چھت اور گر گئی ، سمر کیمپ کے بچے ملبے تلے دب گئے یہاں بھی ایک بچہ جاں بحق اور پانچ سے زائد افراد زخمی ھوئے، یہ کاہنہ جیسا کم ترقی یافتہ نہ علاقہ تھا نہ ہی ایک کمرے کا خستہ حال ٹیوشن سینٹر، دو منزلہ عمارت تھی اور دوسرے فلور کا لینٹر صرف پانچ روز پہلے ھی ڈالا گیا تھا جسے جلد بازی میں مستری صاحب نے کھلوا دیا یہاں ھیوی٫٫ جنریٹر،، بھی چلایا گیا جس کی دھمک نے بھی سہولت کاری کی، یقینا چھوٹی سی غلطی یہاں بھی تھی انکوائری کمیٹی بن چکی ہے الزامات لگیں گے اور شاید کسی کو سزا بھی مل جائے لیکن کیا جو پھول بن کھلے مرجھا گیا اس کا متبادل کوئی دے سکے گا؟؟؟ نہیں ہرگز نہیں… 60 بچے اور آ ٹھ ٹیچرز کو ریسکیو کر لیا گیا تاہم چھ ٹیچرز اور ایک چپڑاسی گرفتار کر لیے گئے اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو گیا
مون سون کی آ مد آ مد ہے موسمیاتی تبدیلی کے باعث توقعات سے زیادہ بارشوں کے امکانات بھی موجود ہیں شہر میں اندرون لاہور مختلف قدیمی بستیوں میں ایسے گھر اور عمارات بھی ہیں جنہیں سرکاری محکموں نے مخدوش اور خطرناک قرار دیتے ہوئے مکینوں کو نقل مکانی کے نوٹس نہ صرف دے رکھے ہیں بلکہ ہر سال دیتے ہیں لیکن ان رہائش گاہوں کے باسی وراثتی مقدمات میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ جان کی بازی تو ہار سکتے ہیں اپنے پاؤں کی مٹی چھوڑنے کو ہرگز تیار نہیں حالانکہ ماضی میں کئی حادثات ان کی آ نکھوں کے سامنے ہو چکے ہیں پھر بھی وہ کہتے ہیں ٫٫ہم جائیں تو جائیں کہاں؟،، ان کا کہنا ہے کہ ہمارے آ باؤ اجداد کی جاگیریں بہن بھائیوں، عزیز و اقارب میں بٹوارے کی منتظر ہیں معاملات حق اور انصاف کے لیے عدالتوں میں پہنچے ھوئے ھیں، دو دو نسلیں دنیا سے رخصت ہو گئیں، تیسری نسل مقدمات بھگت رہی ہے لیکن عدالتیں اور نظام اپنی بے ڈھنگی چال میں مست ہے نہ کسی کو انصاف مل رہا ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل میں امید کی جا سکتی ہے، ایسے میں اگر رحمت باراں زحمت بن گیا تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے پھر کیا ہوگا؟ افسوس، تعزیتی پیغامات اور زیادہ سے زیادہ حکومتی امداد۔۔ متاثر رو پیٹ کر خاموش ہو جائیں گے اور انکوائری کمیٹی پولیس کی جھوٹی سچی تفتیش سے کسی کو ملزم سے مجرم بنا کر اپنی کاروائی مکمل کر کے سرخرو ہو جائے گی کون جانے؟ اس ساری کاروائی کے اثرات کون کون برسوں بلکہ ساری زندگی بھگتے گا،بظاھر خبر یہی ہے کہ ایک چھت اورگر گئی!!! کون کس کو بتائے کہ یہ ایک چھت نہیں ، پورا نظام گر رہا ہے محکموں کی رٹ قائم نہیں ورنہ کسی کی کیا جرات کہ وہ اپنی ذرا سی غلطی سے پورے معاشرے کو ھلا دے ،مریم نواز ایک مضبوط ،بہادر اور دلیر وزیراعلی ہیں وہ دوسرے صوبوں کے لیے مثال بنتے ہوئے انکوائری کمیٹیوں کی بجائے تمام شعبہ جات میں پڑھے لکھے تجربے کار لوگوں کی مشاورت کے لیے٫٫ تھنک ٹینک،، بنائیں جو نظام کی اصلاح اور استحکام کے لیے حقائق پر مبنی تجاویز دیں، حکومتی رٹ کو گلی محلوں تک مضبوط کرنے کے لیے جلد از جلد بلدیاتی سسٹم کی آ بیاری کریں یہ بالکل نہ سوچیں کہ اگر ترقیاتی فنڈز نچلی سطح پر دے دیں گی تو ایم۔ پی۔ اے حضرات ناراض ہو جائیں گے، موجودہ دور میں یقینا مریم نواز ہر محاذ پر جنگی انداز میں سرگرم عمل ہیں اس لیے انھیں بلدیاتی نظام کے لیے بھی ڈٹ جانا چاہیے ہر آ مرانہ دور میں بلدیاتی نظام کا سہارا صرف اس لئے لیا جاتا ہے کہ حکومتی رٹ کی جڑیں مضبوط ہو ریلیف اور سہولیات کے ثمرات عام آ دمی تک پہنچیں، اچھی بات کوئی بھی کرے اچھی ہوتی ہے اگر تنقید کی بجائے سیکھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو، مریم ان خصوصیات سے مالا مال ہیں
سسٹم بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے اس لیے صرف پنجاب میں٫٫ گھریلو ٹیوشن سینٹرز،، پر پابندی لگا کر کام نہیں چلے گا بلکہ ایک مربوط اور جامع حکمت عملی بنانی ہوگی موجودہ دور کی حقیقت یہ بھی ہے کہ تعلیم بھی اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ یہ گھریلو چھوٹے چھوٹے ٹیوشن سینٹر سفید پوش طبقے کا بھرم رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ورنہ بڑی اکیڈیمیاں کم از کم پانچ سے آ ٹھ ہزار فی مضمون وصول کرتی ہیں، جو عام آ دمی کے بس کی بات نہیں ،
صاحب اقتدار اور ذمہ داران اگر غیر جانبدارانہ انداز میں غور کریں تو یہ چھت نہیں گری بلکہ پورا نظام دھڑام سے زمین بوس ہو گیا ہے معصوم بے گناہ بچوں کا خون اور لواحقین کی بے بسی چیخ چیخ کراحتجاج کر رہی ہے کہ ایسا آ خری کب تک ہوگا؟ کیا غریب اور متوسط طبقے کو کبھی بھی جینے اور سکون کی گھڑیاں نصیب نہیں ہوں گی؟ ایسی غلطیوں کا ازالہ عوامی ذمہ داری اور حکومتی اقدامات سے ہی ممکن ہے اگر٫٫ ہم اور آ پ ،،محتاط ہو جائیں، اپنے انداز بدل لیں اور سرکاری آ گاہی کے ساتھ حکومتی مثبت اقدامات پر سختی سے عمل در آ مد کی کوئی راہ نکل آ ئے تو معاملات میں بہتری خود بخود ممکن ہو جائے گی ورنہ کسی ایک شخص کی غلطی سے ایک چھت نہیں مزید چھتیں گرتی رہیں گی حکومتیں امداد بطور جرمانے بھرتی رہیں گی ، بے حسی، کوتاہی اور نہ تجربہ کاری سے سانحات ہمارا مقدر بنتے رہیں گے ہم حکومتوں کو برا بھلا کہہ کر کلیجہ ٹھنڈا کرنے کی روش قائم رکھیں گے اور صاحب اقتدار عوام کو انگنت سخت اقدامات سے پابند کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے لیکن نتائج مثبت نہیں نکلیں گے ،حقیقت یہی ہے یہ ایک چھت نہیں گری بلکہ ایک سانحہ ہے اور ہمیں اس سے مستقبل کے لیے بہت کچھ سیکھنا ہوگا لیکن عقل کا گھاٹا،تعلیم کی کمی، بات یہیں ختم نہیں ہوتی المیہ یہ ہے کہ طاقتور کے لیے خانہ کعبہ اور عدالتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں لیکن کمزور صرف ان کے گرد چکر ہی لگا سکتے!!!
#############






