عنوان: مسلم لیگ (ن): اقتدار، مقبولیت اور تاریخ کے آئینے میں
تحریر: عبدالقادر مشتاق
پاکستان مسلم لیگ (ن) اس وقت بیک وقت دو بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ پہلا چیلنج معیشت کی بحالی ہے اور دوسرا عوامی مقبولیت کا بحران۔ کسی بھی جمہوری حکومت کی کامیابی کا انحصار انہی دو ستونوں پر ہوتا ہے۔ اگر معیشت کمزور ہو اور عوامی اعتماد متزلزل، تو اقتدار کا تسلسل بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں متعدد عوامی نوعیت کے منصوبے شروع کیے ہیں اور انتظامی سطح پر سرگرمی دکھائی ہے۔ تاہم ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب ان منصوبوں کا ذکر ہوتا ہے تو زیادہ تر گفتگو مریم نواز کی ذاتی کارکردگی کے گرد گھومتی ہے، نہ کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اجتماعی سیاسی ساکھ کے حوالے سے۔ ایک کامیاب سیاسی جماعت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ عوام اچھے کاموں کو فرد کے بجائے جماعت کی پالیسی اور وژن سے جوڑیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو انفرادی کارکردگی جماعتی مقبولیت میں مطلوبہ اضافہ نہیں کر پاتی۔ دوسری جانب معاشی محاذ پر حکومت کو سخت آزمائش کا سامنا ہے۔ حالیہ بجٹ سے عوام کو جس ریلیف کی توقع تھی، وہ پوری ہوتی نظر نہیں آئی۔ مہنگائی، روزگار، توانائی کی قیمتیں اور ٹیکسوں کا بوجھ بدستور عوام کی تشویش کا باعث ہیں۔ معاشی استحکام کے اشاریوں میں بہتری اپنی جگہ، لیکن جب تک عام آدمی اپنی روزمرہ زندگی میں آسانی محسوس نہ کرے، حکومتی کامیابی کا بیانیہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ ایسے حالات میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے لیے ریاستی اداروں کا اعتماد اس کی سیاسی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حوالے سے کئی سبق دیتی ہے۔ عمومی تاثر یہی رہا ہے کہ ریاستی ادارے کسی بھی ایسی حکومت کے ساتھ طویل عرصے تک کھڑے نہیں رہتے جو عوامی حمایت سے محروم ہو جائے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1988 میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار منتقل ہوا، اگرچہ اس دور کے سیاسی حالات اور مختلف شرائط پر بحث آج بھی جاری ہے۔ 1990 کے انتخابات بھی تنازعات کی زد میں رہے۔ مسلم لیگ (ن) برسراقتدار آئی، لیکن یہ حکومت بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکی۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو بھی مختلف ادوار میں اسی نوعیت کے سیاسی اور ادارہ جاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ اسی طرح 2018 کے انتخابات کے نتائج پر بھی اپوزیشن جماعتوں نے شدید اعتراضات کیے، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے حکومت تشکیل دی۔ پھر 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہوئی۔ اس پورے عمل نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کی سیاست میں طاقت کا توازن محض انتخابی نتائج سے نہیں، بلکہ مختلف سیاسی اور ادارہ جاتی عوامل سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ 2024 کے انتخابات بھی شدید سیاسی بحث اور اعتراضات کا مرکز رہے ہیں۔ ان انتخابات کے سیاسی اثرات کس حد تک اور کب سامنے آئیں گے، اس بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں عوامی اعتماد ہی بالآخر سیاسی استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ تصویر کا ایک اور رخ بھی قابلِ غور ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی جماعتیں بھی وقت کے ساتھ نئے سیاسی اور ادارہ جاتی چیلنجز سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں نے بھی یہ سبق دیا کہ اقتدار کا تسلسل ہمیشہ عوامی اعتماد اور مؤثر طرزِ حکمرانی سے مشروط رہتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ عوامی اعتماد کی بحالی پر مرکوز کرے۔ معاشی ریلیف، شفاف طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سیاسی مکالمہ ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی جماعت کو دیرپا استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔ محض اقتدار کا حصول کافی نہیں ہوتا، اصل کامیابی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ ریاستی اداروں کا تعاون وقتی سہارا ہو سکتا ہے، مگر مستقل سیاسی طاقت صرف عوامی اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ جو جماعت اس حقیقت کو جتنا جلد سمجھ لے، اس کے سیاسی مستقبل کے امکانات اتنے ہی روشن ہوتے ہیں۔






