ایک عہد کا اختتام یا نئے دور کا آغاز؟ ایران کے سپریم لیڈر کے جنازے پر عالمی سیاست کا تجزیہ
تحریر: ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق
تاریخ کے صفحات میں بعض جنازے صرف ایک فرد کی رخصتی نہیں ہوتے بلکہ ایک نظریے، ایک دور اور ایک سیاسی عہد کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر کا جنازہ بھی اگر تاریخ کے اس موڑ پر دیکھا جائے تو یہ صرف مذہبی عقیدت یا قومی سوگ کا منظر نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، طاقت کے توازن اور عالمی تعلقات کا ایک اہم باب تصور کیا جائے گا۔
ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران نے ایک ایسا نظام اختیار کیا جس میں مذہبی قیادت کو ریاستی فیصلوں میں مرکزی مقام حاصل ہوا۔ اس نظام نے ایران کو ایک طرف اپنے حامیوں کے نزدیک خود مختاری اور مزاحمت کی علامت بنایا، تو دوسری طرف مخالفین کے نزدیک یہ مسلسل بحث اور تنقید کا موضوع رہا۔
سپریم لیڈر کی شخصیت ایران کے سیاسی ڈھانچے کا محور ہوتی ہے۔ صدر، پارلیمان، فوجی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلوں میں اس منصب کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ایسے رہنما کی رخصتی صرف ایک داخلی تبدیلی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سوالات پیدا کرتی ہے۔
جنازے میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت کو ہمیشہ صرف ایک مذہبی جذبے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک سیاسی پیغام بھی ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں عوامی اجتماعات طاقت، وفاداری اور نظریاتی وابستگی کے اظہار کا ذریعہ رہے ہیں۔
ایران کے حامی اس قیادت کو مغربی دباؤ کے سامنے مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک پابندیوں، سفارتی تنہائی اور عالمی دباؤ کے باوجود ایران کا اپنے مؤقف پر قائم رہنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ دوسری جانب ناقدین انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور معاشی مسائل کو بنیاد بنا کر اس طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایک شخصیت رخصت ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ایران کس سمت سفر کرے گا؟
کیا آنے والی قیادت پرانی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھے گی یا بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق نئے راستے تلاش کرے گی؟
ایران اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ معاشی پابندیاں، نوجوان نسل کی توقعات، عالمی سفارتی دباؤ اور خطے میں طاقت کی کشمکش ایسے معاملات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ عراق، شام، لبنان، فلسطین اور خلیجی سیاست میں ایران کی پالیسیوں نے خطے کے توازن کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے قیادت کی تبدیلی پر صرف تہران نہیں بلکہ واشنگٹن، ریاض، ماسکو، بیجنگ اور پوری دنیا کی نظریں ہوتی ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے رہنماؤں کے جانے کے بعد قومیں دو راستوں پر کھڑی ہوتی ہیں: یا تو وہ ماضی کی روایت کو اسی شکل میں جاری رکھتی ہیں، یا نئے حالات کے مطابق اپنے سفر کو نیا رخ دیتی ہیں۔
ایران کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ اپنی نظریاتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی نسل کے سوالات کا جواب کیسے دیتا ہے۔ آج کی دنیا صرف طاقت کے اظہار سے نہیں چلتی بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور عوامی اعتماد بھی ریاستوں کی اصل طاقت بن چکے ہیں۔
کسی بھی بڑے رہنما کا جنازہ تاریخ کا آخری باب نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ جانے والا شخص صرف ماضی کا حصہ بنا یا آنے والے زمانوں پر بھی اپنے اثرات چھوڑ گیا۔
ایران کی آنے والی قیادت کے سامنے بھی یہی سوال ہوگا کہ وہ تاریخ کو دہراتی ہے یا تاریخ کا نیا رخ متعین کرتی ہے۔
کیونکہ قوموں کی اصل آزمائش قیادت کے موجود ہونے میں نہیں بلکہ قیادت کے بدل جانے کے بعد شروع ہوتی ہے۔





