#اداریہ

خامنہ ای شہید کی نماز جنازہ میں پاکستاں کی سیاسی و عسکری قیادت شریک

Fahad 01

آج کا اداریہ

سابق ایرانی سپریم کمانڈرعلی خامنہ ای شہید کی تدفین سے متعلق سات روزہ تقریبات تین جولائی سے نو جولائی تک تہران، قم، نجف اور کربلا میں ایک ساتھ شروع ہو چکی ہیں، جبکہ آخر میں انھیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی اور
وزیراعظم نے شہید سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔پاکستانی قیادت نے گرینڈ مصلا امام خمینی آمد پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ پاکستان کا ایک  اعلیٰ سطح کا وفد بھی تہران پہنچا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی۔
اس وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھxٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔تہران کے گرینڈ مصلا امام خمینی پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستانی وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
رسوماتِ تکفین کے دوران وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفد کے دیگر ارکان نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے فاتحہ خوانی کی اور انہیں ملتِ اسلامیہ کے لیے خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔وزیراعظم نے اسلام کے لیے شہید سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک غیر معمولی بصیرت، حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔وزیراعظم نے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور برادر عوامِ ایران کے ساتھ اس قومی سانحے پر مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور شہید رہنما کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی۔شہید علی خامنہ ای کی میت شیشے کے تابوت میں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھ دی گئی جہاں لاکھوں سوگواروں نے امریکا اور ٹرمپ سے بدلہ لینے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے روز سوگ، مذہبی عقیدت اور انتقام کے جذبات نمایاں رہے۔امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں جمع لاکھوں افراد نے سرخ پرچم تھامے ہوئے تھے جو ایران میں انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔شرکا پرچم لہراتے ہوئے انتقام، انتقام، امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے جبکہ شرکا نے خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان بھی کیا۔
شیعہ روایت میں سرخ پرچم مظلوم کے خون کا بدلہ لینے اور انصاف کے مطالبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ متعدد شرکا سینہ کوبی اور مرثیہ خوانی کرتے ہوئے امریکا اور ٹرمپ مخالف نعرے لگاتے رہے۔
میڈیا سے گفتگو میں شرکا نے کہا کہ وہ صرف تدفین میں شرکت نہیں بلکہ خون کا بدلہ لینے کے عزم کے اظہار کے لیے آئے ہیں۔شرکا نے اپنی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ذمہ دار کے خلاف انتقامی کارروائی کی جائے اور عالمی سطح پر دباؤ ڈالا جائے۔اے ایف پی کے مطابق گرینڈ مصلیٰ کے وسیع صحن میں ہزاروں سوگوار سرخ جھنڈے اٹھائے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کے منتظر رہے اور جیسے ہی ایرانی پرچم میں لپٹا تابوت ایک بلند سیاہ اسٹیج پر رکھا گیا تو لوگ زار و قطار رونے لگے۔
اس موقع پر فضا آہ و بکا سے گونج اُٹھی۔ شرکا قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے۔ درود و سلام پیش کیا گیا، کہیں کہیں نوحہ خوانی اور سینہ کوبی بھی کی گئی۔سٹیج کے اطراف ایرانی پرچم، سیاہ علم اور خامنہ ای کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر آویزاں تھیں جبکہ قرآن کی تلاوت اور مرثیوں کے بعد عوام کو آخری دیدار کا موقع دیا گیا۔ گرینڈ مصلیٰ کے اطراف تمام بڑی شاہراہیں بند رہیں، متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور جنازہ گاہ تک پہنچنے والے افراد کی سخت تلاشی لی گئی۔صبح سویرے میٹرو اسٹیشنوں کے باہر بھی ہزاروں افراد کی قطاریں دیکھی گئیں جو آخری رسومات میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔پاکستان وزیراعظم شہباز شریف’ فیلڈمارشل عاصم منیر کی تہران آمد سے قبل پاکستان کا ایک اعلی سطحی وفد چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں ایران پہنچ چکاتھا۔اس موقع پر
سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ جنازے میں شرکت کی۔وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں اپنے ایرانی بھائیوں کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

خامنہ ای شہید کی نماز جنازہ میں پاکستاں کی سیاسی و عسکری قیادت شریک

چھت نہیں گری؟

خامنہ ای شہید کی نماز جنازہ میں پاکستاں کی سیاسی و عسکری قیادت شریک

07/07/2026 Daily Sazameen L

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے