الگورتھم کی آمریت اور مکالمے کا زوال
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
کبھی زمانہ تھا کہ اختلافِ رائے کو معاشرے کی خوبصورتی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ بیٹھکوں میں، چائے خانوں میں، درس گاہوں میں اور ادبی محفلوں میں گھنٹوں بحث کرتے تھے۔ کوئی ایک نقطۂ نظر پیش کرتا، دوسرا اس سے اختلاف کرتا، تیسرا دونوں کے درمیان کوئی نئی راہ نکالنے کی کوشش کرتا۔ دلیل کا احترام تھا، سننے کا حوصلہ تھا اور اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکالمہ دم توڑ رہا ہے اور اس کی جگہ شور، جذباتیت اور اندھی عقیدت نے لے لی ہے۔
اس تبدیلی کے پس منظر میں اگر کسی ایک عنصر کو سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیا جائے تو وہ سوشل میڈیا کا الگورتھم پر مبنی کاروباری ماڈل ہے۔ بظاہر سوشل میڈیا ہمیں ایک آزاد دنیا دکھائی دیتا ہے جہاں ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی پسند سے مواد دیکھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل الگورتھم طے کر رہا ہوتا ہے کہ ہمیں کیا دکھایا جائے، کیا چھپایا جائے اور کس چیز پر ہماری توجہ مرکوز رکھی جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مقصد لوگوں کو معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں زیادہ سے زیادہ وقت تک اپنی اسکرینوں سے چپکائے رکھنا ہے۔ ان کی آمدنی اشتہارات سے آتی ہے اور اشتہارات کی آمدنی صارفین کی مصروفیت یعنی "انگیجمنٹ” سے جڑی ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ وقت صارف پلیٹ فارم پر گزارے گا، اتنے ہی زیادہ اشتہارات دیکھے گا اور کمپنی اتنا ہی زیادہ منافع کمائے گی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مواد لوگوں کو زیادہ دیر تک مصروف رکھتا ہے؟ کیا متوازن اور مدلل گفتگو؟ کیا علمی مباحث؟ کیا تحقیقی مضامین؟ افسوس کہ جواب نفی میں ہے۔ انسانی نفسیات جذباتی اور سنسنی خیز مواد کی طرف زیادہ تیزی سے متوجہ ہوتی ہے۔ غصہ، خوف، نفرت، حسد، جنون اور تعصب ایسے جذبات ہیں جو انسان کو فوراً ردعمل پر مجبور کرتے ہیں۔ چنانچہ الگورتھم انہی جذبات کو ابھارنے والے مواد کو ترجیح دیتا ہے۔
اسی لیے آج سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ کامیاب وہ لوگ ہیں جو سنجیدگی سے زیادہ سنسنی بیچتے ہیں۔ اینکرز، یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور نام نہاد انفلوئنسرز جانتے ہیں کہ اگر وہ متوازن گفتگو کریں گے تو شاید انہیں چند سو لوگ سنیں گے، لیکن اگر وہ اشتعال انگیز زبان استعمال کریں، کردار کشی کریں، خوف پھیلائیں یا جذباتی نعروں کا سہارا لیں تو لاکھوں لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر فحاشی، سنسنی خیزی، سازشی نظریات، نفرت انگیز تقاریر اور جذباتی ہیجان کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اس ماحول میں عقل، تحقیق اور دلیل پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ شور شرابا اور اشتعال انگیزی مرکزِ نگاہ بن جاتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کے الگورتھمز کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔ فیس بک گروپس، واٹس ایپ کمیونٹیز، ایکس (ٹوئٹر) کی مہمات اور یوٹیوب چینلز کے ذریعے ایسے حلقے تشکیل دیے جاتے ہیں جہاں صرف ایک ہی قسم کا بیانیہ گردش کرتا ہے۔
یہ گروپس دراصل "ایکو چیمبرز” یا بازگشتی کمروں کی مانند ہوتے ہیں۔ ان میں ایک ہی خیال بار بار دہرایا جاتا ہے، ایک ہی خبر مختلف انداز سے پیش کی جاتی ہے اور ایک ہی نظریے کو مسلسل تقویت دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گروپ کے ارکان کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ پوری دنیا انہی کی طرح سوچتی ہے۔
فرض کریں کسی شخص کو روزانہ پچاس پیغامات موصول ہوں جن میں ایک سیاسی رہنما کو نجات دہندہ اور دوسرے کو دشمنِ وطن قرار دیا جائے۔ چند دن بعد وہ اس بیانیے کو سوال کے بغیر قبول کرنے لگے گا۔ چند ہفتوں بعد وہ مخالف رائے سننے سے بھی انکار کر دے گا۔ اور چند مہینوں بعد وہ ہر اس شخص کو دشمن سمجھنے لگے گا جو اس کے خیالات سے اختلاف کرے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ذہنی آزادی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
انسان فطری طور پر ان معلومات کو پسند کرتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود عقائد کی تصدیق کریں۔ ماہرینِ نفسیات اسے "کنفرمیشن بائس” کہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے الگورتھمز اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر آپ کسی خاص قسم کا مواد پسند کرتے ہیں تو الگورتھم آپ کو اسی نوعیت کا مزید مواد دکھاتا رہتا ہے۔
آہستہ آہستہ آپ ایک ایسے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں جہاں ہر چیز آپ کے خیالات کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ درست ہیں اور باقی سب غلط۔ اس طرح تعصب مضبوط ہوتا جاتا ہے اور تنقیدی سوچ کمزور پڑتی جاتی ہے۔
یہ کیفیت صرف سیاست تک محدود نہیں۔ مذہب، ثقافت، جنس، قومیت اور سماجی مسائل سمیت ہر شعبے میں یہی رجحان بڑھ رہا ہے۔ لوگ اپنی پسندیدہ شخصیات کے ایسے اسیر ہو چکے ہیں کہ ان کی ہر بات درست اور مخالف کی ہر بات غلط نظر آتی ہے۔
بدقسمتی سے یہ صورتحال معاشرے کو دو متوازی دنیاؤں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ایک شخص جس حقیقت کو سچ سمجھ رہا ہوتا ہے، دوسرا اسے جھوٹ قرار دے رہا ہوتا ہے۔ دونوں کے ذرائع اطلاعات الگ، دونوں کے ہیرو الگ اور دونوں کی حقیقتیں الگ ہوتی ہیں۔
اس ماحول میں مکالمہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
ماضی میں اختلاف کے باوجود گفتگو جاری رہتی تھی۔ آج اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مختلف رائے دے تو فوراً اسے غدار، جاہل، لفافہ، ایجنٹ یا کسی اور توہین آمیز لقب سے نواز دیا جاتا ہے۔ دلیل دینے کے بجائے کردار کشی شروع ہو جاتی ہے۔
یہ رویہ صرف عوام تک محدود نہیں رہا بلکہ دانشوروں، صحافیوں، سیاست دانوں اور تعلیمی حلقوں تک پھیل چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک ایسا مائیکروفون دے دیا ہے جس کے ذریعے وہ پوری دنیا تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہے، مگر افسوس کہ اس آواز میں برداشت اور مکالمے کی روایت کم ہوتی جا رہی






