#کالم

گرمی دانے

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.36.23

حکیم حارث نسیم سوہدروی
harrisnaseem 080@gmail.com
موسم گرما میں جب شدت کی گرمی ہوتی ہے۔ اور حبس میں اضافہ ہوجاتا ہے توپسینہ بکثرت آتا ہے۔ جس کی وجہ سے جلد کے مخصوص غدود کے منہ بند ہوجاتے ہیں اور ان غدود سے مواد سوراخوں سے بوجہ پسینہ باہر نہیں نکل پاتا اور یہ مواد ان سوراخوں میں جمع ہوتا ہے۔ جس سے پھوڑے پھنسیاں نکل آتے ہیں۔ خصوصاً یہ معاملہ موسم گرما میں زیادہ ہوتا ہے۔ چونکہ اس موسم میں شدید حبس سے پسینہ زیادہ آتا ہے اور پسینہ کے اخراج والے غدود بند ہو جاتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے پسینہ کے غدود ابھی اچھی طرح فعال نہیں ہوتے۔ شدت گرمی و حبس کے باعث زیادہ فعال نہ ہونے کی وجہ سے جسم کو ٹھنڈا نہیں کر پاتے۔ تو اس صورت میں گرمی دانے پھوڑے پھنسیوں کی صورت ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچے کا بہت گرمی والے کمرے میں رہنا، گرم اور موٹے کپڑوں کا استعمال بھی سبب ہو سکتا ہے۔
گرمی دانے جسم کے ہر حصے پر ظاہر ہوسکتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے۔ ان حصوں پر زیادہ ہو تے ہیں۔ جہاںہوا کم لگتی ہے۔ اگر جسم کو اچھی طرح رگڑ کر صاف کیا جائے تو چکنائی کم ہوجاتی ہے۔ اس طرح غدود کا منہ کھل کر مواد بذریعہ پسینہ خارج ہوجاتا ہے۔ گرمی دانوں میں سوزش بھی ہوتی ہے۔ پسینہ کے غدود جلد کے اندر پسینہ کے اخراج کے باعث ان گرمی دانوں میں سوزش ہوجاتی ہے۔ اگر کسی محدب عد سے سے دیکھا جائے تو ان دانوں میں پسینے کے نہایت باریک مسام نظر آئیں گے۔ ایسے بچے جن کی رنگت صاف اور گوری ہو۔ ان کو گرمی دانے زیادہ اذیت دیتے ہیں۔ جب کہ کالی اور سانولی رنگت والوں کو کم تکلیف دیتے ہیں۔ جب یہ دانے بڑھ جاتے ہیں تو خارش کے ساتھ اذیت بھی دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی مناسب تدبیر نہ کریں تو پیپ پڑنے پر بہت تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں۔ شدت گرمی میں دیکھا گیا ہے کہ خاص قسم کے اُبھرے ہوئے دانے ہوتے ہیں۔ جن میں پیپ بھرجاتی ہے۔ جب ان میں خارش ہوتی ہے۔ تو کھجانے کی وجہ سے یہ انفیکشن جسم کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب گرمی کے بعد برسات میں ساون کی ہوائیں چلتی اور بارشیں ہوتی ہیں تو یہ بغیردوائی ہی ٹھیک ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگرا یسا نہ ہو تو پھر معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
گرمی دانے کیوں نکلتے ہیں گرمی دانے
اس وقت نکلتے ہیں جب زیادہ گرمی یا نمی کی وجہ سے پسینہ خارج کرنے والے مسام بند ہو جاتے ہیں اور پسینہ جلد کے نیچے جمع ہو کر سوزش، خارش اور چھوٹے چھوٹے سرخ دانوں کا باعث بنتا ہے۔مزید بنیادی وجوہات اور بچاؤ کے طریقے درج ذیل ہیں:اہم وجوہات:مساموں کا بند ہونا: ضرورت سے زیادہ پسینہ اور جلد کے مردہ خلیات پسینے کی نالیوں کا راستہ روک دیتے ہیں
。تنگ اور غیر ہوادار کپڑے: ایسے کپڑے جو ہوا کو گزرنے نہیں دیتے، پسینہ خشک ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں
。حبس اور نمی: گرم اور مرطوب موسم میں پسینہ جلدی خشک نہیں ہوتا
。بچاؤ کے لیے فوری اقدامات:ٹھنڈا ماحول: ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں رہیں یا پنکھے کا زیادہ استعمال کریں تاکہ ہوا لگتی رہے。ہلکے کپڑے: ڈھیلے، باریک اور سوتی کپڑے پہنیں۔پسینہ خشک رکھیں: بار بار نہائیں اور جلد کو خشک رکھیں。پاؤڈر کا استعمال: پسینہ جذب کرنے کے لیے عام ٹالکم پاؤڈر یا کارن سٹارچ کا استعمال کریں。گھریلو علاج: جلن اور خارش سے بچنے کے لیے ایلوویرا جیل کا استعمال انتہائی مفید ہے。گرمی دانوں کا علاج کیسے کیا جائے
گر میوں میں کو شش کر یں کہ با ر بار نہا ئیں، با ر بار نہا نے سے جلد ٹھنڈ ی رہتی ہے۔ ایسی کریم یا کاسمیٹکس استعمال نہ کریں جس سے جسم کے مسام بند ہوجاتے ہیں۔ گرمی کی شدت اور ہوا میں نمی کی زیادتی سے پسینہ زیادہ آتاہے اور اگر یہ پسینہ جلدی سوکھ نہ جائے تو اپنی تیزابیت کی وجہ سے جلد کو نقصان پہنچاتاہے اور جلد میں پسینہ…پاکستان میں شدید گرمی اور گرمی دانے اسباب اور چند قدرتی علاج …اس شدید گرمی کی وجہ سے جسم پر مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں جن میں گرمی دانے سر فہرست ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے سرخ دانے نہ صرف خارش پیدا کرتے ہیں
گرمی دانوں کے لیے یہ تدبیر مفید ثابت ہوتی ہیں۔
٭ روزانہ صبح و شام نہایا جائے۔
٭ اگر ہو سکے تو کوئی دوائی(Medicated)صابن لگا کر سارے جسم کی صفائی کریں، خصوصاً ان جگہوں پر جہاں زیادہ پسینہ آتا ہو۔
٭ گرمی سے بچا جائے۔ شدت گرمی میں باہر سے آنے کے بعد ہاتھ منہ ضرور دھوئیں، تاکہ گرد و غبار صاف ہو جائے۔
٭ شدید گرمی میں باہر جانے سے احتیاط کریں، اگر جانا ضرور ہو تو سیاہ چشمہ ضرور استعمال کریں، اور سر پر گیلا رومال رکھیں۔ سر اور چہرے کو گرمی سے بچائیں۔
٭ کپڑے ہلکے پھلکے اور ہوا دار استعمال کریں۔ موٹے اور گرم کپڑوں سے احتیاط کریں۔ گہرے رنگ کے کپڑے پہننے سے احتیاط کریں۔ کیوںکہ سورج کی شعاعیں گہرے رنگت اور موٹے کپڑوں میں جلد جذب ہو جاتی ہیں۔ جبکہ ہلکے رنگت کے کپڑے سورج کی شعاعیں جذب نہیں کرتے۔
٭ شدت گرمی میں باہر جاتے ہوئے خوب پانی پئیں۔ اور پانی کی بوتل ہمراہ رکھیں۔
٭ موسم گرما خصوصاً برسات میں کھلے ہوا دار کمرے میں رہیں۔ رات سوتے ہوئے کمرے کی کھڑکیاں، روشندان کھلے رکھیں۔
٭ گرمی دانوں کی خارش ختم کرنے کے لیے کوئی ٹوٹکا نہ استعمال کریں۔
٭ جس کمرے میں سوتے ہیں۔ اس کا درجہ حرارت گرم نہ ہو بلکہ مناسب ہو۔ زیادہ گرم کمرے میں نہ سوئیں۔
٭ معالج کے مشورہ کے بغیر چہرہ پر کوئی لوشن یا کریم استعمال نہ کریں۔
اگر آپ مندرجہ بالا تدابیر پر عمل کریں تو اس طرح گرمی دانوں سے بچاجا سکتا ہے اور ان میں کمی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اپنے قریبی مستند معالج سے رجوع کریں۔

گرمی دانے

فکر حسین اور نوجوان 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے