10 محرم الحرام اور سیدناامام حسین علیہ السلام کا پیغامِ حیات
حروف بے زباں مرزا رضوان
تاریخِ انسانی کے صفحات پر بہت سے واقعات رقم ہوئے، بہت سی سلطنتیں بنیں اور مٹ گئیں، لیکن واقعہ کربلا ایک ایسا انمٹ نقش ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ دھندلانے کے بجائے ہر لمحہ تابندہ ہوتا جا رہا ہے۔ 10 محرم الحرام کا دن محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نقطہِ عروج ہے جہاں انسانیت، جرات، استقامت اور حق پرستی اپنے معراج کو پہنچی۔ سیدنا امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ گرامی اور ان کی عظیم قربانی، کسی خاص فرقے یا گروہ کی میراث نہیں، بلکہ یہ عالمِ انسانیت کے لیے وہ مشعلِ راہ ہے جو تاریک راتوں میں حق کی پہچان کراتی ہے۔
کربلا کی سر زمین پر جو کچھ ہوا، وہ محض دو گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہ تھی۔ یہ خیر اور شر، عدل اور ظلم، اور اصول پسندی اور مفاد پرستی کے مابین ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ ایک طرف یزیدی طاقت تھی جس نے اقتدار کو ذاتی ہوس اور ناجائز خواہشات کا ذریعہ بنا لیا تھا، اور دوسری طرف سیدنا امام حسین علیہ السلام تھے، جن کے پیشِ نظر صرف اللہ کی رضا، نبوی سنت کی پاسداری اور امتِ مسلمہ کی اصلاح تھی۔امام حسین علیہ السلام کا مقصدِ شہادت اقتدار کا حصول کبھی نہیں تھا۔ آپ نے تو اُس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے بیعت کے مطالبے کو ٹھکرا کر واضح کر دیا تھا کہ جب حاکم وقت دین کی حدود کو پامال کر رہا ہو، جب عدل و انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہو، تو خاموش رہنا گناہِ عظیم ہے۔ آپ کا یہ جملہ، "مجھ جیسے کو یزید جیسے کی بیعت کرنا ہرگز ممکن نہیں،” تاریخ کے ہر دور کے لیے ایک اصول بن گیا۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق کا علمبردار کبھی بھی باطل کے سامنے سرنگوں نہیں ہو سکتا، چاہے اس کے بدلے اسے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
10 محرم کا وہ دن، جب میدانِ کربلا میں امامِ عالی مقام سرکار سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان اور جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ بھوک اور پیاس کے عالم میں بھی صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا، آج بھی ہمارے دلوں کو لرزا دیتا ہے۔ ایک طرف نواسہِ رسول ﷺ کی مقدس ہستیاں تھیں، جن کی رگوں میں سیدۃ النساء العالمین بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا خونِ پاک دوڑ رہا تھا، اور دوسری طرف وہ بے رحم لشکر تھا جو انسانیت کے تمام تقاضوں کو پسِ پشت ڈال چکا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے شہادت کو گلے لگایا تاکہ اسلام کی روح کو زندہ کیا جا سکے۔ آپ کی شہادت نے باطل کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ ثابت کیا کہ خونِ حسینؓ، ظلم کی بنیادوں کو مسمار کرنے کے لیے کافی ہے۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آج کے دور میں امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کی کیا اہمیت ہے؟ کیا ہم صرف رونے اور ماتم کرنے یا دکھ کے اظہار تک ہی محدود ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات عملی زندگی میں نفاذ چاہتی ہیں۔ آپ کا پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرے میں جب بھی کہیں ظلم ہو، نا انصافی ہو یا حق کو دبایا جا رہا ہو، تو ایک باشعور انسان کی حیثیت سے آواز بلند کرنا امامِ عالی مقام کا درس ہے۔ خاموشی اکثر اوقات ظالم کی حمایت کے مترادف ہوتی ہے۔زندگی میں مشکلات اور آزمائشیں آئیں گی، لیکن حق کے راستے پر چلتے ہوئے مصیبتوں کا سامنا کرنا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنا ہی کامیابی ہے۔ کربلا کا سبق یہی ہے کہ فتح تعداد کی کثرت سے نہیں، بلکہ مقصد کی حقانیت اور استقامت سے ملتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں بھی انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آپ کے اخلاقِ عالیہ دشمنوں کے ساتھ بھی اتنے ہی بلند تھے، جتنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔ یہ درس ہے کہ ہم اپنے اخلاق، کردار اور رویوں سے لوگوں کے دل جیتیں۔واقعہ کربلا کے ہولناک ماحول میں بھی امام حسین علیہ السلام نے نماز کو فراموش نہیں کیا۔ عصر کے وقت میدانِ جنگ میں سجدہِ ریز ہو کر آپ نے بتا دیا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود اللہ کا حکم سب سے مقدم ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری تمام تر مصروفیات اور مسائل کے باوجود نمازِ پنجگانہ کا اہتمام ہماری ترجیح ہونا چاہیے۔آج کا دور مادیت پرستی کا دور ہے۔ ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے، جہاں اصولوں کو مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں امام حسین علیہ السلام کی زندگی سے سیکھنا ہوگا کہ کیسے ایک انسان اپنے ضمیر کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو بتانا ہوگا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ضابطہِ حیات ہے۔ اگر ہم اسلام کی سربلندی اور ایک عادلانہ معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں، تو ہمیں امام حسین علیہ السلام کے راستے پر چلنا ہوگا۔کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ یزیدیت صرف ایک دور کا نام نہیں، بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔ جہاں بھی ظلم ہے، جہاں بھی نا انصافی ہے، جہاں بھی اللہ کے قانون کو توڑا جا رہا ہے، وہاں یزیدیت زندہ ہے۔ اور جہاں بھی اس کے خلاف آواز اٹھتی ہے، وہاں حسینیت کا پیغام زندہ ہے۔
یاد رکھیے! حسینؓ زندہ ہیں، ان کے مشن کے ساتھ، ان کی تعلیمات کے ساتھ، اور ہر اُس دل کے ساتھ جو دھڑکتا ہے تو صرف حق کی حمایت کے لیے۔آخر میں، دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں سیدنا امام حسین علیہ السلام کے مشن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور حق و سچ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اپنے کردار سے یہ ثابت کریں کہ ہم حسینیت کے سچے پیروکار ہیں۔ آمین






