روشنی اور یادداشتلاہور کی گم گشتہ تصویری تہذیب کا زندہ نوحہ
منشاقاضی حسبِ منشا تبصرہ نگار
کتابیں محض کاغذ پر ثبت الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات وہ زمانوں کی سانسوں، تہذیبوں کی دھڑکنوں اور تاریخ کی خاموش گواہیوں کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک منفرد اور غیر معمولی کتاب "Between Light and Memory” منظرِ عام پر آئی ہے، جسے ڈاکٹر کنول خالد اور خالد نواز نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب لاہور سے وابستہ شیشے کی پلیٹوں (Glass Plate Negatives) پر محفوظ نادر تصاویر کے اس عظیم ذخیرے کو قارئین کے سامنے پیش کرتی ہے جو اپنی نوعیت کا شاید اب تک کا سب سے بڑا مطبوعہ مجموعہ ہے۔
"Between Light and Memory” صرف ایک تصویری البم نہیں بلکہ ایک تہذیبی دستاویز ہے۔ اس کتاب کا بنیادی موضوع ان تاریخی مناظر، عمارات، گلیوں، بازاروں اور انسانی زندگیوں کو محفوظ کرنا ہے جو وقت کی گرد میں کہیں اوجھل ہو چکی ہیں۔ شیشے کی پلیٹوں پر محفوظ تصاویر فوٹوگرافی کی ابتدائی تاریخ کا وہ باب ہیں جنہیں جدید ڈیجیٹل دور میں اکثر فراموش کر دیا گیا ہے۔
یہ کتاب ہمیں اس دور میں لے جاتی ہے جب لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں، مذاہب اور روایات کا سنگم تھا۔ ہر تصویر ایک خاموش داستان سناتی ہے، ہر منظر ایک گم شدہ زمانے کی یاد دلاتا ہے اور ہر فریم ماضی کے دریچوں کو وا کرتا محسوس ہوتا ہے۔ غالب نے تو یادِ ماضی کو عذاب قرار دیا تھا آج میں ماضی کے ذریچوں میں جب جھانکتا ہوں تو مجھے تو ثواب ھی ثواب نظر آتا ہے ۔
یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اور میں تو کہوں گا۔
یاد ماضی ثواب ہے یا رب
نہ چھین مجھ سے حافظہ میرا
برصغیر کے ثقافتی مراکز میں لاہور ہمیشہ ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اس کی تاریخی عمارات، علمی روایت، ادبی محفلیں اور سماجی زندگی کئی نسلوں کے لیئے کشش کا باعث رہی ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ لاہور کو صرف جغرافیائی حدود میں نہیں دیکھتی بلکہ اسے ایک زندہ یادداشت، ایک تہذیبی ورثے اور ایک اجتماعی شعور کے طور پر پیش کرتی ہے۔
ان تصاویر کے ذریعے قاری اُس لاہور کو دیکھتا ہے جو آج کے بلند و بالا پلازوں، مصروف شاہراہوں اور جدید تعمیرات کے پیچھے کہیں چھپ گیا ہے۔ یہ کتاب ماضی اور حال کے درمیان ایک فکری پل تعمیر کرتی ہے۔
فوٹوگرافی کی اصل قوت یہ ہے کہ وہ الفاظ کے بغیر بھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ "Between Light and Memory” میں شامل تصاویر محض بصری مواد نہیں بلکہ مکمل بیانیئے ہیں۔ اِن میں موجود چہرے، عمارتیں، راستے اور مناظر اپنی اپنی کہانیاں رکھتے ہیں۔
مصنفین نے نہایت محنت ، عرق ریزی اور تحقیق کے ساتھ ان تصاویر کو ترتیب دے کر ایک ایسا مجموعہ تشکیل دیا ہے جو تاریخ، آرٹ، فوٹوگرافی اور ثقافتی مطالعات کے طلبہ و محققین کے لیئے یکساں طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ کتاب کا عنوان بھی نہایت بامعنی ہے۔ "روشنی” فوٹوگرافی کی اساس ہے اور "یادداشت” تاریخ کا جوہر۔ یوں یہ کتاب روشنی اور یادداشت کے اسی سنگم کی نمائندہ بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر کنول خالد اور خالد نواز کی یہ کاوش محض جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تحقیقی منصوبہ ہے۔ تصاویر کے انتخاب، ان کی تاریخی اہمیت، حوالہ جاتی ترتیب اور دستاویزی قدر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کام کے عقب میں برسوں کی محنت اور جستجو کارفرما ہے۔ گویا
شفق لہو میں نہائی، سحر اداس ہوئی
کلی نے جان گنوا دی شگفتگی کے لیئے
یہ کتاب مستقبل کے محققین کے لیئے ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ اس میں محفوظ مواد لاہور کی سماجی، ثقافتی اور تعمیراتی تاریخ کے کئی پہلوؤں کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔
کتاب کی طباعت، ترتیب اور بصری پیشکش نہایت معیاری محسوس ہوتی ہے۔ تصاویر کی فنی نزاکت اور تاریخی وقعت کو جس وقار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ قارئین کو متاثر کیئے بغیر نہیں رہتی۔ ہر صفحہ ایک نمائش گاہ کا منظر پیش کرتا ہے ، جہاں تاریخ خاموشی سے اپنے راز بیان کرتی ہے۔
"Between Light and Memory” ایک ایسی کتاب ہے جو صرف دیکھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ یہ لاہور کے ماضی کو محفوظ کرنے کی ایک قابلِ تحسین کوشش ہے اور اُن تمام افراد کے لیئے ایک قیمتی تحفہ ہے جو تاریخ، ثقافت، فوٹوگرافی اور شہری ورثے سے محبت رکھتے ہیں۔
یہ تصنیف اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ قومیں صرف اپنے حال سے نہیں بلکہ اپنی یادداشتوں سے زندہ رہتی ہیں۔ جب یادداشت محفوظ رہتی ہے تو شناخت بھی برقرار رہتی ہے، اور یہی اس کتاب کا سب سے بڑا پیغام ہے۔
"Between Light and Memory” دراصل وقت کے آئینے میں محفوظ لاہور کی ایک ایسی تصویری سرگزشت ہے جو روشنی کی کرنوں کے ساتھ ماضی کی خوشبو کو بھی آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا فریضہ
انجام دیتی ہے۔
تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے سربراہوں کی میز پر اس کتاب کا ہونا لازمی قرار پایا جائے اور دنیا بھر کے سفارت کاروں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیئے ۔ یوم آزادی 14 اگست 2026 کو صدر مملکت کو کتاب کے مصنفین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ستارہ ء امتیاز سے نوازنا چاہیئے ۔ پچھلے دنوں اس کتاب کی تقریب رونمائی اور مصنفین کی پذیرائی کی رسم سی ٹی این فورم پر ہو چکی ہے ۔






