دیار غیر سے ایک خط
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
دیار غیر سے ایک خط
گذشتہ دنوں میرے کالم "تیزاب گردی ” جو کوئٹہ سول ہسپتال میں ایک خاتوم مسیحا پر تیزاب پھینکنے کے بارۓ میں تھا اسے پڑھ کر بہت سے قارئین کے پیغامات اور مراسلے موصول ہوۓ ۔میں اس کالم پسندیدگی اور اس تحریر میں پنہاں درد کو محسوس کرنے پر تمام قارئین کا شکر گزار ہوں ۔میری ایک قاری خاتون شہنازانجم صاحبہ جو شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور دوردراز یورپ کے ایک ملک سوئیڈن میں مقیم ہیں اور جو اپنی بے پناہ تعلیمی و گھریلو مصروفیات کے باوجود ایک بہترین شاعرہ کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں ۔ان کے مجموعہ کلام بھی شائع ہو چکے ہیں ۔پاکستان اور یہاں کی مٹی سے محبت ان کی نس نس میں بسی ہے اپنے کلام میں خواتین کی محرومیوں اور پسماندگی میں پہلے ہی خوب بیان کر چکی ہیں ۔۔خواتین کے حقوق کے لیے نہایت نہایت موثر کردار ادا کرنے والی یہ خاتون "شہنازانجم "اس کالم کو پڑھ کر اپنے جذبات کا یوں خیال کرتی ہیں ۔ان کی تحریر میں درد بھی ہے اور حیرت بھی ہے ۔
وہ فرماتی ہیں کہ ” آ ۓ دن پاکستان کی اس قسم کی خبریں پر کر دل کو جو دکھ ہوتا ہے اسکا اندازہ ایک عورت ہی لگا سکتی ہے ان لوگوں کی تو شاید آ نکھیں بند ہیں جنہوں نے عورت کو ایک کھلونا سمجھ رکھا ہے ۔وہ عورت کو بے جان مورتی تصور کرتے ہیں جس کا جی کرتا ہے جو چاہے کر سکتا ہے کسی بھی روپ میں چاہے وہ بہن کاہو بیوی کا ہو ،ماں کا ہو ،وہ کسی روپ میں بھی محفوظ نہیں ،وہ اپنا محافظ کس کو سمجھے ماموں کو ،باپ کو بھائی کو چچا کو ،غرض کہ ہر رشتہ ہی اپنا اعتماد کھو چکا ہے ایک زمانہ تھا عورت کے لیے یہ تمام رشتے بڑی اہمیت کے حامل تھے لیکن نہ جا ے کونسی ہوا چلی ہے کہ ان رشتوں نے یہ بھیانک صورت اختیار کر لی ہے کوئی مرد راہ چلتی لڑکی کو ا ٹھالیتا ہے اور اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے ،کوئی اپنی بیوی کے چہرے پر تو کوئی اپنی معشوقہ کا چہرے پر تیزاب ڈال دیتا ہے ،باپ اپنی ہی بیٹی سے زنا کرتا ہے اس کی غیر ت نہ جانے کہاں مر چکی ہے کوئی مرد اپنی بیوی کے سر پر راڈ مار کر اسکی زندگی ختم کر دیتا ہے اور وجہ ہم بستری سے انکار بنتی ہے۔پاکستانی معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ لیکن یہاں اسلام کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی میں یورپ میں رہتی ہوں یہاں عورت محفوظ ہے کیا مجال ہے کوئی اسے کچھ کہہ سکے ایک اکیلی عورت بڑی آ سانی سے اپنی زندگی گزار سکتی ہے محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتی ہے انہیں اچھی تعلیم دلوا سکتی ہے اسے اپنے باپ یا بھائیوں دروازہ کھٹکھٹا نا نہیں پڑتا آ فریں ہے یورپ کے تمام ممالک پر جہاں عورت کو آ سائش کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی حاصل ہے جب میں اپنے ملک کے یہ حالات خبروں میں سنتی ہوں تو میرا دل دہل کر رہ جاتا ہے مجھے کئی کئی رات نیند نہیں آتی میں سوچتی ہوں پاکستان کی حکومت ایسے قوانین کیوں نہیں نافذ کر دی جس سے اس قسم کے مردوں سے دھرتی پاک کر دی جائے جو آ دمی بھی اس قسم کا جرم کرے اسے فوری طور پر بھانسی پر لٹکا دیا جائے تاکہ آ ئیندہ کسی میں اس قسم کا جرم کرنے کی جرات نہ ہو "(منقول )
محترمہ شہناز انجم صاحبہ آپ کے جذبات و خیالات بہت قابل احترام ہیں ۔بطور ایک عورت آپکے دکھ کو بھی سمجھ رہا ہوں اور آپکی اس دھرتی پر بسنے والوں سے محبت کا بھی خوب احساس ہے ۔واقعی آجکل ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو پورےمعاشرۓ پر کسی بدنما دھبے سے کم نہیں ہے ۔جہاں ملاوٹ کو مہارت اور چوری کو فنکاری سمجھا جاتا ہے ۔جہاں حلال گوشت خریدنے کے لیے حرام کا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے ۔جہاں رشوت کو اوپر کی آمدنی اور کرپشن کو اپنی صلاحیت گردانا جاتا ہے ۔جہاں ہمسایہ بھوکا سوتا ہے اور شادیوں میں مجروں اور قوالی نائٹ پر لاکھوں روپے لٹا دیے جاتے ہیں ۔اپنی بہنوں اور بچیوں کی وراثتی حق تلفی کو رواج قرار دیا جاتا ہے ۔ آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ مسجدین اور مدرسے بنانے والا ملک اپنے بچوں کو خالص دودھ اور بیماریوں میں اصل دوائی نہیں دے سکتا اور بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پچانوۓ فیصد ڈاکٹر مریض کی بیماری نہیں بلکہ کمپنیوں کی فرمائش پر دوائیں تجویذ کرتے ہیں ۔
آجکل کی درندگی کے ایسے لرزہ خیز واقعات سے خوفزدہ میری ایک بھتیجی جو خود بھی دو معصوم بچیوں کی ماں ہے اپنے ایک میسیج میں کہتی ہے کہ "بندوق کے لائسنس کے لیے درخواست دیجیے اور وجہ لکھیں کہ گھر میں بیٹیاں ہیں اور شہر میں جانور دندناتے پھرتے ہیں ۔تعلیم سے پہلے اپنا دفاع مضبوط کریں "۔
"ایک اور قاری خاتون نے پوچھا ہے کہ میں ایک اسلامی ملک پاکستان میں آۓ دن خواتین پر تیزاب پھینکے جانے، غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، ہراسگی ،آبروریزی ،گینگ ریپ اور دیگر مظالم کی خبریں پڑھتی ہوں تو دل دکھتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ برصغیر میں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے علماء، خطباء، مدارس، مساجد اور دینی جماعتیں اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کر رہی ہیں، پھر بھی ایسے جرائم کم ہونے کے بجائے کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟ یہ سوال صرف اس خاتون کا نہیں، ہم سب کے ضمیر کا سوال ہے؟سی سی ڈی جیسے فعال اوربہترین ادارۓ کی عمدہ کارکردگی بھی ےبس نظر آتی ہے ۔جرائم رکنے کا نام نہیں لیتے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دین اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جس کا اس زمانے کی دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھی، بیٹی کو رحمت قرار دیا، بہن کی کفالت کو باعثِ اجر بنایا اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت ٹھہرایا۔ وراثت میں حصہ مقرر کیا ۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو کتابوں، خطبوں اور نعروں تک محدود کر دیا ہے جبکہ اس کی اصل روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دی۔ تبلیغ و تعلیم اس وقت اثر دکھاتی ہے جب معاشرہ عدل، تعلیم اور قانون کی طاقت سے اس کی حفاظت کرے۔ اگر ایک طرف منبر سے عورت کے احترام کا درس دیا جائے اور دوسری طرف مجرم کو سزا نہ ملے تو تبلیغ کا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے دین کو عبادات تک محدود کر دیا ہے۔ نماز، روزہ ،زکوۃ اور حج کی بات تو بہت ہوتی ہے مگر امانت،صداقت ، انصاف، برداشت، حقوق العباد اور خواتین اور بچیوں کے حقوق پر عملی توجہ کم دکھائی دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری مذہبی شناخت بڑھتی ہے مگر اخلاقی تربیت کمزور رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت، بے روزگاری، منشیات، جہالت، جاگیردارانہ سوچ اور طاقت کے غلط استعمال نے بھی ان معاشرتی بیماریوں کو جنم دیا ہے۔ جب انسان قانون سے بے خوف اور اخلاق سے خالی ہو جائے تو پھر اسے نہ خدا کاخوف رہتاہے اور نہ ہی قانون سے ڈر لگتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اسلام کی دی گئی تعلیمات پر مکمل عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سورج کی روشنی میں کوئی آنکھیں بند کر لے تو قصور سورج کا نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم، قانون، انصاف، خاندانی تربیت اور دینی اخلاقیات کو ایک ساتھ چلایا جائے۔ صرف وعظ کافی نہیں،عملی نمونہ، موثر قانون اور فوری انصاف بھی ضروری ہے۔ وہ خاتون شاید یہ جاننا چاہتی تھیں کہ عبادات کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات پر زور کیوں نہیں دیا جاتا ؟ حقیقت یہ ہپے کہ جس دن ہم مسلمان اپنی بیٹی میں فاطمہؓ، اپنی ماں میں خدیجہؓ اور اپنی بہن میں زینبؓ کا احترام دیکھنا شروع کر دیں گے، اس دن تیزاب گردی، تشدد اور ظلم کی خبریں بھی






