#کالم

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےسیمینار بابت چودھری رحمت علی

Untitled 13


(شاہد بخاری)
لفظ’پاکستان’و مطالبہ پاکستان اور” پاکستان قومی تحریک” کے خالق چودھری رحمت علی کے 128ویں یوم پیدائش پر سیمینار، چودھری رحمت علی، میموریل ھوسپٹل،45 سوک سینٹر ڈاکٹر واسطی چوک ٹاؤن شپ لاھور کے کانفرینس ھال میں منعقد کیا گیا۔
چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری خالد محمود رسول نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد مختلف مہم جو حکمرانوں نے تحریک پاکستان کی تاریخ کو اپنی مرضی کے نین نقش دے کر تقاضا کیا کہ اسی پر آمنا و صدقنا کہا جائے،اس عمل کو مزید پختہ کرنے کے لئیے نصابی کتب خاص طور پر ان کی مدد گار ثابت ھوئیں۔معروف تاریخ دان کے۔کے۔عزیز نے اس موضوع پر عرق ریز تحقیق کے بعد Murder of Historyکے نام سے ایگ معرکتہ الآرا کتاب لکھی،جس میں دلائل اور مصدقہ حوالوں سے ان متعدد اغلاط اور حقائق سے دانستہ انحراف پر مبنی واقعات کو محفوظ کرکے ناقابل تردید تاریخ کا حصہ بنا دیا۔اس کتاب کا ترجمہ
"تاریخ کا قتل”تاریخ و سیاسیات کے طالب علموں کے لئیے خاصے کی چیز ھے۔تاریخ کے ساتھ اس بد سلوکی کا نتیجہ یہ ھے کہ تحریک پاکستان کے لٹریچر میں ایسٹ پاکستان کے فیصلہ کن کرداروں کا ذکر تقریباً گول ھوگیا ھے۔آل انڈ
یا مسلم لیگ کے فاؤنڈرز کا تذکرہ کرنا تو در کنار ،ایسٹ پاکستان کی علیحدگی کے بعد خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی ،
مولوی تمیز الدین جیسے رہ نماؤں کا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذکر یا تو
نظر انداز کر دیا گیا ھے یا کسی حوالے کی مجبوری سے آئے تو آ ئے ورنہ نھیں۔کچھ ایسا ھی سلوک نواب بہادر یار جنگ،راجہ صاحب محمود آباد ،چودھری خلیق الزمان سمیت بہت سے زعماء کے ساتھ ھوا۔1930ء
کی دہائی میں ایک M.A
پاس نوجوان چودھری رحمت علی نےکیمبرج U.Kمیں اپنےتئیں آ زادی کی ایک نظریاتی اور عملی مہم شروع کی۔انھوں نے مجوزہ ملک کا نام پاکستان تجویز کیا اور اس نام کو برطانوی پارلیمنٹ،سر کردہ شخصیات کے ساتھ خط و کتابت اور برطانوی و ھند ستانی میڈیا میں پورے شدومد سے مشھور کیا۔1933میں انھوں نے Now or Never کے زیر عنوان ایک تاریخ ساز کتابچہ لکھا جس میں نہ صرف پاکستان کی تشکیل کی نظر یاتی بنیادوں کو واضح کیا بلکہ اس کی Urgency پر اس وقت زور دیا، جب دوسری گول میز کانفرنس میں خود مختاری یا محدود آزادی کی مختلف تجاویز پر غور ھو رھا تھا۔
مترجم ،پروفیسر زید بن عمر نے کہا کہ چودھری رحمت علی کے مطابق پاکستان کا نام مذہبی اور جغرافیائی دونوں معنی رکھتا ہے۔چوں کہ اس کا مطلب پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے اور اس میں اس کے پانچ صوبوں کے نام بھی ہیں ۔پنجاب، افغانیہ (KPK)کشمیر سندھ بلوچستان۔ ایسا ذو معنی نام دنیا کے کسی اور ملک کا نہیں ہے۔ پاکستان سکیم کے بعد چوہدری رحمت علی نے ہندوستان کے نو دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کے لیے بھی سکیمیں( عثما
نستان، حیدرستان، صدیقستان فاروقستان معینستان وغیرہ)پیش کیں۔ ان دیگر مسلم ریاستوں کے مطالبے سے پاکستان اور بانگستان (بنگال جسے بعد میں پاکستان میں ہی شامل کر دیا گیا)کے مطالبے کو تقویت ملی اور ہندوؤں پر اس سلسلے میں دباؤ میں اضافہ ہوا۔ دسمبر 1948 میں سردار پٹیل نے ہندو یونیورسٹی بنارس میں خطاب کے دوران اس دباؤ کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا میں نے محسوس کیا اگر ہم نے تقسیم کو قبول نہ کیا تو ہندوستان بہت سے حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اس طرح صرف ایک پاکستان نہیں بنے گا بلکہ کئی پا کستان بن جائیں گے یہ کئی پاکستان دراصل چوہدری رحمت علی کی انہی نو دیگر مسلم ریاستوں کی طرف اشارہ ہے۔ اسی لیے ہندوؤں نے بنگال کو الگ مسلم ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا،جس کے باعث اسے پاکستان میں شامل کرنا پڑا ۔انھیں خوف تھا کہ دو مسلم آزاد
ریاستیں اگر بن گئیں تو مزید بھی بنانی پڑیں گی۔
اینکر پرسن وکالم نگار سلمان عابد نے کہا کہ” مطا لعہ پاکستان” میں تحریک پاکستان کے سلسلے میں صرف یہی ملتا ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور اس کو تعبیر قائد اعظم نے بخشی۔ 1906ء میں جنھوں نے ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور تحریک پاکستان کے لئیے قربانیاں دیں،ان کا ذکر حسب ضرورت برائے نام کر دیا جاتا ھے،انھیں میں سے ایک چودھری رحمت علی بھی ھیں،جو پاکستان کے بانیوں میں شامل ھیں۔ جنھوں نے اپنی جدوجہد "پاکستان قومی تحریک” کے نام سے 1933 میں شروع کر دی تھی۔
چیف نیوز ایڈیٹر نوائے وقت دلاور چودھری نے کہا کہ مقام حیرت ھے کہ پاکستان کی یو نیورسٹیز میں بانئ پاکستان ،قائد اعظم پر Ph.Dکرنے کی اجازت نھیں ھے۔آزادی کے لئے مسلح جدوجہد بھگت سنگھ نے کی اور قلمی جد وجہد چودھری رحمت علی نے 1915ءاسلامیہ کا لج لاھور میں بزم شبلی قائم کر کے شروع کر دی تھی۔ 1933ءمیں Now&never
سے ان کی انقلابی سوچ کا اندازہ ھو جاتا ھے،جو نو وارد گان ،جاگیر داران کو نہ بھائی ۔وہ بیو رو کریسی کو آگے لے آ ئے،اب دونوں کا گٹھ جوڑ آپ سب کے سامنے ھے۔
چودھری گلزار محمد مر حوم ایڈوکیٹ ٹرسٹی، رحمت علی میموریل ٹرسٹ کےصاحبزادے انور گلزار نے کہا کہ تاریخ کو Distort
کرنے والوں کا انجام اچھا نھیں ھوتا :
سچا ئی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آنھیں سکتی کبھی
کاغذ کے پھولوں سے
معتبر تاریخ دان کے۔کے۔عزیز کے مطابق قیام پا کستان،رحمت علی کے تخیل اور دور اندیشی کا اتنا ہی مرہون منت ہے جتنا آل انڈیا مسلم لیگ کی جدو جہد کا۔
معروف صحافی اصغر عبداللہ نے کہا کہ” مطالعہ پاکستان” کی روشنی میں یہی دکھائی دیا کہ رحمت علی صرف لفظ پاکستان کے خالق ھیں۔پروفیسر زید بن میجر عمر کی کتب کے مطالعے سے معلوم ھوا کہ کیمبرج کی سخت سردیوں
میں بھت دور جا کر،اپنے کتابچوں کو سائیکلو سٹائل کروانا اور ان کو پریس اور با اثر انگریزوں تک پہنچانا ان کا معمول رھا۔ان کی شخصی میں بصیرت اور دور اندیشی نمایاں ھے، ممتاز مورخ کے۔کے عزیز ثابت کر چکے ھیں کہ رحمت علی نے علامہ کی سوچ سے آگے سوچا۔چوں کہ پورا پاکستان نھیں مل سکا،اس لئیے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے