#کالم

دشت کربلا میں گونجتی صدائے حق

Untitled 11

تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق
کرب و بلا، خوف ورجا، صبرو رضا، مہرووفا، عہد وپیمان اور عترت مرتضے ومصطفے۔ محرم کے مہینے کا سورج جونہی طلوع ہوتا ہے ہر سو غم وغصہ اور آہ وبکا۔ یہ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے۔ ان سوالوں کے جوابات کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق حسین علیہ السلام کی شخصیت کو سمجھنے سے ہے۔ تاریخ کے اوراق بلاشبہ افراط وتفریط سے پر واقعات سے بھرے پڑے ہیں اور ہمارے ہاں تو فرقہ بندی کا بھی ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور یوں بات رولے گھولے میں پڑ جاتی ہے اور ہم سب افراط وتفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سیدنا امام حسین 61 ہجری میں کربلا کے میدان میں اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے اور اس کے بعد محرم، نوحہ خوانی، پرسے اور ماتم۔ یزیدیت کے خلاف ردعمل اور حسین کے مشن کی تکمیل کے بارے میں تجدید عہد۔ امام حسین علیہ السلام نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چھوٹی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے چھوٹے بیٹے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ کے بیٹے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ سب سے پہلے کفار مکہ نے تین شخصیات کو کعبہ اللہ میں مختلف طریقے سے عبادت کرتے ہوئے دیکھا تھا ان میں حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، حضرت خدیجہ الکبری اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔ اس روایت کو قلمبند کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم ص اور حضرت علی رض نے حضرت حسین کی تربیت کی تھی اور ان کی والدہ ماجدہ کی تربیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت خدیجہ الکبری نے کی تھی۔ لہذا امام حسین کی پہلی درسگاہ ان کی ماں کی گود تھی۔ نانا اور بابا متذکرہ بالا نے تربیت کی تھی لہذا ان کی تعلیم وتربیت میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں رکھا گیا تھا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شاید ہی کسی کی تربیت کرنے والے ایسے اشخاص ہونگے جیسے کہ حضرت امام حسین کو میسر آئے۔ تربیت سے ہی آپ کا لیول بنتا ہے۔ آپ کے سوچنے کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ آپ کے معیارات کا پتہ چلتا ہے۔ آپ کے اصولوں کے بارے میں جانا جاتا ہے اور آپ کس طرح ان اصولوں پر ڈٹ جاتے ہیں کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذکورہ ساری باتیں جاننے کے لئے شہید کربلا کی زندگی کا مطالعہ ضروری ہے۔ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ جب یزید کی خلافت کا معاملہ ہوا اور حضرت حسین سے بیعت کا مطالبہ کیا گیا تو آپ کا فرمان ہی ساری بحث کا حاصل کل ہے۔ آپ نے فرمایا۔ میرے جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کرسکتا۔ میرے جیسا شخص، یزید جیسا اور بیعت کا معاملہ ہی درحقیقت اسلام کی اصل تعلیمات ہیں۔ دین اسلام میں کردار سازی پر بہت ہی زور دیا گیا ہے اور کردار حسین کا کہاں اور کہاں یزید کا کردار۔ تاریخ کی کتب میں کہیں بھی یزید کو صاحب کردار بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ فاسق وفاجر تک کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ آجا کر یزید کی وکالت کرنے والے قسطنطنیہ کی مہم والی روایت کو اس کے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ یزید کے ہم عصر جو اصحاب رسول تھے ان میں حضرت امام حسین، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین قابل ذکر تھے اور یہ سب اصحاب نسبی لحاظ سے اور اپنے علم و تحقیق اور زہد وتقوی کے اعتبار سے ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ مذکورہ سب حضرات بیعت یزید کے نقاد بھی تھے اور معترض بھی تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید فاسق وفاجر تھا اور یہ پہلی دفعہ یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کیا ایک فاسق وفاجر کی بیعت کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک نازک اور حساس معاملہ تھا کیونکہ اس بیعت کی بنیاد پر یہ طے ہونا تھا کہ خلیفہ المسلمین کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔ سب مذکورہ افراد محترم تاہم امام حسین نے سب کچھ بلاواسطہ اپنے نانا اور بابا حضرت علی سے سیکھا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں اور امام مذکور نے ہر دو متذکرہ بالا سے اکتساب علم وفیض کیا تھا ان سے بڑھ کر کون جان سکتا تھا کہ خلیفہ کیسا ہونا چاہیئے اور بیعت کے تقاضے کیا ہیں۔ بہر حال یہ وضاحت ان سے بہتر کرنے والا کوئی نہیں تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ تقاضے کیسے نبھائے جاتے ہیں۔ مدینہ کا والی اور امام حسین سے یزید کی بیعت کا مطالبہ اور ان کا جواب۔ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ہے۔ بعد ازاں مکہ کے والی کا بیعت کا تقاضہ اور جواب۔ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ پھر تو مکہ سے کربلا اور کربلا کے دس دن۔ ایک ہی مطالبہ یزید کی بیعت اور جواب مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا اور یوں دس محرم ڈھل جاتی ہے سب افراد بجز امام عالی مقام اور عابد بیمار جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔مستورات تن تنہا کربلا کے میدان میں جنگ کا آخری منظر دیکھنے کے لئے۔ ایک ہی مطالبہ کی تکرار اور دو ٹوک جواب۔ میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ یوں نماز عصر کا وقت۔ عبدہ نے اپنے معبود برحق کے حضور سجدے میں سر جھکا کر تلہ للجبین کی عملی تفسیر پیش کردی بلکہ خلیفہ اللہ فی الارض کے معیار کی بھی تفسیر پیش کردی۔ سچ تو یہ ہے کہ قرآن کے تیس پاروں کی تفسیر ہو گئی اور حق سچ کی تعبیر ہوگئی۔ روایات میں تو یہاں تک بھی آیا ہے کہ ان کا سر نیزے پر قرآن پڑھ رہا تھا۔ واللہ اعلم۔ کربلا بلاشبہ غم واندوہ کی لازوال تاریخ رقم کرگیا لیکن درحقیقت تین پیغامات ہماری تاریخ میں جلی حروف میں رقم کرگیا۔ ایک نماز نہیں چھوڑی جا سکتی ہے بے شک

دشت کربلا میں گونجتی صدائے حق

سلاد

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے