سلاد
حکیم حارث نسیم سوہدروی
harrisnaseem 080@gmail.com
پھل اور سبزیاں انسان کی فطری غذا ہیں اور انسان نے جب سے روے ز مین پر پہلا قدم رکھا ہے تواسی کا اسقبال نباتات نے کیا یہی اس کی غذا اور پھر دوا بنیں۔ انسان اس وقت سے ان کا استعمال کررہا ہے۔ اس طرح ہم سکتے ہیں کہ کچی پکی سبزیاں کھانے کا رحجان صدیوں سے ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک لوگ گاجر مولی کچی کھاتے تھے اور سویا، دھنیا ،پودنیہ، پیازاور لیموں پکے سالن پر ڈال کر استعمال کرتے تھے یہاں تک کہ پیاز کچل کر اس سے سردیوں کی دوپہروں میں روٹی کھاتے تھے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ ام اور خربوزہ کے موسم میں ان سے روٹی کھاتے تھے۔ لیموں کے چند قطرے سالن میں ملا کر کھاتے تھے ۔اس طرح صدیوں یہ غذا مروج رہی مگر جب گوشت مرغن اور تلی ہوئ اشیا کو توانائ بخش خیال کرتے ہوے ان کا استعمال عام ہوا تو گوشت خوری کو ضروری غذا خیال کرتے ہوے گوشت کا استعمال عام ہوگیا اور اسے ضروری غذا سمجھے جانے لگا
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب غذا پر تحقیقات ہوہیں اور متوازن غذا کو صحت کے لئے ضروری قرار دیا گیا تو اس وقت صنعتی معاشرہ تشکیل پا چکا تھا اور وہاں کے عوام زیادہ تر ہوٹلوں پر کھانا کھانے لگے تو ہوٹلوں میں کھانے کے ساتھ مختلف قسم کے سلاد ساتھ پیش کرنے شروع کئے گئے ان کی وجہ سے مراعات یافتہ طبقہ نے بھی سلاد کو فیشن کے طور پر کھانے کا حصہ بنا لیا مگر یہ ہمارے ہاں رواج نہ پا سکا جس کی وجہ غذا کے بارے میں معلومات کا عام نہ ہونا تھا متوازن غذا میں لحمیات ( پروٹینز) نشاستہ ( کاربوھارڈریٹ ) چکنائ
حیاتین اور معدنی نمکیات
پر مشتمل ہوتی ہے اور صحت جسم کے لئے ضروری ہے۔ لحمیات دودھ۔
، دہی اور گوشت میں ہوتی ہیں۔ جبکہ آٹا اور دالوں میں کچھ مقدار ہوتی ہے۔ نشاستہ چاول الو میں چکنائ دودھ دہی اور تیل سے جبکہ حیاتین اور معدنی نمکوں کا ماخذ پھل اور سبزیاں ہیں۔ حیاتین کی کمی کئ مسائل صحت کا سبب بن سکتی ہے اور یہ پکنے کے عمل میں ضائع ہوجاتی ہے اس طرح سلاد یعنی کچی سبزیوں کے کھانے کو اہمیت ملی ہے –
شہری زندگی میں مرغن غذاوں اور فطری زندگی سے فرار کے باعث امراض قلب بڑھنے لگے ہیں تو لوگوں نے گھی، چربی اور سیر شدہ بنا سپتی گھی کا استعمال ترک کرکے سویا، سورج مکھی گھی، زتیون اور کینولاکے تیل عام کا استعمال ہونے لگا ۔ مگر حیاتین اور معدنی نمکوں بارے زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک بیکری کی اشیا خاص کر مٹھائیاں بہت استعمال ہوتی ہیں اور شادی ودیگر تقریبات پر چربی والا گھی بڑی مقدار میں استعمال ہوتا ہے پھر اسے لذت بخش قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ میڈیکل سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ مرغن اور تلی ہوئ غذاہیں صحت کے مسائل پیدا کرتی ہیں جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ ہمیں متوازن غذا کے لئے پھلوں سبزیوں کی صورت سلاد کا استعمال کیا جائے۔ سلاد غذائ بھوک بڑھاتا ، کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے ۔اس میں فائبر(پھوک) ہوتا ہے اس لئے غذائیت کے ساتھ ساتھ وزن بھی نہیں بڑھاتا ۔جبکہ مرغن اشیا سے چربی بڑھتی ہے اور موٹاپا ہوتا ہے جب کہ مرغن اشیا سے چربی اور حرارے زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہوکر موٹاپے کا سبب بنتے ہیں۔ جس سے کئ عوارض جنم لیتے ہیں ایسے افراد بھی دیکھے گئے ہیں جو ذائقے کی وجہ سے سلادکو نظر انداز کرتے ہیں لیکن جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سلاد انسانی موڈ پر خوشگوار اثر مرتب کرتا ہے اسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سبزیاں اور پھل انسانی موڈ کو بہتر بناتی ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ سبزیاں اور پھل جسم انسانی میں زبردست سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ جن طلباء کو سبزیاں اور پھل استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ساتھ فاسٹ، فوڈ برگر سے احتیاط کرائی گئی تو ان طلباء میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی جبکہ مزاج میں خوشی کو محسوس کیا گیا جبکہ اس کے بعد جرمنی اور فرانس میں جو تحقیق ہوئی۔ انہوں نے بھی اس کی تائید کی سلاد سے انسانی موڈ میں بہتری کی وجہ سبزیاں اور پھلوں میں اہم معدنیات ہیں جو دل و دماغ پر فوری اور اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں
سلاد کے فوائد
پھلوں اور کچی سبزیوں میں حیاتین اور مدنی نمکیات ہوتے ہیں
سلاد خوش ذائقہ اور زور ہضم ہوتا ہے اس میں فائبر بڑی مقدار میں ہوتا ہے۔ یہ کہ متوازن غذا ہوتی ہے۔ سلاد میں موسم کی مناسبت سے پھل سبزیاں تبدیل ہوتے ہیں۔
سلاد کے اجزا ،
سبز پتوں والی سبزیاں پالک، شلجم ،چکندر کے نرم پتے، بند گوبھی، سونف، سویا، پودینہ، شملہ مرچ، پیاز، لہسن، سبز مرچیں الو اور لیموں، ٹماٹر، کھیرا، ککڑی، مولی، گاجر اور مٹر
فائدے
مولی ہمیشہ کچی کھائیے۔ اس سے بھوک لگتی اور جگر کے امراض خاص کر یرقان، بواسیر اور قبض میں مفید ہے۔
گاجر۔ کچی گاجر کھانا بہت مفید ہے۔ اس میں پھوک بڑی مقدار میں ہوتا ہے حیاتین الف بڑی مقدار میں ہونے کی وجہ سے نظر کے لیے فائدہ مند ہے۔ رنگت کو صاف کرتی ہے اور خون کی کمی ختم کرتی ہے۔ شلجم۔ شلجم پتوں کے ساتھ کھائیں یہ حیاتین کا خزانہ ہے کھانسی میں مفید اور کیلشیم کی کمی دور کرتا ہے ۔
چکندر۔ چکندر جسمانی کمزوری دور کرتا ہے حرارت بڑھاتا اور دل کے لیے مفید ہے
ٹماٹر۔ یہ کیلشیم کا قدرتی ٹانک ہے ۔ہڈیوں کو مضبوط بناتا اور مسوڑوں کو طاقت دیتا ہے۔ قبض ختم کرتا ہے فولاد کی کمی کے لیے بہت موثر ہے۔ پودینہ۔ معدے کے امراض بھوک بڑھانے میں بہت مفید ہے ۔
ہاضم ہے پتی اچھالنے میں فائدہ مند ہے۔ خوش ذائقہ اور جی متلانے میں موثر ہے۔
پیاز۔۔ بھوک لگاتا خون کی شریانوں کو کھولتا ہے ۔جراثیم کش ہے۔ قبض دور کرتا ہے۔ پیشاب اور ہے جگر اور






