واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!
ایک تحقیقی جائزہ سلسلہ نمبر 4
تحریر-سیدارشد علی نقوی
28 رجب سن 60 ہجری میں امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت کرنا اور پھر وہاں سے کربلا کا سفر اختیار کرنا، اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ آج کی تحریر میں ہم اس سفر میں فرزند رسول علیہ السلام کے مکہ میں قیام اور آپ کی سرگرمیوں کو تاریخی ، معاشرتی ، سیاسی اور دینی پس منظر میں روشن کرنے کی کوشش کریں گے
آپ علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں قیام کے بعد کے امور انجام دیئے جن میں مختلف شخصیات سے ملاقاتوں اور مختلف مقامات پر ارشاد کردہ خطابات اور گفتگو کا اک سلسلہ ہے ہم ان کے بیان کے ساتھ ساتھ سیاسی، دینی اور معاشرتی پہلوؤں سے ان کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے
امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے مکہ کی طرف سفر ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ تھا، جس کا مقصد اسلام کی حقیقی تعلیمات ، نور قرآن اور سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی خد و خال اور معنوی روحانیت و نورانیت کا دفاع ، تحفظ اور بقا کا دائمی اہتمام کر کے اسے تاقیامت محفوظ کرنا تھا
تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
راتوں رات مدینہ میں حالات مزید دشوار ہوتے دیکھ کر اور اپنے جانثاروں کے مشورے پر، آپ نے 28 رجب 60 ہجری کو رات کے وقت اپنے خاندان اور اصحاب کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر مکہ کا رخ کیا اور اس سے پہلے آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو ایک وصیت نامہ دیا، جس میں آپ نے اپنے اس اقدام کے مقاصد واضح کیے۔
پانچ روزہ سخت سفر کے بعد امام حسین علیہ السلام 3 شعبان سنہ 60 ہجری کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جہاں اہلِ مکہ کے ساتھ بیت اللہ الحرام میں عمرہ و حج کے لیے آنے والوں کی خاصی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے فرزند رسول کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس استقبال نے عوام میں آپ کی عظمت اور مقبولیت کو ظاہر کیا اور یزید کی حکومت کو یہ پیغام دیا کہ امامِ وقت کو بیعت کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں۔
آپ علیہ السلام نے مکہ میں تقریباً چار ماہ قیام فرمایا۔ اس دوران آپ نے مختلف امور انجام دیے، جن میں سے اہم یہ ہیں:
خانہ کعبہ کی عظمت و حرمت کو اجاگر کرنا :
خانہ کعبہ کی پناہ میں رہ کر آپ نے حکومت کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی بلکہ خود اور اپنے خاندان کو قتل ہونے سے محفوظ رکھا، حالانکہ خانہ کعبہ کو ڈھال بنا کر آپ حکومت کے خلاف مسلح تحریک کا آغاز فرما سکتے تھے مگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خانہ کعبہ میں خونریزی کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے پس آپ نے قیامت تک کے لئے یہ پیغام دیا کہ اسلام پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے مگر اسلام کو کسی چیز پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
لوگوں کی رہنمائی و رہبریت :
آپ علیہ السلام مختلف حجاج اور زائرین سے ملاقات کرتے، انہیں دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس فرماتے اور یزید کی باطل حکومت کی حقیقت سے آگاہ کرتے۔
کوفہ سے آنے والے خطوط کا جواب: کوفہ کے لوگوں مختلف افراد کے نام سے آپ کو خطوط موصول ہوتے رہے، جن میں آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی جاتی تھی اس سلسلے میں آپ نے تمام عواقب و مضمرات کا جائزہ لیتے ہوئے اتمام حجت کی خاطر ان خطوط کے جواب میں اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے سکیں۔
مکہ میں قیام کے دوران آپ علیہ السلام کی جانب سے مندرجہ ذیل امور خاص طور پر قابل ذکر ہیں:
وصیت نامہ کی اشاعت :
مدینہ سے روانگی سے قبل اپنے بھائی محمد حنفیہ کو جو وصیت نامہ دیا تھا، اس کا مواد مکہ میں مشہور ہو گیا۔ اس وصیت میں آپ نے واضح کیا کہ آپ کا مقصد فساد یا ظلم پھیلانا نہیں بلکہ اپنے جدِ امجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح ، معروف (نیکی) کا حکم دینا اور منکرات (برائی) سے روکنا ہے اور آپ نے اسے ”فطرتِ الٰہی“ کے مطابق اپنا فریضہ قرار دیا۔ اس وصیت نے لوگوں کو آپ کے اہداف و مقاصد و عزائم سے آگاہ کیا۔
کوفہ میں سفیر و ایلچی کا تقرر:
روایات معتبرہ سے ثابت ہے کہ مدینہ میں دربار ولید سے گھر تشریف لانے کے بعد آپ علیہ السلام اپنے جدِ امجد محبوب خدا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے اور آئندہ پیش آنے والے امور میں رہنمائی کے لیے توسل فرمایا تو نبی دو جہاں علیہ السلام نے عظیم مقاصد کے حصول کی خاطر عراق کی طرف سفر کا حکم دیا اسی تناظر نیز کوفہ کی طرف سے آنے والے خطوط کے جواب میں آپ علیہ السلام نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آپ کے لئے آپ کی نیابت میں بیعت حاصل کریں
کوفہ سے آپ علیہ السلام کو بے شمار خطوط موصول ہوئے، جن میں 12,000 سے زیادہ افراد نے آپ کو کوفہ آنے کی استدعا کی جو اپنے مقام پر قابلِ توجہ اور تشنہ تحقیق ہے۔
مکہ میں امام حسین علیہ السلام نے متعدد اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں ہم یہاں چند اہم ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رض سے ملاقات :
عبداللہ بن عباس، جو امام علی علیہ السلام سے شرفِ تلمذ حاصل کرنے والے اولین مفسرین قرآن میں سے تھے انہوں نے مکہ میں آپ سے ملاقات کی اور آپ کو کوفہ نہ جانے اور مکہ میں ہی رہنے یا پھر یمن چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن امام علیہ السلام نے جواب دیا کہ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں ان کا فیصلہ نہیں بدلے گا اور وہ اپنے مقصد کے حصول پر قائم ہیں۔ اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو سے امام حسین علیہ السلام کے عزم و استقلال کا پتہ چلتا ہے۔






