#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن. قسط:31

Untitled 13

(شاہد بخاری)
آشوبِ آگہی:
صفحات: 110 مضامین۔ 24
اشاعت:2007 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب: اپنی لائف بوٹس، کشور اقبال اور کوکب اقبال کے نام اللہ تعالیٰ انہیں دن دگنی رات چوگنی صلابت عطا فرمائے۔ آمین
چند اداریوں کے عنوانات،
نرم دمِ گفتگو،
وہ دن گئے کہ کہتے تھے کہ نوکر نہیں ہوں میں،
کامیاب زندگی کا نصب العین،
میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کی شکست سے پہچانا،
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
علموں بس کریں او یار،
ہمت کے چراغ،
فرد اور معاشرہ دست و گریباں،
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے،
انسانیت کے قبرستان،
سرگودہا میرا شہر،
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا،
عالمگیریت،
کب تک آخر آخر کب تک،
وہیں پھر سجائی محفل،
اداریوں پر مشتمل دوسری کتاب”آشوبِ آگہی“ میں عرضِ مصنف کے ذیل میں ڈاکٹراقبال لکھتے ہیں:
”چھ سال میں جہاں بہت دل خوش کن واقعات رونما ہوئے وہاں زندگی کے کئی بھیانک روپ بھی دکھائی دیئے ہیں، زندگی کی ناہمواریوں اور مشکلات سے کچھ اور زیادہ معانقہ ہوا لیکن یہ دل یہ کافر دل نہیں مانا اور مجھے مجبور کرتا رہا کہ میں ان اندھیروں کے خلاف صف آرا ء رہوں جو بسا اوقات آپ کی بینائی چھین لیتے ہیں اور جسم کو توانائی سے محروم کر دیتے ہیں۔ اپنے مضامین میں کہ ماہنامہ سفید چھڑی کے اداریوں کی صورت میں تحریر ہوئے میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ زندگی کی مختلف کوششوں کو اجاگر کروں اور بعض تضادات سے متصل قلمی جہاد جاری رکھوں“
”آشوبِ آ گہی“ کا اسلوبِ نگارش وہی ہے جس کا ذکر”کب رات بسر ہو گی“ کے حوالے سے کر آئے ہیں اس میں وہی مضامین کا تنوع وہی طنز کی کاٹ،وہی سچائی کے نشتر، وہی لفظوں کا سحر، وہی خلوص و والہانہ پن،وہی اصلاح کا جوش و خروش،وطنِ عزیز کی محبت، خلقِ خدا سے پیار اور اسی طرح کے جانے کتنے جواہر موجود ہیں جو زندگی کا علم اٹھائے ہوئے اور انسانیت زندہ باد کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔عمل کی ترغیب دیتے ہیں اور تضاد ات کا خوفناک وجود جو دیمک کی طرح قومی اور ملی سماجی اور انفرادی زندگی کو چاٹ رہا ہے ہم جو تماشائی ہیں بسااوقات تماشا ہو کر رہ جاتے ہیں کبھی صورتحال کو تقدیر سے منسوب کر دیتے ہیں،کبھی نامساعد حالات کی یورش سے اپنے گریبانوں میں کم جھانکتے ہیں اپنی آنکھ کا شہتیر کم دیکھتے ہیں۔
آشوبِ آگہی کے حوالے سے ماہنامہ سفید چھڑی کے نائب مدیر سید نسیم الغنی کی رائے کچھ یوں ہے۔
”آشوبِ آگہی پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال کی مجموعی طور پر چودھویں بلکہ سماجی موضوعات پر ان کی چوتھی کتاب ہے۔ موصوف ایک ہمہ جہت شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت حساس طبیعت کے مالک ہیں شاعر ادیب اور صحافی ہونے کے ناطے معاشرتی مسائل اور ناہمواریوں پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ معاشرتی دوغلے پن اور ناہمواریوں کو محسوس کر کے نہ تو خاموش تماشائی بنتے ہیں اور نہ ہی کبھی کسی موقع پر یاسیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ہر دم اصلاح احوال کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔عصرِ حاضر میں ہم اجتماعی طور پر بے حسی کی غلط روش اختیار کئے ہوئے ہیں اور فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے لیکن ملت کے گناہوں کی سزا ضرور ملا کرتی ہے۔ جو لوگ پروفیسر اقبال کو ذاتی حوالے سے جانتے ہیں وہ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی اذان ملّا کی اذان نہیں بلکہ یہ مجاہد کی اذان ہے ہم سب کو مل کر ان کے افکار کو عام کرنے اور اصلاح احوال کے لئے ان کے شانہ بشانہ چلنے کی ضرورت ہے“
ڈاکٹر شہناز مزمل ”آشوبِ آگہی“کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
”یہ اداریے ایک سچل شخص کے سچے اور سُچے جذبوں کا اظہار ہیں۔ معاشرے کی بے حسی کو جب ان کی عالمانہ سوچ بدل نہیں سکتی تو بے اختیار پکار اٹھتے ہیں ”علموں بس کریں او یار“ اور کہیں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ”دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا“۔ آپ آرزوکے چراغ جلنے دو کہہ کر آگے نہیں بڑھ جاتے بلکہ یہ خواہش کار فرمانظر آتی ہے کہ جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ اور میرے خیال کے مطابق وہ خود فاتح زمانہ ہیں“
سید ہ توقیر نقوی اپنے مضمون میں کچھ یوں لکھتی ہیں:
”پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمدا قبال نہ صرف اچھے شاعر ہیں بلکہ اچھے نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی طبع رواں میں ہر نئی صورتِ حال سے مطابقت کی پوری پوری صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے آشوبِ آگہی میں تنقیدانہ لہجہ اختیار کیا ہے۔انہوں نے کڑے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنی ذات کے معدن سے یہ مضامین کا گلدستہ مرتب کیا۔ اس کتاب کی اشاعت ان کی بہترین کاوش ہے۔آشوبِ آگہی عہد بہ عہد بنتی ہوئی دیواری تصویر کا پھیلاؤ ہے سماج اوربہبودیِ عالم ِ انسانیت کی روشن خیالی کی تہذیبی اورزمینی کاوش اس میں در آئی ہے“
معروف شاعرہ اور ادیب پروفیسردر نجف زیبی نے”آشوبِ آگہی“پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور اس کتاب کے ہر مضمون پر اپنے خیالات کااظہار کیا ہے۔
”ڈاکٹر صاحب کی پوری کتاب میں نے بہت توجہ سے پڑھی ہے۔ اس کتاب میں ایک درد کی لہر سب کو بے تاب کر سکتی ہے۔ کتنی اچھی اور فکر انگیز باتیں ان کے مضامین میں پائی جاتی ہیں۔ ان مضامین کے پردے میں ہمیں ایک سچا مسلمان اور ایک کھرا پاکستانی بخوبی دکھائی دیتا ہے۔ بہت سے ہمدرداور دانا لوگوں کی طرح ڈاکٹر صاحب بھی پاکستان کو اس اندھیری شب سے بیدار گل رنگ کر کے سویرے کی جانب لانا چاہتے ہیں“
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے