#کالم

پاکستان، آئی ایم ایف اور عوام: قرضوں، قربانیوں کی سات دہائیوں پر محیط داستان

new desingfghjt

شہزاد عمران خان
جب وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا تو ایک عدد نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ یہ عدد تھا 8,206 ارب روپے۔ یہ وہ رقم ہے جو صرف قرضوں کی سروسنگ اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان تعلیم، صحت، اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور کئی ترقیاتی شعبوں پر جتنا خرچ کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ رقم صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی ایک حکومت یا ایک سال کی پیداوار نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط معاشی پالیسیوں، قرضوں اور مالیاتی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے پہلی مرتبہ 1958ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی معاونت حاصل کی۔ اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ آنے والے تقریباً سات دہائیوں میں پاکستان دو درجن سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف کے مختلف پروگراموں میں شامل ہوگا۔ ان پروگراموں میں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور دیگر مالیاتی سہولیات شامل رہی ہیں۔ بعض پروگرام کامیابی سے مکمل ہوئے، بعض ادھورے رہ گئے اور بعض مختلف وجوہات کی بنا پر معطل کر دیے گئے، لیکن ایک حقیقت برقرار رہی کہ پاکستان بار بار آئی ایم ایف کے پاس جاتا رہا۔
1958ء سے 1988ء تک کے بیشتر پروگرام نسبتاً محدود حجم کے تھے اور ان کا بنیادی مقصد زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینا اور ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنا تھا۔ تاہم 1980ء کی دہائی کے اختتام اور 1990ء کی دہائی کے آغاز میں مالی خسارے، درآمدی دباؤ اور بیرونی قرضوں کے مسائل شدت اختیار کرتے گئے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں کئی مرتبہ آئی ایم ایف سے رجوع کیا گیا اور معیشت مسلسل بیرونی مالی معاونت کی محتاج رہی۔
1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی معاشی صورتحال ایسی نہ تھی کہ آئی ایم ایف کی ضرورت ختم ہو جاتی۔ 2000ء اور 2001ء میں نئے پروگرام حاصل کیے گئے۔ تاہم نائن الیون کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر مالی اور سفارتی حمایت حاصل ہوئی جس کے باعث کچھ عرصے کے لیے معاشی دباؤ میں کمی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے۔
2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے تھے اور ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے مسائل درپیش تھے۔ چنانچہ تقریباً 7.6 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کا اعلان کیا گیا جسے بعد ازاں مزید بڑھایا گیا۔ اس پروگرام کے نتیجے میں بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس اصلاحات جیسے اقدامات سامنے آئے۔
2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تقریباً 6.7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام پر دستخط کیے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس پروگرام سے معیشت کو استحکام ملے گا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بعض معاشی اشاریوں میں بہتری بھی دیکھی گئی، تاہم قرضوں کا مجموعی بوجھ برقرار رہا۔
2019ء میں تحریک انصاف کی حکومت نے تقریباً 6 ارب ڈالر کے ایک نئے پروگرام کی منظوری حاصل کی۔ اس پروگرام کے دوران روپے کی قدر میں نمایاں کمی، شرح سود میں اضافہ اور توانائی نرخوں میں اضافے جیسے اقدامات کیے گئے۔ بعد ازاں 2023ء میں 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی پروگرام اور 2024ء میں تقریباً 7 ارب ڈالر کے نئے آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد معاشی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا تھا۔
ہر حکومت قرض لیتے وقت عوام کو صبر اور قربانی کا درس دیتی ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ مشکل فیصلے ناگزیر ہیں، معیشت کو بچانے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے اور وقتی مشکلات برداشت کرنا ہوں گی۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربے نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ ان معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کا بوجھ عملاً کن طبقات پر منتقل ہوتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بالواسطہ ٹیکسوں، توانائی کی قیمتوں میں اضافے، روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے اثرات سب سے زیادہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتے ہیں۔ جب بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو اس کے اثرات اشیائے خور و نوش، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت سمیت تقریباً ہر شعبے تک پہنچتے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہری کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔
عام شہری یہ محسوس کرتا ہے کہ ٹیکسوں، مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں کا بوجھ تو اس پر ڈالا جاتا ہے لیکن اشرافیہ کی مراعات، سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری اخراجات اور طاقتور طبقوں کو حاصل سہولتوں میں اسی رفتار سے کمی نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی اصلاحات کے بارے میں عوامی اعتماد کمزور رہتا ہے اور اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ قربانیوں کا بوجھ سب پر یکساں کیوں نہیں ڈالا جاتا۔
ایک اور اہم سوال آئی ایم ایف معاہدوں کی شفافیت سے متعلق ہے۔ عوام اکثر پوچھتے ہیں کہ اگر قرض ان کے نام پر لیا جاتا ہے تو اس کی تمام شرائط کھل کر کیوں نہیں بتائی جاتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی بیشتر دستاویزات بعد ازاں عوامی سطح پر جاری کر دی جاتی ہیں۔ لیٹر آف انٹینٹ، میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز اور اسٹاف رپورٹس آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام معاہدے مکمل طور پر خفیہ رکھے جاتے ہیں۔
تاہم تنقید کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان دستاویزات کی زبان انتہائی تکنیکی ہوتی ہے اور عام شہری کے لیے ان کا مطالعہ آسان نہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی اکثر ان پر تفصیلی عوامی بحث نہیں ہوتی۔ نتیجتاً عوام کو عملی طور پر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ بجلی، گیس، پٹرول، ٹیکسوں یا دیگر مالیاتی فیصلوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان کی موجودہ مالی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی بجٹ کا سب سے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے