ساس کے انداز قرض کا "کوٹ "
تحریر :۔ جاویدایازخان
ایک واقعہ یا کہانی کئی مرتبہ پڑھنے کا اتفاق ہوا بلکہ کئی لوگوں سے سننے کا بھی موقعہ ملا ۔چند لفظوں کی یہ کہانی جس نے بھی لکھی خوب لکھی ہے ۔آپ جتنی مرتبہ پڑھیں یا سنیں گے اس میں ایک نیا پن سا محسوس کریں گے ۔کہتے ہیں کہ ایک شہر میں سخت سردی تھی۔ 12 بجے رات، بس اسٹینڈ پر ایک لڑکا پریشان سا کھڑا تھا۔ ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ، جسم پر پتلے اور باریک کپڑے۔ وہ سردی سے کانپ رہا تھا۔ ایک بزرگ قریب آ کر بولے: "بیٹا، اتنی سردی میں کہاں جاؤ گے؟ لڑکا بولا: "ابا کے پاس لاہور تاکہ پڑھ سکوں ۔ بزرگ نے پوچھا کہ لاہور کا کرایہ ہے؟ لڑکا نے جیب ٹٹولی۔ 200 روپے نکلے۔ کرایہ 800 تھا۔ بزرگ نے اپنا پرانا کوٹ اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال دیا۔ بولے: "لو بیٹا، یہ پہن لو۔ میں بوڑھا ہوں، سردی برداشت کر لوں گا۔ لڑکا تقریبا” رو دیا۔ بولا: "انکل، آپ مجھے جانتے تک نہیں۔ بزرگ مسکرائے: "بیٹا، 20 سال پہلے میں بھی ایسے ہی ایک بس اسٹینڈ پر کھڑا تھا۔ میرا ابا فوت ہو گیا تھا۔ ایک اجنبی نےیونہی اپنا مجھے کوٹ دے دیا تھا۔ میں آج تک اس کا قرض نہیں اتار سکا۔ سوچا آج تمہارے ذریعے ہی اتار دوں۔ لڑکا بس میں بیٹھ گیا۔ کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک پرچی ملی۔ لکھا تھا بیٹا، جب تم کامیاب ہو جاؤ، تو کسی اور کا "کوٹ "بن جانا۔ یہ قرض آگے بڑھاتے رہنا۔ –چند ہی سال بعد وہی لڑکا اب خود ایک کامیاب ڈاکٹر تھا۔ سردی کی رات تھی۔ وہ اپنے کلینک سے نکلا تو باہر ایک بچہ ٹھٹھر رہا تھا۔ اس نے اپنا مہنگا "کوٹ” اتار کر بچے کو پہنا دیا۔ جیب میں پرچی ڈال دی۔ وہی پرانی پرچی۔ دنیا میں دولت ختم ہو جاتی ہے، رشتے بدل جاتے ہیں۔ لیکن "انسانیت” کا جو "کوٹ” ایک بار تمہیں مل جائے تو وہ نسل در نسل چلتا ہے ۔ بتاؤ، تمہاری زندگی میں کبھی کوئی "اجنبی ” آیا ہے جس نے تمہارا "کوٹ "بن کر تمہیں سنبھالا ہو؟کیا تمہارۓ پاس بھی ایسا کوئی "کوٹ "ہے جس کاقرض تم اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہو ؟دوسروں کے لیے قربانی کا جذبہ دراصل انسانی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے ۔ایسے ہی بہت سے واقعات اکثر انسانی عظمت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ۔
دوسرا یہ ا واقعہ بھی ایک تاریخ بن گیا ہے کہ جب تاریخی بحری جہاز ٹائی ٹانک ڈوب رہا تھا تو اس میں ارب پتی جان جیکب ایسٹر چہارم سوار تھا۔ اس کے بینک اکاؤنٹ میں اربوں ڈالر موجود تھے جن کو استعمال کر کے وہ خوشحال زندگی جی سکتا تھا۔ تاہم خطرے کا سامنا کرتے ہوئے اس نے وہی انتخاب کیا جسے وہ اخلاقی طور پر درست سمجھتا تھا اور دو خوفزدہ بچوں کو بچانے کے لیے لائف بوٹ میں اپنی جگہ چھوڑ دی یاد رہےکہ لائف بوٹس کم تھیں اور سوار زیادہ تھے۔
اسی طرح ڈپارٹمینٹل اسٹورز کی سب سے بڑی امریکن چین کے مالک اسٹراس بھی اسی ٹائی ٹائینک پر سوار تھے اس نے کہا”میں کبھی بھی دوسروں کی جگہ لائف بوٹ میں داخل نہیں ہوں گا۔” اس کی بیوی ایڈا اسٹراس نے بھی لائف بوٹ پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، اور اس کی جگہ اپنی نوکرانی ایلن برڈ کو دے دی۔ اس نے زندگی کے آخری لمحات اپنے شوہر کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان دولت مند افراد نے اپنے اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی دولت اور یہاں تک کہ اپنی جان دینے کوترجیح دی ۔بظاہر یہ دونوں بالکل الگ الگ طرح کے واقعات ہیں لیکن ان دونوں واقعات میں دو چیزیں مشترکہ ہیں۔ایک تو قربانی کا وہ جذبہ جو انسانیت کی معراج ہوتا ہے اور دوسرا وہ احساس کا جذبہ جو انسان کی اصل زندگی ہے اور اسکے زندہ یا مردہ ہونے میں تمیز کرتا ہے ۔کیونکہ زندہ لوگ ہی دوسروں کے لیے کچھ کر گزرنے کی سوچ رکھتے ہیں ۔جہاں انسانیت کی اہمیت زندگی کی اہمیت سے بڑھ جاتی ہے ۔اپنی ذات کے حصار سے نکل کر جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں وہ مرنےکے بعد بھی زندہ رہتے ہیں کیونکہ ان کی سانسیں نہیں ان کے کردار بولتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ جب انسان اپنے حصے سے بانٹ دیتا ہے تو رب اس میں برکٹ ڈال دیتا ہے ۔خواہ وہ رزق ہو ،عزت ہو ،طاقت ،وقت یا محبت اس میں کمی کبھی نہیں آتی ۔ایسے بھلائی کے "کوٹ” آگے سے آگے تقسیم ہوتے رہیں تو قربانی زندہ رہے گی لیکن ان "کوٹوں "کی جیب میں نصیحت کی پرچی ڈالنا مت بھولیے گا ۔
آج ہمارا معاشرہ اور ملک "ٹائی ٹینک "جیسی ہی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتا ہے ۔ہمارۓ عوام غربت کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں اور دوسری جانب ہر ایک طاقتور ان کو بچانے کی بجاۓ خود کو محفوظ کرنا چاہتا ہے ۔ہر غریب کا بچہ شاید کسی ایسے "کوٹ "کا منتظر ہے جو اس کا مستقبل سنوار سکے مگر کوئی اپنے ہاتھ آیا ہوا "کوٹ "کسی کو دینے کو تیار نہیں ہے ۔ان کہانیوں سے یورپ کی ترقی اور ہماری بربادی کی وجہ آپکے سامنے ہے۔یہ کیسا زمانہ ہے؟ جہاں کرپشن کر کے اور رشوت لے کر کر کوٹھیاں بنائی جاتی ہیں، جہاں انسانیت بیچ کر ملاوٹ اور ناجائز منافع خوری سے بڑی بڑی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں، جہاں آج سچائی مفلس ہے اور فریب امیر نظر آتا ہے۔ جہاں بس قربانی کا جانور بےعیب ہونا چاہیے ۔باقی قربانی کرنے والا جھوٹا ،دھوکے باز ،فراڈی ،سود خور ،منافق جیسا بھی ہو چلے گا ۔یہ سب کچھ دیکھ کر کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ چیخ کر پوچھوں کیا واقعی پیسہ خدا ہو گیا ہے؟ جسے ہر کوئی پوج رہا ہے؟ جس کے لیے جھوٹ، فریب اور دھوکہ بھی جائز ہو گئے ہیں؟ جو صرف کرنسی کی کھنک سے پہچانا جاتا ہے۔ مگر پھر خود ہی خاموش ہو جاتا ہوں، شاید میری آواز بھی اسی ہوس زر کے اسی بےہنگم شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔






