اعداد و شمار کے پار: جنگیں، جغرافیہ اور انسانی عزم کی ناقابلِ پیمائش طاقت
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
جدید دنیا کو اگر اعداد و شمار، چارٹس اور پریزنٹیشنز کی دنیا کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ آج حکومتوں سے لے کر بین الاقوامی اداروں تک، کاروباری کمپنیوں سے لے کر عسکری منصوبہ سازوں تک، ہر فیصلہ ڈیٹا، گراف اور اعداد و شمار کی بنیاد پر کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک سائنسی اور منطقی طریقۂ کار معلوم ہوتا ہے، لیکن تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی رہی ہے کہ صرف ان چیزوں کو اہم سمجھنا جو ناپی اور گنی جا سکیں، ایک بڑی فکری غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ اسی غلطی کو دنیا "میکنامارا فالسی” کے نام سے جانتی ہے۔
امریکی وزیر دفاع رابرٹ میکنامارا کا یقین تھا کہ اگر کسی مسئلے کے تمام قابلِ پیمائش پہلوؤں کا درست تجزیہ کر لیا جائے تو درست نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ویتنام جنگ کے دوران امریکی پالیسی سازوں نے فوجیوں کی تعداد، جنگی جہازوں، ٹینکوں، گولہ بارود، معاشی وسائل اور عسکری صلاحیت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تمام اعداد و شمار یہی بتا رہے تھے کہ امریکہ ایک کمزور اور نسبتاً پسماندہ ملک ویتنام کو آسانی سے شکست دے دے گا۔ مگر تاریخ نے مختلف فیصلہ سنایا۔ آٹھ سالہ جنگ کے بعد امریکہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت ایک چھوٹے ملک کے سامنے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکی۔
اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی تجزیہ کاروں نے وہ عوامل نظر انداز کر دیے تھے جو کسی چارٹ یا اسپریڈ شیٹ میں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے ہتھیار گن لیے، مگر آزادی کے جذبے کو نہ ناپ سکے۔ انہوں نے فوجیوں کی تعداد شمار کر لی، مگر قومی غیرت اور قربانی کے جذبے کا اندازہ نہ لگا سکے۔ انہوں نے جنگی طاقت کا حساب لگا لیا، مگر انسانی ارادے کی طاقت کو فراموش کر دیا۔
یہ صرف ویتنام کی کہانی نہیں۔ افغانستان کی تاریخ بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ سوویت یونین نے اپنی بے پناہ عسکری قوت کے بل بوتے پر افغانستان میں قدم رکھا اور خیال کیا کہ چند برسوں میں صورتحال مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں آ جائے گی۔ مگر دس سالہ جنگ کے بعد اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ بعد ازاں امریکہ اور نیٹو افواج بھی بیس سال تک افغانستان میں موجود رہیں، جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل استعمال کیے، مگر وہ نتائج حاصل نہ کر سکیں جن کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
اس تمام بحث میں ایک اور انتہائی اہم عنصر بھی شامل ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے جغرافیہ۔ ایک سیاسی جغرافیہ کے طالب علم کے طور پر میں ہمیشہ اس حقیقت پر زور دیتی رہی ہوں کہ جنگیں صرف ہتھیاروں اور فوجیوں کی تعداد سے نہیں جیتی جاتیں۔ زمین، محلِ وقوع، موسم، پہاڑ، دریا، سمندری راستے، سرحدیں اور پڑوسی ممالک بھی نتائج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
ویتنام کے گھنے جنگلات اور پیچیدہ زمینی ساخت نے امریکی فوج کے لیے بے شمار مشکلات پیدا کیں۔ افغانستان کے بلند و بالا پہاڑ اور دشوار گزار راستے دنیا کی دو سپر پاورز کے لیے مستقل دردِ سر بنے رہے۔ اگر جغرافیہ غیر اہم ہوتا تو دنیا کی عظیم ترین فوجی طاقتیں اتنی طویل جنگوں میں الجھ کر اپنے مقاصد حاصل نہ کر پاتیں۔
اسی طرح کسی ملک کے ہمسایہ ممالک بھی جنگ کے نتائج پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ بظاہر اگر ایک ملک کے پاس سو جنگی جہاز ہوں اور دوسرے کے پاس صرف پچاس، تو پہلی نظر میں یہی محسوس ہوگا کہ فتح پہلے ملک کا مقدر ہوگی۔ لیکن اگر دوسرے ملک کو اپنے پڑوسیوں کی سیاسی، سفارتی، معاشی یا لاجسٹک حمایت حاصل ہو تو طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو سکتا ہے۔ جنگیں صرف محاذوں پر نہیں بلکہ سپلائی لائنز، سرحدوں، اتحادیوں اور علاقائی تعلقات کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔
آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ہو یا دنیا کے دیگر تنازعات، محض فوجی اعداد و شمار کو دیکھ کر حتمی نتائج اخذ کرنا دانشمندی نہیں۔ بہت سے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر عملی طور پر فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں نظریاتی وابستگی، قومی تشخص، مذہبی عقیدہ، تاریخی شعور، قیادت پر اعتماد اور قربانی کا جذبہ شامل ہیں۔
یہاں مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عظیم باب ہمارے سامنے موجود ہے۔ غزوۂ بدر میں ایک طرف قریشِ مکہ کا لشکر تھا جس کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی، جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی۔ وسائل، گھوڑوں، اونٹوں اور جنگی سازوسامان کے اعتبار سے بھی دونوں فریقوں میں نمایاں فرق تھا۔ اگر آج کا کوئی جدید ڈیٹا اینالسٹ اس جنگ سے پہلے دونوں لشکروں کا موازنہ کرتا تو غالب امکان یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کی شکست کی پیش گوئی کرتا۔
مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ انسانی عزم اور ایمان کی طاقت بعض اوقات تمام مادی حساب کتاب پر غالب آ جاتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس تعداد کم تھی مگر مقصد بڑا تھا۔ وسائل محدود تھے مگر یقین کامل تھا۔ ظاہری طاقت کم تھی مگر باطنی قوت بے مثال تھی۔ یہی وہ عنصر تھا جسے کسی جدول یا چارٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تحقیق، اعداد و شمار اور سائنسی تجزیے کی اہمیت سے انکار کیا جائے۔ جدید دنیا میں منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے ڈیٹا ناگزیر ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ صرف وہی چیز اہم ہے جسے ناپا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کے بہت سے بنیادی عناصر ناقابلِ پیمائش ہوتے ہیں۔
محبت، خوف، امید، وفاداری، غیرت، جذبۂ قربانی، ایمان، عزم اور قومی شعور جیسے عوامل کو کسی پیمانے پر مکمل طور پر نہیں ناپا جا سکتا، مگر یہی عوامل قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ یہی وہ قوتیں ہیں جو کمزور سمجھے جانے والے افراد اور قوموں کو غیر معمولی کارنامے انجام دینے کے قابل بناتی ہیں۔
بدقسمتی سے آج ہمارے ہاں بھی ہر چیز کو پریزنٹیشنز، پاور پوائنٹ سلائیڈز اور شماریاتی رپورٹس میں محدود کرنے کا






