گیند کی سلائی سے امن کی بنائی تک
تحریر:محمد محسن اقبال
ایک ایسی دنیا میں جو اکثر سیاست، جغرافیے اور باہمی مفادات کے تضادات کے باعث تقسیم در تقسیم دکھائی دیتی ہے، چند ہی ایسی قوتیں ہیں جو انسانیت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فٹ بال انہی نادر قوتوں میں سے ایک ہے۔ بعض ممالک میں اسے ساکر کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک عالمگیر زبان ہے، جسے کروڑوں انسان سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ یہ زبان سرحدوں، ثقافتوں، نسلوں اور عقائد کی دیواروں کو عبور کر کے دلوں کو جوڑتی ہے۔ دنیا کے عظیم شہروں کی مصروف شاہراہوں سے لے کر دور افتادہ دیہات تک، یہ کھیل خوابوں کو جلا بخشتا، جذبات کو مہمیز دیتا اور انسانیت کے مشترکہ احساس کو فروغ دیتا ہے۔
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے سولہ شہروں میں منعقد ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ قومیں عظمت و افتخار کے حصول کے لیے میدان میں ہیں، کھلاڑی اپنے نام کو تاریخ میں امر کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اربوں شائقین ہر پاس، ہر ٹیکل اور ہر گول کو انہماک سے دیکھ رہے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان ان ٹیموں میں شامل نہیں جو اس عالمی میلے میں شریک ہیں، لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ پاکستان اس عظیم منظرنامے سے غائب ہے تو یہ حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔
اس عالمی مقابلے کے عین مرکز میں ایک ایسی چیز موجود ہے جس پر پاکستانی ہنرمندی کی واضح مہر ثبت ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی سرکاری میچ بال، جسے "ٹریونڈا” کا نام دیا گیا ہے، پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کی گئی ہے۔ سیالکوٹ وہ شہر ہے جس کا نام کھیلوں کا سامان بنانے میں معیار، مہارت اور اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ کئی دہائیوں سے اس شہر کے ماہر کاریگر اور جدید پیداواری ادارے دنیا کے معتبر ترین مقابلوں کے لیے فٹ بال تیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ فیفا ورلڈ کپ مقابلوں، یوئیفا چیمپئنز لیگ کے فائنلز اور متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں استعمال ہونے والی گیندوں کی جڑیں بھی اسی زرخیز صنعتی شہر میں ملتی ہیں۔
سیالکوٹ کی داستان محنت، مہارت اور خاموش کامیابی کی داستان ہے۔ اگرچہ تیار شدہ مصنوعات پر بعد میں عالمی کمپنیوں کے نام اور لوگو ثبت کر دیے جاتے ہیں، لیکن دنیا بخوبی جانتی ہے کہ ان گیندوں کی پیدائش کہاں ہوتی ہے۔ ہر سلائی، ہر پینل اور ہر باریک ڈیزائن پاکستانی کارکنوں کی فنی مہارت کا مظہر ہے، جن کے ہاتھ اس کھیل کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں جو اربوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستان اگرچہ میدان میں مقابلہ نہیں کر رہا، لیکن اس عالمی ٹورنامنٹ کا ایک ناگزیر شریک ضرور ہے۔ اس کی فیکٹریوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کے بغیر دنیا کے کئی عظیم کھیلوں کے مقابلے ناقابلِ تصور دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم یہ حقیقت صرف کھیل تک محدود نہیں۔ اقوام کی خدمات اکثر ان سرخیوں سے کہیں آگے ہوتی ہیں جو اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ آج دنیا ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جو کسی بھی کھیل کے مقابلے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور تنازع نے عالمی استحکام پر گہرا سایہ ڈال دیا ہے۔ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ اور تیل کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ ممالک بھی جو اس تنازع کے براہِ راست فریق نہیں، بڑھتی ہوئی قیمتوں، معاشی اضطراب اور علاقائی سلامتی کے خدشات کے ذریعے اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ خلیجی خطے کا امن اور خوشحالی، جو عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، بھی اس دباؤ کی زد میں آ چکی ہے۔
ایسے نازک حالات میں پاکستان نے ایک تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ طویل محاذ آرائی کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت نے عزم و استقلال کے ساتھ مکالمے اور افہام و تفہیم کی حوصلہ افزائی کی۔ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی، مشاورت کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین کے درمیان رابطے کو آسان بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ پاکستان کا مقصد نہ تو سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا اور نہ ہی عالمی شہرت؛ اس کی خواہش صرف یہ تھی کہ ایسے خطے میں امن قائم ہو جس کا استحکام پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔
یہ کاوش صبر، استقلال اور مفاہمت کے لیے غیر متزلزل وابستگی کا تقاضا کرتی تھی۔ سفارت کاری عموماً شور و غوغا سے دور رہتی ہے۔ اس کی کامیابیوں کا پیمانہ جشن اور تقریبات نہیں بلکہ وہ بحران ہوتے ہیں جو ٹل جائیں اور وہ تصادم ہوتے ہیں جو رونما ہونے سے پہلے روک دیے جائیں۔ یہی وہ خاموش کامیابیاں ہیں جو قوموں کی حقیقی خدمت کا درجہ رکھتی ہیں۔
اب اطلاعات یہ ہیں کہ متعلقہ فریقین کے درمیان مفاہمت کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ اگرچہ امید تھی کہ کوئی باضابطہ معاہدہ اسلام آباد میں طے پائے گا، لیکن اشارے اس جانب ہیں کہ حتمی معاہدے کے لیے سوئٹزرلینڈ کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ تاہم مقام کی اہمیت ثانوی ہے۔ اصل اہمیت اس امن کی ہے جس کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کی گئیں۔ پاکستان اس بات پر اطمینان محسوس کر سکتا ہے کہ اس نے اس عمل میں اپنا کردار ادا کیا اور مکالمے و باہمی اعتماد کے لیے سازگار فضا پیدا کرنے میں مدد دی۔
پاکستان کے عالمی کھیل اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کردار کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں میدانوں میں اس کی خدمات ہمیشہ مرکزِ نگاہ نہیں ہوتیں، مگر ان کی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہوتی ہے۔ جس طرح ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی گیند پر خواہ کسی بھی برانڈ کا نام درج ہو، اس کے اندر سیالکوٹ کی ہنرمندی موجود ہوتی ہے، اسی طرح امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی قدر و قیمت اس بات سے کم نہیں ہوتی کہ معاہدے پر دستخط کہاں ہوتے ہیں یا داد و تحسین کس کے حصے میں آتی ہے۔
عصرِ حاضر کی دنیا اکثر نمایاں کامیابیوں کو سراہتی ہے لیکن ان بنیادوں کو فراموش کر دیتی ہے جن پر وہ کامیابیاں استوار ہوتی ہیں۔ حالانکہ حقیقی اثر و رسوخ ہمیشہ ظاہری نمود و نمائش سے نہیں ناپا جاتا۔ کبھی یہ اس ہنرمند ہاتھ میں پوشیدہ ہوتا ہے جو اسٹیڈیم تک پہنچنے سے پہلے گیند کو شکل دیتا ہے، اور کبھی اس مدبر سفارت کاری میں جو میدانِ جنگ تک پہنچنے سے پہلے تنازعات کا راستہ روک دیتی ہے۔ ان دونوں میدانوں میں پاکستان نے محنت، استقامت اور عالمی برادری کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
آج جب دنیا فٹ بال کے عظیم ترین مقابلے میں ہونے والے گولوں پر خوشی منا رہی ہے اور بے یقینی کے شکار خطوں میں امن کی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے، پاکستان کی خدمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بامعنی شراکت صرف اسپاٹ لائٹ تک محدود نہیں ہوتی۔ خواہ یہ سیالکوٹ کے کاریگروں کی مہارت ہو یا اقوام کے درمیان مکالمے کے فروغ کی کوشش، پاکستان مسلسل اس دنیا پر اپنے نقوش ثبت کر رہا ہے جو گیند اور پل—دونوں کی قدر سے بخوبی واقف ہے۔






