ایران امریکہ معاہدہ’ اقوام عالم پاکستان کی شکرگزار
آج کا اداریہ
بالآخر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایران امریکہ معاہدہ کرادیا۔اتوار اور پیر کی درمیانی شب سوا بارہ بجے وزیرداخلہ کا ایک چار لفظی پیغام آیا
” خدا بہت عظیم ہے "
ایکس اکاؤنٹ سے کی گئییہ پوسٹ انگریزی کے صرف چار الفاظ پر مشتمل تھی: ’گاڈ از دی گریٹسٹ۔‘ یعنی ’خدا سب سے عظیم ہے۔‘
محسن نقوی ان اہم شخصیات میں شامل رہے ہیں جنھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں ایران کے کئی دورے کیے۔اسی وجہ سے ان کی پوسٹ کے بعد چہ مگوئیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگ تبصروں میں اندازے لگانے لگے کہ اس کا تعلق امریکہ اور ایران میں ہونے والے معاہدے سے ہے۔
اور پھر اس کے ایک گھنٹہ اور 50 منٹ بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے پوسٹ کی جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ تفصیلی مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا۔ فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔شہباز شریف نے مزید لکھا کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کی سرکاری تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی
ایکس پوسٹ میں وزیر اعظم پاکستان نے سفارتی طریقے سے تنازع حل کرنے پر امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا اور لکھا ’ہم اپنے برادران، ریاستِ قطر کی عظیم قیادت، کے لیے بھی نہایت خلوص سے قدر دانی کا اظہار کرتے ہیں جنھوں نے ثالثی کی کوشش میں کردار ادا کیا اور ان کی حمایت سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔شہباز شریف نے سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ’اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا۔واضح رہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اپریل کو ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملے روکنے کا اعلان کیا تھا تو اس اعلان میں بھی انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کیا تھا۔آٹھ اپریل کی اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کی جانب بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں۔اس سے پہلے امریکی صدر ایران پر تباہ کن حملے کی دھمکی دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ہی اعلان کر چکے تھے کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔آٹھ اپریل کو ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کیے جو بے نتیجہ رہے، تاہم دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی جنگ بندی کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی۔ اس دوران مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں اور تنازع کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں۔پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک نے ثالثی کا کردار ادا کیا، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطحی رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایران کے دورے کیے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور کشیدگی میں مزید کمی لائی جا سکے۔اور اب وزیر اعظم شہباز شریف نے امن معاہدہ طے پانے کا باضابطہ اعلان کیا۔ ان کی ایکس پوسٹ کے 14 منٹ بعد ٹرمپ نے بھی ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا۔ سب کو مبارک ہو۔معاہدے کی مختصر تفصیل بتاتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے لیے کوئی فیس نہیں لی جائے گی اور ایران کی بحری ناکہ بندی بھی فوری ختم کر دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا ’دنیا بھر کے جہاز اپنے انجن سٹارٹ کر دیں۔ لیٹ دی آئل فلو (تیل کی فراہمی جاری رہنے دیں)۔‘
دنیا بھر میں جہاں اس معاہدے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، وہیں اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا جا رہا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا ’اس کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ممکن ہوا۔‘برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کی طرف سے جاری بیان میں امریکہ، ایران معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا اور دونوں ممالک میں ثالثی کرانے پر پاکستان اور قطر کو مبارک باد دی گئی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کو سراہا کہ انھوں نے ’مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں امن معاہدے تک پہنچنا ممکن ہوا۔ایرانی صدر رجب طیب ارگان نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’میں ثالثی کی غیر معمولی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماوں نے کہا: ’ہم امریکہ، ایرانی حکومت اور ان تمام افراد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس سفارتی پیش رفت میں کردار ادا کیا۔ اس میں پاکستان، قطر اور دیگر تمام ثالث شامل ہیں۔






