"بورژوا” 600 فیصد اور "پرولتاریہ” صرف 07 فیصد
تحریر و تجزیہ ۔ پیر مشتاق رضوی
جتنی عیاشی اس حکومت میں اشرافیہ کو کروائی جارہی ہے آج تک کسی دور میں نہیں ہوئی،اراکینِ پارلیمنٹ، بیورو کریسی اور ججز کی تنخواہوں میں بتدریجا”600 فیصد اضافہ کیااورجتنا ظلم،زیادتی اتذلیل اور معاشی استحصال اس ہائبرڈ حکومت نے چھوٹے سرکاری ملازمین اور غریبوں کے ساتھ کیا ہے،وہ بھی آج تک کسی نے نہیں کیا
مالی سال27-2026ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور منتخب عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں اضافے کا موازنہ سامنے آیا ہے جس نے عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تقابلی جائزہ میں اضافےکی شرح میں واضح فرق کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے قومی اسمبلی کے اسپیکر 535%،چیئرمین سینیٹ 535%،وفاقی وزراء تقریباً 140%،ارکانِ قومی اسمبلی و سینیٹرز 138%جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7% اضافہ کیا گیاسب سے زیادہ اضافہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اوچیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 535% کاغیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں تقریباً 140% اضافہ ہوا۔ ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہوں میں 138% اضافہ کیا گیا۔ اس کے برعکس بجٹ27-2026ء میں سرکاری ملازمین کے لیے صرف 7% اضافہ تجویز کیا گیا ہےمنتخب نمائندوں اور وفاقی سرکاری ملازمین کے اضافوں میں نمایاں فرق موجود ہےاس تقابل کےمطابق اعلیٰ حکومتی عہدوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں سینکڑوں فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ عام سرکاری ملازمین جن میں اساتذہ، کلرک، پولیس اور دیگر محکموں کے اہلکار شامل ہیں، ان کی تنخواہ میں صرف 7% اضافہ تجویز کیا گیا۔ مہنگائی کے موجودہ دور میں جب عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے، اس فرق نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے سرکاری ملازمین کی تنظیموں کا موقف ہے کہ 7% اضافہ مہنگائی کی شرح سے کہیں کم ہے اور اس سے ان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف حکومتی موقف یہ ہو سکتا ہےکہ اعلیٰ عہدوں پر فائز اشرافیہ کی تنخواہیں کئی سالوں سے نہیں بڑھائی گئیں اور انہیں دیگر ممالک کے مساوی لانے کے لیے یہ اضافہ ضروری تھا۔ تاہم عوامی سطح پر اس تقسیم کو عدم مساوات کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہےحالیہ بجٹ میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کسی بھی ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے پالیسی سازوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ عام سرکاری ملازم جو ریاستی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اسے مہنگائی کے تناسب سے ریلیف ملے۔ عوام اور ملازمین اضافے کے اس فرق پر حکومت سے وضاحت اور نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ معاشی انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔مالی سال 27-2026ءکے بجٹ میں تنخواہوں کے اضافے کا تقابلی جائزہ سامنے آیا تو ایک تلخ حقیقت نے سر اٹھایا ہے کہ "سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے کو سب سے کم ریلیف ملا۔” تنخواہ دار طبقہ ٹیکس نیٹ میں جکڑا ہواہے FBR کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار ملازمین تنخواہ ملنے سے پہلے ہی ٹیکس کٹوتی کا شکار ہوتے ہیں یہ طبقہ چوری نہیں کر سکتا اور سب سے زیادہ ایمانداری سے ٹیکس دیتا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ 535% اور 140% اضافہ لینے والے منتخب نمائندوں کے مقابلے میں، سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے سرکاری ملازم کے لیے صرف7% اضافہ تجویز ہوا یہ اضافہ موجودہ 25% سے 30% مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے اس سے معاشی ناانصافی کا تاثر ملتا ہے جب ایک عام کلرک، استاد، یا پولیس اہلکار اپنی تنخواہ کا 10% سے 35% تک ٹیکس دے کر گھر لے جاتا ہےاور اسے سال کے آخر میں 7% اضافہ ملے، جبکہ پالیسی بنانے والوں کی تنخواہیں 500% سے زیادہ بڑھ جائیں، تو اسے”معاشی ناانصافی” ہی کہا جائے گا۔جبکہ اہم سوالات جنم لیتے ہیں کیا ریاست کا نظام صرف مراعات یافتہ طبقے کے لیے ہے؟ٹیکس دینے والے کی قوتِ خرید کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر تنخواہ دار طبقے پر ہی ٹیکس کا سارا بوجھ ہے تو ریلیف میں اسے سب سے آخر میں کیوں رکھا جاتا ہے؟ حالیہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں، ترجیحات کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا طبقہ سب سے کم اضافہ لے اور مہنگائی کی چکی میں پستا رہے تو یہ معاشی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور کرتا ہے۔ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو صرف "ٹیکس مشین” نہ سمجھے۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے کیا جائے، کیونکہ یہی طبقہ دن رات محنت کر کے ریاستی نظام چلاتا ہے اور خزانے میں سب سے زیادہ حصہ بھی ڈالتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جو سب سے زیادہ دے، اسے سب سے کم نہ ملے ارباب اختیار جوابدہ اور ذمہ دار ہیں کہ بجٹ 27-2026ء تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس دینے والا ہی بے آسرا کیوں ہے؟ مالی سال 27-2026ء کے بجٹ میں تنخواہوں کے اضافے کے اعداد و شمار نے سرکاری ملازمین کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ ایک طرف 535% کے شاہانہ اضافے، دوسری طرف 7% کا "خیراتی” اضافہ،مگر معاملہ صرف تنخواہ کا نہیں،معاشی تحفظ اور سوشل سیکورٹی کا بھی ہے۔دوہرا المیہ یہ بھی ہے کہ "ٹیکس بھی دو، تحفظ بھی نہ لو "سب سے زیادہ ٹیکس، سب سے کم اضافہ ہے سرکاری ملازم واحد طبقہ ہے جس کی تنخواہ سے "At Source” ٹیکس کٹتا ہے یہ ٹیکس چوری نہیں کر سکتا۔ مگر ریلیف کے وقت اسے 7% پر ٹرخا دیا جاتا ہے جبکہ مہنگائی 25% سے اوپر ہے۔ سرکاری ملازمین کے لئے سوشل سیکورٹی کا فقدان ہے ایک عام سرکاری ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ناکافی پنشن ملتی ہے۔میڈیکل کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی دوائی نہیں ملتی سرکاری ملازمین بچوں کے لیے کوئی اسکالرشپ یا فری تعلیم کا نظام نہیں۔ 30 سال نوکری کے بعد بھی 90% ملازمین ذاتی گھر سے محروم رہتے ہیں۔ لاکھوں ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں جنہیں پنشن تک نہیں ملتی۔جبکہ منتخب نمائندوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے اس کے برعکس ارکانِ پارلیمنٹ کو تاحیات پنشن، مفت علاج، مفت سفر، سرکاری گھر اور کئی مراعات حاصل ہیں ان کی تنخواہ 138% سے 535% تک بڑھا دی گئی مگر ان سے کارکردگی نہیں پوچھی جاتی اصل سوال یہ ہےکہ "ریاست ماں ہے تو ایسا سوتیلا سلوک






