#کالم

"محبت، وفا اور ادبی خدمت کا روشن استعارہ”

dr rashaly

تحریر: ڈاکٹر فضلیت بانو

میجر عبد القدوس کا اپنی مرحومہ بیوی تحسین اختر کے نام شاندار خراجِ محبت۔
محبت انسانی جذبات کا وہ عظیم اظہار ہے جو وقت اور حالات کی تبدیلیوں کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔ بعض شخصیات اپنی محبت کو محض یادوں تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اسے تعمیری، تخلیقی اور سماجی خدمت کے ایسے عمل میں ڈھال دیتی ہیں جو دوسروں کے لیے بھی مثال بن جاتا ہے۔ میجر عبد القدوس کی جانب سے اپنی مرحومہ اہلیہ تحسین اختر کی یاد میں خواتین کے لیے "تحسین” کے نام سے رسالے کا اجرا اسی لازوال محبت، احترام اور عقیدت کی ایک قابلِ قدر مثال ہے۔
زندگی کے سفر میں شریکِ حیات کی جدائی ایک نہایت گہرا اور ناقابلِ بیان صدمہ ہوتی ہے، تاہم میجر عبد القدوس نے اس غم کو حوصلے، تخلیقی صلاحیت اور خدمت کے جذبے میں تبدیل کیا۔ انھوں نے اپنی رفیقۂ حیات کی یاد کو صرف ایک ذاتی احساس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک ایسی ادبی و سماجی کاوش کی صورت دی جو خواتین کی آواز، صلاحیتوں اور تخلیقی اظہار کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
"تحسین” محض ایک رسالہ نہیں بلکہ محبت، وفاداری اور احترام کی ایک زندہ علامت ہے۔ اس نام میں ایک مخلص شریکِ حیات کی عقیدت، ایک عزیز ساتھی کی یاد اور ادب و خدمت کا جذبہ پوشیدہ ہے۔ یہ رسالہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقی محبت انسان کو تعمیر، مثبت کردار اور معاشرتی بھلائی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
میجر عبد القدوس کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی قابلِ ستائش ہے کہ انھوں نے خواتین کے ادب، مسائل، صلاحیتوں اور فکری پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مستقل اور باوقار ذریعہ فراہم کیا۔ موجودہ دور میں، جب معاشرے کو سنجیدہ، معیاری اور بامقصد ادبی پلیٹ فارمز کی اشد ضرورت ہے، "تحسین” کا اجرا ایک اہم اور قابلِ تحسین ادبی خدمت ہے۔
تحسین اختر کی یاد کو ادب اور قلم کے ذریعے زندہ رکھنا دراصل ان کی شخصیت، خدمات اور یادوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک خوب صورت انداز ہے۔ یہ رسالہ آنے والی نسلوں کے لیے اس حقیقت کی یاد دہانی رہے گا کہ محبت صرف جذبات اور الفاظ کا نام نہیں بلکہ عمل، ایثار، وفا اور خدمت کا عملی اظہار بھی ہے۔
میجر عبد القدوس نے اپنی اہلیہ مرحومہ تحسین اختر کی سالگرہ کے موقع پر اس محبت بھری کاوش کو مزید یادگار بناتے ہوئے۔ اپنی رہائش گاہ پر اپنے فیملی ممبرز اوررائٹرز دوست ،احباب کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت شام کو مزید خوب صورت بناتے ہوئے خواتین کے لیے ایک ادبی و تحقیقی "تحسین” رسالے کا اجرا کیا۔ اس موقع پر کیک کٹنگ کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں دوست احباب اور عزیز و اقارب نے شرکت کی۔ تقریب میں شرکا کی بہترین تواضع کی گئی اور محبت و خلوص سے بھرپور اس اجتماع نے مرحومہ کی یاد کو مزید خوب صورت بنا دیا۔ یہ موقع نہ صرف ایک ادبی سفر کے آغاز کا باعث بنا بلکہ محبت، یاد اور تعلقات کی خوب صورت تجدید کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ تحسین اختر کواپنی رحمتوں میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور میجر عبد القدوس کی اس مخلصانہ ادبی کاوش کو مزید کامیابیوں،پذیرائی اور استحکام سے نوازے ۔
آ مین
میجر عبد القدوس کا یہ جذبہ محبت اور ادبی وابستگی قابلِ احترام ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی ایک قیمتی یادکو اجتماعی فائدے کے ایک روشن چراغ میں تبدیل کر دیا۔” تحسین” کا سفر یقیناً ان کی محبت،عزم،ادبی اور مثبت سوچ کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ میجر عبد القدوس کو صحت وتندرستی والی عمر خضر عطا فرمائے آمین اور ان کے ادبی و محبتی جذبوں کو ہمیشہ سلامت رکھے آمین ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے