پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:30
(شاہد بخاری)
اداریوں میں کتنا پر شکوہ اور دل آویز اسلوب بیان اختیار کیا گیا ہے،اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے،کہیں لفظ رقص کناں نظر آتے ہیں تو کہیں آتش فشاں بن جاتے ہیں۔کہیں شعریت کی قوسِ قزح ہے تو کہیں استدلال کی تابانی۔ کہیں جذبوں کا وفور ہے تو کہیں زندگی کی پر بہار اور کہیں پُر آشوب تصویریں،با ایں ہمہ ابلاغ کہیں بھی مشکل نہیں ہوتا۔ بات دل سے نکلتی ہے اور دل تک پہنچ جاتی ہے نغمے روح سے بیدار ہوتے ہیں اور روح میں اتر جاتے ہیں۔ یقینا کہیں کہیں بڑی سنجیدگی اور متانت ہے لیکن بیانیہ گنجلک نہیں ہوتا۔ یہ محض دعوے نہیں بلکہ ان کی تحریریں ان خصوصیات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
اظہار کی شیرینی اورحلاوت دیکھئے۔
”جب آپ کارِ جہاں سے تھک ہار کر اپنے گھر لوٹیں تو وہ آپ کو پیار سے اپنی آغوش میں لے لے اور جب آپ بستر پر لیٹیں تو نیند خود آکر آپ کو لوریاں دینے لگے اور ایسے خواب عطا کر ے جس کی تعبیر بھی دلکش ہو جب آپ صبح سویرے بیدار ہوں تو سورج کی پر سکون کرنیں آپ کے کشکولِ حیات کو بھر دیں،تازہ ہوا ئیں آپ کے لئے جسم و جاں کی ساری لذتیں ڈھیر کر دیں حسن اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ آپ کے مطلع نظر پر طلوع ہو اور محبت اپنی تمام شیرینیاں اور حلاوتیں آپ کے دامن میں ڈال دے شاید یہ سب کچھ آپ کی اور میری دلی خواہش ہے۔“
اداریہ نگار کا نفسیاتی تجزیہ ملاحظہ ہو:
”ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ زمین، یہ آسمان یہ فضائیں یہ گھٹائیں یہ ہوائیں افواجِ غنیم ہیں اور ہمیں شکست دینے کے لئے ہمہ وقت محوِ فکر ہیں۔ کبھی ہم تقدیر کا ماتم کرتے ہیں کبھی قسمت کا گلہ، کبھی ہمیں خالق سے شکایت ہوتی ہے تو کبھی مخلوقِ خدا سے،ہم رنجیدہ خاطر دکھائی دیتے ہیں ہم چیخ اٹھتے ہیں، صفِ ماتم بچھی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور ویسے بھی ہم موت کی آغوش میں سو جانا چاہتے ہیں ہمارا ذہن مفلوج ہو جاتا ہے اور احساس اپنی تمام توانائیاں کھو بیٹھتا ہے اور ہم Neuroticہو جاتے ہیں،یوں لگتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے خفا ہیں ایسے میں ہم بہار کو خزاں،گل کو خار اور دن کو رات تصور کرتے ہیں۔
پروفیسر اقبال صاحب، لینن، گوئٹے، آسکر وائلڈاور وسلر جیسے رائیٹرز کی رائے سے متفق نہیں لگتے، جو ادب کو محض دل جوئی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور تفنن طبع کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں پروفیسر اقبال ادب کی جمالیاتی حس سے پوری طرح متمتع ہیں، اسے پسند کرتے ہیں لیکن وہ گیسوئے زندگی کو بھی سنوارنے کے کچھ اس طرح قائل ہیں کہ ادب پند نامہ بن کر نہ رہ جائے وہ زندگی کی دھڑکنوں کو ضرور محسوس کریں اور زندگی کے دکھوں کا اظہار ہو اور یوں جمال و جلال کا خوبصورت امتزاج نظر آئے۔انہوں نے زندگی کے تضادات کا کیا خوبصورت اظہار کیا ہے ذرا دیکھئے:
”ذرائع ابلاغ عامہ پر گویا نسوانی حسن کا راج ہے، کوئی ڈرامہ دیکھ لیجئے، کوئی اشتہار ملاحظہ کر لیجئے، کوئی اور پروگرام دیکھنے بیٹھ جائیے تو ہر پروگرام داغ کی غزل، میر کی شاعری معلوم ہوتا ہے۔ ہر طرف محبت کی رم جھم ہے۔ جنسی جذبوں کی برسات ہے۔جوانی پھٹی پڑتی ہے حسن اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے اور ہر جوان اور بزرگ اسے انتہائی انہماک سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔۔۔ایسے میں اگر ہمارے گھروں میں کوئی ایسی صورتحال جنم لے لیتی ہے تو ہماری غیرت جاگ جاتی ہے تلوار نیا م سے باہر آ جاتی ہے، گولیاں چل جاتی ہیں، پشتے لگ جاتے ہیں اور کتنے دلچسپ ہیں ہم لوگ“
ڈاکٹر اقبال تمام تر اندوہناک صورتحال کے باوجود مایوس نہیں وہ لکھتے ہیں۔
”مجھے یقین ہے کہ ابھی روزِ قیامت نہیں آیا ابھی خدا ہم سے مایوس نہیں ہوا، اصلاح احوال بھی ممکن ہے نفرتیں محبتوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں بزرگوں اور جوانوں میں معانقہ ممکن ہے۔
شوہر اور بیوی خوشی خوشی رہ سکتے ہیں گھر جنت کی تصویر بن سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم سچ بولنا سیکھ لیں کبوتر کی طرح اپنی آنکھوں کو بند نہ رکھیں“
زندگی کے بھیانک تضاد کا ایک اور مرقع نذرِ قارئین ہے۔ ”ہم جمہوریت مساوات اور سماجی انصاف کا جتنا راگ الاپتے ہیں، اسے سن سن کر سماعتیں گنگ ہو گئی ہیں۔ لیکن اپنے گرد نظر ڈالئے تو بھینس اس کی ہو گی جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو گی۔قانون اس کی حفاظت کرے گا جو سب سے بڑا قانون شکن ہو گا، جمہوریت کی بات کرنے والے نہ اپنے گھر میں جمہوری ہیں نہ اپنے دفترمیں، نہ اپنے محلے میں، نہ اپنے دوستوں میں۔ بس جمہوریت کے نعرے بلند کرنا اچھا لگتا ہے شاید ایسا کرنا بھی Status Symbleہے“
اپنے اداریئے بعنوان ”ہم اسلامی نظام چاہتے ہیں“میں ڈاکٹر اقبال نے اسلامی نظام کو تو ہر دکھ کا مداوا تصور کیا ہے لیکن انہوں نے واضح کردیا ہے کہ دراصل ہم میں سے مٹھی بھر ہوں گے جو سچ مچ اسلامی نظام چاہتے ہیں۔زبانی جمع خرچ کچھ اور بات ہے اور عملی زندگی میں اسے اپنانا کچھ اوربات ہے۔ وہ اسلامی نظام کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
”اس میں کلام نہیں کہ اسلامی نظامِ حیات ایک مکمل طرزِ زندگی ہے ۔جو تھوڑا بہت مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے کا مجھے اتفاق ہو اہے اس سے میرا ایمان اور بھی مضبوط ہوا ہے اور میرے اس یقین کو تقویت ملی ہے کہ اسلامی نظامِ حیات سے بہتر کوئی اور نظام ایسا نہیں جو ہمارے جسمانی روحانی فکری اور نفسیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے اسلامی نظام حیات جدید تقاضوں کو بھی ملحوظ نظر رکھتا ہے اور انسان کا تعلق ماضی کی حسین روایات سے بھی منقطع نہیں ہونے دیتا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام حیات میں پھلنے پھولنے کی پوری صلاحیتیں موجود ہیں۔ کیونکہ یہ مذہب کوئیDogmaنہیں چند رسوم رواج پر مشتمل نہیں نہ ہی کوئی خانقاہی نظام ہے جسے وقت کی تبدیلیوں سے آنکھیں چار کرنے کا یارا،نہ ہو۔ بلکہ یہ تو انسانی






