کاغذات کی تصدیق کا فرسودہ نظام
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
گذشتہ دنوں مجھے اپنی بیٹی جو خود بھی ایک فرسٹ کلاس گزیٹیڈافسر ہے کے کچھ کاغذات پنجاب سول سیکٹریٹ کو بھجوانے تھے جن کے لیےہدایت یہ تھی کہ تمام کاغذات کسی بھی فرسٹ کلاس گزیٹیڈ افسر سے تصدیق کرا کر بھجواۓ جائیں ۔یہ تصدیق کراتے ہوۓ مجھے اپنا پرانا دوست سعید چشتی یاد آگیا ۔تقریبا” پچاس سال قبل جب وہ اور میں ملازمت کے حصول کی جدوجہد میں دن رات مختلف محکموں میں درخواستیں بھجوایا کرتےتھے جہاں سے کال تو کبھی نہ آتی تھی اور اگر آتی تھی تو تحریری امتحان کا رزلٹ کبھی نہ آتا تھا ۔ البتہ ۔ جب بھی کسی جاب کےلیے اپلائی کرنا ہوتا تو ہمارۓ لیے اپنی تعلیمی اسنا د اور دیگر تمام ڈاکومنٹس بمعہ اپنی تین تصویروں کو پہلے کسی گزیٹیڈافسر کو ڈھونڈنا اور اس سے تصدیق کرانا بڑا مشکل اور مصروف مرحلہ ہوا کرتا تھا ۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب درخواست ٹائپ کرانا پڑتی تھی اور فوٹواسٹیٹ کرانے بھی کئی میل دور جانا پڑتا تھا ہم دونوں کلاس فیلو بھی تھے اور قریبی دوست بھی تھے اکثر اس چکر میں کرایہ کے سایکل چلا چلاکر تھک کر چور ہو جایا کرتےتھے ۔ایک دن تو اصل کاغذات کی فائل بھی ساتھ اٹھاۓ تصدیق کرانے کی کوشش کرتے کرتے زچ ہوگئے تو سعید چشتی کہنے لگا یا ر ! مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ تصدیق کرانے کا کیا فائدہ ہے ؟ پہلے تو انٹرویو کے لیے بلاتے ہی نہیں اور اگر بلاتے ہیں تو اصل کاغذات بھی مانگتے ہیں ۔ ہم پاکستانی ہیں ہمیں دیانتدار کیوں نہیں سمجھا جاتا ؟ اپنے ہی ملک کی یونیورسٹی کی ڈگری مستند کیوں نہیں سمجھی جاتی ؟ ایک دستخط اور مہر لگنے سےہمار کاغذ قیمتی کیوں ہو جاتا ہے ؟میں اسے سمجھاتا کہ اس تصدیق کی روایت دراصل اس زمانے کی پیداوار ہے جب حکمران انگریز ہوا کرتے تھے اور وہ برصغیر کے لوگوں کو رعایا سمجھتے تھے اور ان کی کسی بات یا کسی کاغذ کو بغیرفرسٹ کلاس گزیٹیڈ افسر کی تصدیق کے معتبر نہ سمجھتے تھے کیونکہ گزیٹیڈ افسر بھی صرف انگریز یا ان کے خاص لوگ ہی ہوا کرتے تھے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریاست کے پاس نہ کمپیوٹر تھے، نہ ڈیجیٹل ریکارڈ، نہ آن لائن تصدیق کے ذرائع ہوا کرتے تھے ۔ اس دور میں کسی گزیٹیڈ افسر کی مہر اور دستخط کو ہی سچائی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ایک عام شہری کیوں اپنے اصل کاغذات کی فوٹو کاپی لے کر دفتر دفتر ایک ایسے افسر کی تلاش میں پھرتا رہے جو صرف یہ لکھ دے کہ "یہ نقل اصل کے مطابق ہے”؟
پاکستان میں لاکھوں افراد ملازمت، داخلے، سکالرشپ، شناختی دستاویزات اور مختلف سرکاری امور کے لیے آج بھی اس رسم سے گزرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس کا اصل مقصد تو اعتماد پیدا کرنا تھا مگر اب یہ خود عدم اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ سوچیے، ایک طالب علم نے میٹرک، انٹر اور ڈگری کے اصل سرٹیفکیٹ ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ متعلقہ ادارہ اصل دستاویزات بھی دیکھ سکتا ہے، بورڈ اور یونیورسٹی کے ریکارڈ بھی آن لائن موجود ہیں، پھر بھی اس سے کہا جاتا ہے کہ پہلے کسی گزیٹیڈ افسر سے تصدیق کروا کر آئیں۔ گویا شہری کی بات، اصل دستاویز اور سرکاری ریکارڈ سب ناکافی ہیں، اصل اعتبار صرف ایک مہر پر ہےجس کا اصل ہونا بھی مشکوک ہوتا ہے ۔ اس عمل کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اکثر تصدیق کرنے والا افسر درخواست گزار کو جانتا بھی نہیں۔ وہ چند سیکنڈ میں کاپی پر دستخط کر دیتا ہے، نہ اس نے اصل ریکارڈ کی تحقیق کی اور نہ ہی کسی قانونی ذمہ داری کا حقیقی بوجھ اٹھایا۔ یوں یہ سارا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے جس کا فائدہ کم اور زحمت زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی مشکلات اس سے کہیں بڑھ جاتی ہیں۔ ایک چھوٹے سے کام کے لیے کئی کلومیٹر سفر، دفاتر کے چکر، انتظار اور بعض اوقات سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔ کئی لوگ صرف ایک دستخط کے حصول کے لیے پورا دن ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر اس دوران ملازمت کا انٹرویو، داخلے کی آخری تاریخ یا کسی سکالرشپ کی ڈیڈ لائن قریب ہو تو یہ رسم ایک اضافی ذہنی اذیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ایسے فرسودہ طریقے ہمارے نوآبادیاتی دفتری نظام کی یادگار ہیں۔ برطانوی راج نے عوام پر اعتماد کے بجائے نگرانی اور تصدیق کا کلچر پیدا کیا تھا۔ آزادی کے بعد ہم نے بہت سے قوانین بدلے، مگر فائلوں، مہروں اور تصدیقات کے اس جنگل کو جوں کا توں برقرار رکھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ جدید دنیا ڈیجیٹل ویریفیکیشن، بائیومیٹرک شناخت اور آن لائن ریکارڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ ہم اب بھی مہر کی سیاہی میں سچ تلاش کر رہے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں خود تصدیقی کا کا نظام رائج ہے۔ شہری اپنی دستاویزات پر خود تصدیق کرتا ہے اور اگر بعد میں معلومات غلط ثابت ہوں تو قانون اس کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ اس طریقے سے لاکھوں گھنٹے اور اربوں روپے کی اجتماعی بچت ہوتی ہے۔ اعتماد کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور دھوکہ دہی کی صورت میں سزا دی جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ گزیٹیڈ افسر کی مہر ضروری ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔ جب ہر درخواست گزار کو پہلے ہی مشتبہ سمجھ لیا جائے تو پھر مہر، دستخط اور تصدیقوں کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کاغذی رکاوٹوں کے اس جال کو ختم کریں۔ شہری کو دفتر کے دروازوں پر ذلیل کرنے کے بجائے اداروں کے درمیان ریکارڈ کا تبادلہ آسان بنایا جائے۔ اگر اصل دستاویز موجود ہے تو نقل پر مہر کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آن لائن ریکارڈ موجود ہے تو انسانی دستخط کی اہمیت ثانوی ہونی چاہیے۔ ترقی یافتہ قومیں اعتماد، سہولت اور ٹیکنالوجی پر کھڑی ہوتی ہیں، جبکہ فرسودہ نظام مہر، سفارش اور قطاروں پرقائم ہے ۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اکیسویں صدی کے شہری بننا چاہتے ہیں یا انیسویں صدی کے دفتر کے مستقل چکر لگانے والے درخواست گزار۔پوری دنیا پیپر لیس نظام کی جانب رجوع کر چکی ہے اور یہ جان چکی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں کاغذ کا ٹکڑا کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ اس پر موجود کیوآر کوڈ ہی سب کچھ ہوتا ہے ۔مگر افسوس کہ آج بھی پاکستان میں لاکھوں روپے کے فوٹو اسٹیٹکے اخراجات کرنے اور ان کی تصدیق کے لیےبھی دھکے کھانےپڑتے ہیں ۔اپنی ہی جاری کردہ اسناد کو بورڈ اور یونیورسٹیاں پہلے خود تصدیق کرتی ہیں اور پھر ہائر ایجوکیشن سے تصدیق کرانے کے لیے بھاری فیسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس کے باوجود اگر ملک سے باہر جانا ہو تو منسٹری آف فارن آفیر اور منسٹری آف ہیلتھ سے تصدیق لازمی ہوتی ہے ۔ذرا سوچیں کہ ملک کے بچے اور بچیاں پہلے تو ایک طویل اور مہنگی تعلیم حاصل کریں اور پھر یہ ڈگریاں لیے مختلف محکموں سے تصدیق کراتے پھریں اور پھر بھی بےروزگار رہیں تو ان کے جذبات کیا ہوتے ہیں ۔ہمیں اپنے موجودہ تعلیمی نظام پر توجہ اور اس میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہے ورنہ بےروزگار ڈگری ہولڈرز کی یہ کثیر تعداد کیا کرۓ گی اور کہاں جاۓ گی ؟ خدارا ! یہ کاغذات کی تصدیق کا عمل آسان اور بلا کسی خرچ کیا جاۓ یہ سب کچھ اون لائن گھر بیٹھے بھی کیا جاسکتا ہے ۔کیا یہ ممکن نہیں کہ شناختی کارڈ کے ریکارڈ میں دیگر معلومات کے ساتھ ساتھ ڈگریاں بھی شامل کردی جائیں ؟






