#کالم

ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ

ChatGPT Image Jun 16 2026 12 53 45 AM

حروف بے زباں مرزا رضوان

بین الاقوامی تعلقات اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک ایسی ہلچل دیکھی جا رہی ہے جو دہائیوں سے جاری تلخیوں کے خاتمے کا اشارہ دے رہی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سرد جنگ، جو کبھی براہِ راست تصادم کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے، اب سفارتی راہداریوں میں ایک نئی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ یہ بحث کسی اور چیز کے بارے میں نہیں، بلکہ اس مبینہ ’’14 نکاتی معاہدے‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار امن اور خطے میں استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔اگرچہ سرکاری طور پر ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم عالمی تجزیہ کاروں اور انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، یہ 14 نکات صرف تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) تزویراتی (Strategic) سمجھوتے کی شکل ہیں۔ یہ معاہدہ اگر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے تو یہ نہ صرف ایران پر عائد پابندیوں کی نوعیت کو بدل دے گا، بلکہ اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک نئی حقیقت کا سامنا ہوگا۔اس معاہدے کے بنیادی نکات کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریقین نے اپنی اپنی کچھ ’’سرخ لکیروں‘‘ (Red Lines) کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 14 نکات بنیادی طور پر تین بڑے ستونوں پر قائم ہیں ، پہلا اہم نکتہ جوہری پروگرام کی نگرانی ہے۔ ایران کے لیے اپنے پرامن جوہری پروگرام کو برقرار رکھنا ایک قومی فخر اور بقا کا معاملہ ہے۔ امریکہ کی خواہش یہ ہے کہ ایران کی افزودگی کی صلاحیت کو ایک ایسے لیول پر رکھا جائے جس سے وہ ہتھیاروں کی تیاری کی طرف نہ جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت تہران کو ایک ایسی نگرانی کے نظام کو قبول کرنا ہوگا جو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے ہو، لیکن جس میں کچھ شرائط کو ’’سیاسی توازن‘‘ کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔دوسرا اہم پہلو خطے میں پراکسی گروپس کا کردار ہے۔ یہ ایران کے لیے سب سے مشکل پوائنٹ ہے۔ تہران کی خارجہ پالیسی کا محور گزشتہ چار دہائیوں سے ’’مزاحمتی محور‘‘ (Axis of Resistance) رہا ہے۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ اس محور کی عسکری امداد کو محدود کیا جائے۔ تاہم، ایران کی جانب سے یہ استدلال کیا جا رہا ہے کہ خطے میں امریکی موجودگی اور اسرائیل کے اقدامات کے ہوتے ہوئے یہ مکمل دستبرداری ممکن نہیں۔ 14 نکاتی ایجنڈے میں تجویز کردہ درمیانی راستہ یہ ہے کہ عسکری امداد کے بجائے سیاسی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دیا جائے، جس سے تہران کے اثر و رسوخ کو ایک قانونی حیثیت مل سکے اور واشنگٹن کو اپنے اتحادیوں کے تحفظ کی ضمانت ملے۔معاہدے کا سب سے پرکشش حصہ اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ ایران کی معیشت، جو گزشتہ کئی سالوں سے زبوں حالی کا شکار ہے، کے لیے یہ معاہدہ آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نکات میں یہ شامل ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی اور بین الاقوامی بینکنگ سسٹم (SWIFT) تک رسائی دی جائے گی۔ یہ عمل اتنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی کانگریس میں موجود سخت گیر حلقے اس کی مخالفت کریں گے۔ لیکن وائٹ ہاؤس کے موجودہ مکینوں کا خیال ہے کہ اگر ایران کو عالمی معیشت میں ضم کر دیا جائے تو وہ زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے گا۔
اس معاہدے کے اثرات صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان حال ہی میں بحال ہونے والے سفارتی تعلقات نے اس 14 نکاتی ڈیل کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ ریاض اب یہ سمجھ چکا ہے کہ خطے میں تناؤ کے بجائے تعاون ہی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ جب تہران اور واشنگٹن ایک میز پر بیٹھیں گے، تو خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی خارجہ پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔اسرائیل کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔ تل ابیب ہمیشہ سے ایران کو ایک وجودی خطرہ (Existential Threat) قرار دیتا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ عمل میں آتا ہے، تو اسرائیل کی تہران مخالف لابنگ کی تاثیر کم ہو جائے گی۔ یہ صورتحال اسرائیل کو اپنے دفاعی ڈاکٹرائن پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرے گی۔

سیاست میں کوئی بھی معاہدہ اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے جتنی اس کو عملی جامہ پہنانے والوں کی نیت۔ ایران میں موجود سخت گیر طبقہ اور امریکہ میں موجود ریپبلکن لابی، دونوں ہی اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایران میں خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ کہیں تہران کی انقلابی شناخت کو ختم نہ کر دے، جبکہ امریکہ میں خدشہ ہے کہ ایران اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر اپنے جوہری پروگرام کو مزید مستحکم نہ کر لے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عالمی طاقتیں اور علاقائی حریف تھک جاتے ہیں، تو وہ سمجھوتوں کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ عالمی حالات، جہاں یوکرین جنگ نے یورپ اور روس کو الجھا رکھا ہے اور چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت نے امریکہ کو ایشیا کی طرف توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کر دیا ہے، واشنگٹن کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ’’مستقل امن‘‘ کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔اگر یہ 14 نکاتی معاہدہ کامیاب ہوتا ہے، تو یہ 21ویں صدی کے مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ یہ ثابت کرے گا کہ سفارت کاری (Diplomacy) بارود سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ ایران کے عوام، جو طویل عرصے سے مہنگائی اور معاشی تنہائی کا شکار ہیں، اس معاہدے کو ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔بطور صحافی اور کالم نگار، میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی بڑے معاہدے کی کامیابی کے لیے عوامی تائید ضروری ہوتی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے حکمران اس عمل کو شفاف رکھیں اور اپنے اپنے معاشروں میں اس کے فوائد کو واضح کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ خطہ ایک پرامن مستقبل کی طرف گامزن نہ ہو۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 14 نکاتی معاہدہ کوئی جادو کی چھڑی نہیں جو راتوں رات سب ٹھیک کر دے گی۔ یہ ایک طویل عمل کا آغاز ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے