بحران سے استحکام تک: پاکستان کی معاشی تبدیلی کا جائزہ
تحریر ۔ روحا خان
پاکستان کی معاشی تاریخ میں چند برس ایسے ضرور گزرے ہیں جب ملک کو دیوالیہ پن اور شدید ترین مالیاتی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مشکل ترین فیصلوں اور پائیدار معاشی حکمتِ عملی کے باعث آج ملک ایک نئی اور روشن راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ نئے مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ کی آمد آمد ہے، اور اس اہم سنگِ میل کے موقع پر جب ہم گزشتہ برس کے معاشی اشاریوں پر نظر دوڑاتے ہیں، تو معیشت میں استحکام اور ترقی کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دورِ اقتدار میں معاشی اصلاحات کا جو طویل اور کٹھن سفر شروع کیا گیا تھا، اس کے ثمرات اب واضح طور پر معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں نظر آ رہے ہیں۔
مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.70 فیصد کی حقیقی شرحِ نمو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ پاکستان کی معیشت اب جمود سے نکل کر تیز رفتاری سے بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں یہ شرح منفی 0.2 فیصد تک گر چکی تھی، جس کے بعد گزشتہ برس یہ 3.2 فیصد پر آئی اور اب موجودہ مالی سال میں اس نے مزید بہتری کا سفر طے کیا ہے۔ یہ اضافہ صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں یکساں بہتری کا نتیجہ ہے۔ اس وقت پاکستان کی مجموعی معیشت کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 452.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو کہ سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد کا ایک شاندار اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی فی کس آمدنی بھی 9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,901 امریکی ڈالر تک جا پہنچی ہے، جس سے عام شہری کی قوتِ خرید اور معیارِ زندگی میں بحالی کا عمل شروع ہوا ہے۔
معیشت کی اس بحالی میں زراعت کا کردار ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی کی مانند رہا ہے۔ ماضی کے شدید سیلابوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے بھاری نقصانات کے باوجود، کسانوں کی ہمت اور حکومت کی زرعی دوست پالیسیوں کی بدولت زرعی شعبے نے 2.89 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔ دیہی معیشت کو سہارا دینے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے، جو جولائی سے مارچ کے دوران 2,162 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ قرضے کسانوں کو جدید بیج، کھادیں اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف دیہی علاقوں میں خوشحالی آ رہی ہے بلکہ ملک میں غذائی تحفظ بھی یقینی ہو رہا ہے۔
صنعتی شعبے میں بھی ایک شاندار اور واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ ماضی میں گراوٹ کا شکار رہنے والا یہ شعبہ اب 3.51 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ خاص طور پر بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی کارکردگی گزشتہ چار سالوں میں سب سے بہترین رہی ہے، جس میں 6.1 فیصد کی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک کے 22 بڑے صنعتی شعبوں میں سے 16 شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی ہے، جن میں آٹوموبائل، خوراک، تمباکو، پٹرولیم مصنوعات اور برقی آلات کی تیاری سرفہرست ہیں۔ صنعتی پہیے کے اس طرح چلنے سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خدمات کا شعبہ، جو ملکی معیشت کا ایک بڑا لنگر گاہ مانا جاتا ہے، اس سال 4.09 فیصد کی شرح سے ترقی کر کے چار سال کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط اور حکومتی خزانے کی صورتحال دیکھی جائے تو یہاں بھی اصلاحات کے دور رس نتائج سامنے آئے ہیں۔ جولائی سے مارچ کے عرصے میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے محض 0.7 فیصد تک محدود رہا ہے، جو کہ گزشتہ دہائیوں کی بہترین مالیاتی کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔ سب سے بڑھ کر، ملک کا پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک اپنے وسائل کے اندر رہ کر کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ اس سخت مالیاتی نظم و ضبط کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ بھی مسلسل کم ہو رہا ہے اور قرض اور جی ڈی پی کا تناسب جو ماضی میں 75 فیصد سے تجاوز کر گیا تھا، اب کم ہو کر 68.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے معاشی استحکام کو مزید تقویت ملی ہے۔
عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور اسرائیل ایران کشیدگی کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں توانائى کی قیمتیں بڑھیں اور سپلائی چین متاثر ہوئی، وہیں پاکستان نے ان بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ انتہائی پامردی سے کیا۔ ان تمام عالمی چیلنجز کے باوجود ملک میں اوسط افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح کو 6.7 فیصد پر برقرار رکھا گیا، جو کہ ماضی کی 29 فیصد کی ہولناک شرح کے مقابلے میں ایک بہت بڑی ریلیف ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کی مسلسل نگرانی اور گوداموں میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات نے قیمتوں کو ایک حد کے اندر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بیرونی محاذ پر پاکستان کی معاشی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہو چکی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی سے اپریل کے دوران سمٹ کر صرف 252 ملین ڈالر رہ گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن قائم ہو رہا ہے۔ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر مئی 2026 کے اختتام تک 17.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے سے ملک کا امپورٹ کور بڑھ کر 2.75 ماہ کا ہو گیا ہے، یعنی اب پاکستان ڈھائی مہینے سے زائد کی ضروری درآمدات کی مالی اعانت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ بحال ہوئی ہے۔
اس پوری کامیابی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ کی طرح مثالی رہا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر جولائی سے مئی کے دوران 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس میں اپریل کے مہینے میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترین رقم شامل ہے۔ توقع ہے کہ یہ ترسیلاتِ زر رواں مالی سال کے اختتام





