#اداریہ

آئندہ مالی سال  27-2026 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔

Fahad 01

آج کا اداریہ

وزیراعظم  شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے ملک ترقی کرے گا۔وزیراعطم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا، شہباز شریف نے   مشکل معاشی حالات میں مثالی تعاون پر وزرائے اعلیٰ سے اظہار تشکر کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اسی یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے ملک ترقی کرے گا، نوجوانوں کےلیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل پاکستان قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف چار فیصد اور مہنگائی میں اضافے کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1046 ارب روپے کی کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 126 ارب روپے کی کمی کے بعد اب 1000 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں نے اپنے ترقیاتی پروگرامز کے لیے مختص بجٹ میں 920 ارب روپے کم خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
کئی بار کی تاخیر کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پیداوار بڑھے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ اس وقت خطے میں جاری جیوپولیٹکل بحران کے باوجود بھی پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی شریک ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گذشتہ کئی ہفتوں سے بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے اور وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی ضروری ہے۔
اجلاس کے بعد پلاننگ کمیشن کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئندہ مالی سال میں نئے ترقیاتی منصوبے نہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ دفاعی سلامتی اور سکیورٹی کے لیے ضروری منصوبوں کے علاوہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کیا جائے گا۔پلاننگ کمیشن کے مطابق پنجاب نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 749 ارب روپے، سندھ نے 706 ارب روپے اور خیبر پختوانخواہ نے 455 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 308 ارب روپے خرچ کرے گی۔تینوں صوبوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پلان میں کمی کی ہے لیکن بلوچستان کے لیے مختص صوبائی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹ نہیں لگایا گیا ہے۔پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 88.8 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ جبکہ خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کی لیے 56 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے معاشی استحکام کے لیے کوششوں پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی کارکردگی کی پذیرائی کی۔اجلاس کے شرکاء نے خلیج میں کشیدگی کے باوجود معیشت مستحکم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کےلیے سفارتی کوششوں کو سراہا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ہے، بہترین صحت کے نظام کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے بوجھ میں کمی ہوگی۔ بچوں کی صحت بالخصوص اسٹننگ کا خاتمہ، تعلیم کی فراہمی ترجیح ہے۔
یاد رہے وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال  27-2026 کا بجٹ آج ( 12 جون )کو پیش کیا جائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگذیب بجٹ پیش کرینگے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے