خوشبو دار دھواں، نسلِ نو کا خاموش قاتل
ایم فاروق انجم بھٹہ
قوموں کی تاریخ میں ایسے خطرات بھی جنم لیتے ہیں جو نہ توپ و تفنگ کے ساتھ آتے ہیں، نہ سرحدوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی آمد کا شور سنائی دیتا ہے۔ وہ خاموشی سے معاشرے کے اندر سرایت کرتے ہیں، نوجوان ذہنوں کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ مستقبل کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سے ایک خطرہ ویپ اور پوڈ کلچر ہے، جو جدیدیت، فیشن اور آزادی کے دلکش نعروں کی آڑ میں ایک پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہر قوم کا اصل سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ یہی نوجوان مستقبل کے معمار، سائنس دان، اساتذہ، سپاہی، سیاست دان اور قائد بنتے ہیں۔ ان کے خوابوں میں قوم کی ترقی پوشیدہ ہوتی ہے اور ان کی صلاحیتوں پر ملکوں کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔ لیکن جب یہی نسل کسی ایسی لت کا شکار ہو جائے جو اس کے جسم، دماغ اور شخصیت کو اندر ہی اندر چاٹنے لگے تو پھر خطرہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
ویپ اور پوڈ کو ابتدا میں سگریٹ کا محفوظ متبادل قرار دے کر متعارف کروایا گیا۔ نوجوانوں کو بتایا گیا کہ یہ دھواں نہیں بلکہ صرف بھاپ ہے، اس لیے نقصان دہ نہیں۔ رنگ برنگی ڈیوائسز، دلکش ڈیزائن، خوشبودار فلیورز اور جدید طرزِ زندگی کی تشہیر نے نوجوانوں کو اس طرف تیزی سے راغب کیا۔ اسٹرابیری، چاکلیٹ، ونیلا اور درجنوں دیگر خوشبوؤں میں لپٹا یہ دھواں بظاہر بے ضرر محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔
سائنسی تحقیقات مسلسل یہ ثابت کر رہی ہیں کہ ویپنگ میں استعمال ہونے والے کیمیکلز انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ ان میں موجود نکوٹین نہ صرف شدید نشہ آور مادہ ہے بلکہ نوجوان دماغ کی نشوونما پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمری میں نکوٹین کا استعمال یادداشت، توجہ، فیصلہ سازی اور جذباتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویپ استعمال کرنے والے نوجوان اکثر ذہنی دباؤ، بے چینی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اس نشے کی ابتدا اکثر تجسس سے ہوتی ہے۔ دوستوں کی محفل، سوشل میڈیا کا اثر یا جدید نظر آنے کی خواہش نوجوان کو پہلی بار اس ڈیوائس کی طرف مائل کرتی ہے۔ لیکن چند دنوں کا شوق آہستہ آہستہ ایک ایسی عادت میں بدل جاتا ہے جس سے جان چھڑانا آسان نہیں رہتا۔ نکوٹین دماغ میں ایسے کیمیائی تغیرات پیدا کرتی ہے کہ انسان خود کو اس کا محتاج محسوس کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ لمحہ آتا ہے جب ایک نوجوان اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی مجبوری سے ویپ استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
یہ صرف جسمانی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ بھی ہے۔ ویپنگ نوجوان کو رفتہ رفتہ اپنی اصل ترجیحات سے دور لے جاتی ہے۔ تعلیم متاثر ہوتی ہے، خاندانی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور شخصیت میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں جو والدین اور اساتذہ کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہیں۔ بہت سے نوجوان اپنی جیب خرچ کا بڑا حصہ انہی ڈیوائسز اور کارٹریجز پر خرچ کرنے لگتے ہیں۔ جو رقم علم، کھیل، کتاب یا کسی مثبت سرگرمی پر لگنی چاہیے تھی، وہ ایک نقصان دہ عادت کی نذر ہو جاتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ویپنگ کو نوجوانوں کے لیے ایک فیشن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اشتہارات، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بعض تجارتی حلقے اسے ایک جدید اور باوقار طرزِ زندگی کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ نوجوان یہ سمجھے بغیر اس دھارے میں بہہ جاتے ہیں کہ جن کمپنیوں نے یہ مصنوعات تیار کی ہیں، ان کا مقصد انسانی صحت کا تحفظ نہیں بلکہ منافع کا حصول ہے۔ ان کے کاروبار کی کامیابی اسی میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس لت کا شکار ہوں اور مستقل صارف بن جائیں۔
پھیپھڑے انسانی جسم کا وہ قیمتی عضو ہیں جو ہر لمحہ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ جب زہریلے بخارات مسلسل ان میں داخل ہوتے رہتے ہیں تو ان کی قدرتی ساخت متاثر ہونے لگتی ہے۔ دنیا بھر میں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ویپنگ کے نتیجے میں سانس کی شدید بیماریوں کا شکار ہوئے۔ بعض کیسز میں پھیپھڑوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، جبکہ کئی نوجوانوں کو ہسپتالوں میں طویل علاج سے گزرنا پڑا۔ یہ حقیقت اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے کہ ویپ ایک محفوظ متبادل ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، سماجی کارکن اور حکومتی ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ صرف قانونی پابندیاں کافی نہیں ہوتیں۔ اصل جنگ شعور کی جنگ ہے۔ اگر نوجوانوں کو بروقت آگاہی دی جائے، انہیں سائنسی حقائق سے روشناس کرایا جائے اور ان کی مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اس خطرے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں۔ ان کی مصروفیات، دوستوں اور روزمرہ عادات پر نظر رکھیں۔ محض ڈانٹ ڈپٹ یا سختی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مکالمہ، اعتماد اور رہنمائی زیادہ مؤثر ہتھیار ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں باقاعدہ آگاہی مہمات چلائی جانی چاہئیں تاکہ نوجوان اس خوشنما دھوکے کی اصل حقیقت سے واقف ہو سکیں۔
ایک قوم کی طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر ان کے ہاتھوں میں کتاب کی جگہ نشے کی ڈیوائس آ جائے، اگر ان کے ذہن خوابوں کی بجائے دھوئیں کے بادلوں میں گم ہو جائیں اور اگر ان کی توانائیاں ترقی کی بجائے تباہی کی راہوں میں صرف ہونے لگیں تو قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس خوشبو دار دھوئیں کے پیچھے چھپے زہریلے جال کو پہچانیں۔ نوجوان نسل کو یہ باور کرایا جائے کہ اصل جدت خود کو نقصان پہنچانے میں نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں






