گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت بننےکا امکان
آج کا اداریہ
گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت بننےکا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد پی ڈی ایم طرز پر ہوسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا ہوگا،گورنر مسلم لیگ ن کا ہوسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کا 60/40 کا فارمولا ہوگا۔خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں حکومتی ٹیم نے ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور وزارت خزانہ کے حکام وزیراعظم کے ساتھ موجود تھے۔
ایوان صدر آمد پر صدرمملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا، بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کے وفد کی قیادت کی، ملاقات میں وفاقی بجٹ سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرےکی بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کرلیا ہے اور ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے بجٹ منظورکروانےکے لیےگرین سگنل دے دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم نےگلگت بلتستان الیکشن میں کامیابی پر صدر زرداری کو مبارک باد دی اور مسکراتے ہوئےکہا کہ نوجوان بلاول نے ہم سے بہتر انتخابی مہم چلائی۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آخر بیٹا کس کا ہے!ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر بھی ملاقات میں شریک ہوئے، ملاقات میں آزادکشمیر کی حالیہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔۔اسمبلی انتخابات میں اب تک آنے والے 24 میں سے 22 حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 10،آزاد امیدوار 7 جبکہ ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ایک نشست پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کامیاب ہوئی جبکہ استور کےدو حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔پیپلز پارٹی کے 10کامیاب امیدواروں میں حلقہ جی بی اے 1 سے امجد حسین، حلقہ 4 نگر 1 سے محمد علی اختر، حلقہ 5 نگر 2 سے ذوالفقار علی مراد، حلقہ 7 اسکردو 1 سے سید توقیر مہدی، حلقہ 9 اسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد،حلقہ 10 اسکردو 4 سے ناصر علی خان، حلقہ 11 کھرمنگ سے اقبال حسن، حلقہ 12 شگر سے عمران ندیم، جی بی اے 17 دیامر 3 سے محمد نسیم جبکہ حلقہ 19 غذر1 سے سید جلال شاہ شامل ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں اب تک آنے والے 24 میں سے 22 حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 10،آزاد امیدوار 7 جبکہ ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ایک نشست پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کامیاب ہوئی جبکہ استور کےدو حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔پیپلز پارٹی کے 10کامیاب امیدواروں میں حلقہ جی بی اے 1 سے امجد حسین، حلقہ 4 نگر 1 سے محمد علی اختر، حلقہ 5 نگر 2 سے ذوالفقار علی مراد، حلقہ 7 اسکردو 1 سے سید توقیر مہدی، حلقہ 9 اسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد،حلقہ 10 اسکردو 4 سے ناصر علی خان، حلقہ 11 کھرمنگ سے اقبال حسن، حلقہ 12 شگر سے عمران ندیم، جی بی اے 17 دیامر 3 سے محمد نسیم جبکہ حلقہ 19 غذر1 سے سید جلال شاہ شامل ہیں۔غیرحتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں میں حلقہ جی بی اے 2گلگت 2 سے حفیظ الرحمان، حلقہ 18 دیامر 4 سے کفایت الرحمان، حلقہ 20 غذر2 سے عبدالجہاں جبکہ حلقہ 22 گھانچے 1 سے ابراہیم ثنائی کامیاب ہوئے۔آزاد امیدواروں میں سید سہیل عباس جی بی اے 3 سے، نیک نام کریم حلقہ6 ہنزہ سے، امام مالک جی بی اے 16دیامر 2 سے، امان علی حلقہ 21 غذر سے، انور علی حلقہ 23 گانچھے 2 سے، اسد شفیق حلقہ 24 گانچھے 3 سے اور محمد دلپزیرحلقہ 15 دیامر 1 سے کامیاب قرار پائے ہیں۔ اسی طرح مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 سے کامیاب ہوئے ہیں۔دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کےمکمل انتخابی نتائج میں تاخیر اور مبینہ دھاندلی پرپیپلزپارٹی، جےیوآئی(ف) اور آزاد امیدواروں کے حامیوں کااحتجاج جاری ہے۔نومنتخب ارکان اسمبلی کی تقریب حلف برداری کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا۔ حکومت بنانے کیلیے کسی بھی جماعت کے پاس مطلوبہ تعداد موجود نہیں۔ حس پارلیمانی پارٹی کے پاس سترہ ارکان ہونگے۔ اسے. ہی حکومت سازی کی دعوت دی جائیگی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس دس ممبران موجود ہیں۔ اسے عددی اکثریت پوری کرنے کیلیے مزید 7 ارکان کی ضرورت ہے۔جسکے لیے آزاد ارکان کو پارٹی میں شامل کرایا جائیگااور مسلم لیگ ن کی حمایت سے حکومتی ڈھانچہ کھڑا کیا جائیگا۔






